BR100 Decreased By (-0.01%)
BR30 Decreased By (-0.32%)
KSE100 Increased By (0.01%)
KSE30 Increased By (0%)
BAFL 56.97 Increased By ▲ 0.10 (0.18%)
BIPL 24.90 Decreased By ▼ -0.06 (-0.24%)
BOP 30.35 No Change ▼ 0.00 (0%)
CNERGY 13.07 Decreased By ▼ -0.05 (-0.38%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 191.75 Decreased By ▼ -0.70 (-0.36%)
FABL 94.39 Increased By ▲ 0.25 (0.27%)
FCCL 52.70 Decreased By ▼ -0.09 (-0.17%)
FFL 14.59 Decreased By ▼ -0.13 (-0.88%)
GGL 19.29 Decreased By ▼ -0.27 (-1.38%)
HBL 307.11 Increased By ▲ 1.01 (0.33%)
HUBC 201.25 Decreased By ▼ -0.17 (-0.08%)
HUMNL 10.07 Decreased By ▼ -0.09 (-0.89%)
KEL 6.17 Increased By ▲ 0.08 (1.31%)
LOTCHEM 26.40 Decreased By ▼ -0.06 (-0.23%)
MLCF 92.99 Decreased By ▼ -0.17 (-0.18%)
OGDC 315.75 Decreased By ▼ -0.98 (-0.31%)
PAEL 35.60 Decreased By ▼ -0.03 (-0.08%)
PIBTL 14.80 Increased By ▲ 0.12 (0.82%)
PIOC 243.05 Decreased By ▼ -0.16 (-0.07%)
PPL 223.89 Decreased By ▼ -3.02 (-1.33%)
PRL 92.70 Decreased By ▼ -0.32 (-0.34%)
SNGP 92.00 Increased By ▲ 0.16 (0.17%)
SSGC 23.75 Decreased By ▼ -0.06 (-0.25%)
TELE 7.78 Decreased By ▼ -0.02 (-0.26%)
TPLP 12.75 Decreased By ▼ -0.22 (-1.7%)
TRG 56.51 Decreased By ▼ -0.05 (-0.09%)
UNITY 8.09 Increased By ▲ 0.02 (0.25%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
کاروبار اور معیشت

روزویلٹ ہوٹل براہِ راست فروخت نہیں کیا جائے گا ، چیئرمین نجکاری کمیشن

  • ہوٹل کی نجکاری جوائنٹ وینچر یا ری ڈویلپمنٹ ماڈل کے ذریعے ہو گی ، محمد علی
شائع اپ ڈیٹ

وزیر اعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے نیویارک میں واقع روزویلٹ ہوٹل کی براہِ راست فروخت کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حکومت نے اس قیمتی اثاثے سے زیادہ سے زیادہ مالی فائدہ حاصل کرنے کے لیے ترقیاتی نجکاری حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے بتایا کہ قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کی زیرِ ملکیت 16 منزلہ روز ویلٹ ہوٹل کو براہِ راست فروخت کرنے کے بجائے مشترکہ شراکت داری (جوائنٹ وینچر) یا تعمیرِ نو کے ماڈل کے تحت نجی شعبے کے حوالے کیا جائے گا کیونکہ حکومت کا خیال ہے کہ اس وقت اسے فروخت کر دینے سے پراپرٹی کی اصل مالیت اور صلاحیت کا ادراک نہیں ہو سکے گا۔

محمد علی کے مطابق گزشتہ سال کی گئی ایک تفصیلی اسٹڈی سے یہ معلوم ہوا ہے کہ اس جگہ پر 50 سے 60 منزلہ بلند و بالا عمارت تعمیر کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ مجوزہ منصوبے کے تحت حکومتِ پاکستان اس میں زمین فراہم کرے گی جبکہ نجی شراکت دار تقریباً 1 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا اور مزید 2 سے 3 ارب ڈالر قرض کے ذریعے حاصل کیے جائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ اس تعمیرِ نو کے نتیجے میں اگرچہ حکومت کی ملکیت 100 فیصد سے کم ہو کر 40 سے 50 فیصد تک رہ جائے گی لیکن اس کے حصص کی مجموعی مالیت میں 200 سے 250 فیصد تک اضافے کا امکان ہے۔

مین ہٹن کے وسط میں واقع یہ صدی پرانی عمارت پاکستان کے قیمتی ترین غیر ملکی اثاثوں میں شمار ہوتی ہے جسے سن 2000 میں حاصل کیا گیا تھا۔ ایک ہزار سے زائد کمروں پر مشتمل اس ہوٹل کو خسارے کے باعث 2020 میں بند کر دیا گیا تھا۔

چیئرمین نجکاری کمیشن کا کہنا ہے کہ عالمی بینکوں اور آئی ٹی کمپنیوں سمیت کئی بین الاقوامی ادارے اس سائٹ میں دلچسپی رکھتے ہیں، مگر حکومت نے براہِ راست فروخت نہ کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔

دوسری جانب پیرس میں واقع ہوٹل اسکرائب کو فی الحال فروخت نہ کرنے اور حکومت کے پاس ہی رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت پاکستان میں نجکاری کا عمل تیز ہو چکا ہے، جس کی حالیہ مثال پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کے لیے عارف حبیب کنسورشیم کی جانب سے 135 ارب روپے کی کامیاب بولی ہے۔

Comments

Comments are closed.