BR100 Decreased By (-0.73%)
BR30 Decreased By (-0.77%)
KSE100 Decreased By (-0.49%)
KSE30 Decreased By (-0.47%)
BAFL 58.44 Decreased By ▼ -0.58 (-0.98%)
BIPL 25.20 Decreased By ▼ -0.09 (-0.36%)
BOP 33.99 Increased By ▲ 0.03 (0.09%)
CNERGY 8.11 Decreased By ▼ -0.20 (-2.41%)
DFML 20.84 Decreased By ▼ -0.18 (-0.86%)
DGKC 192.97 Decreased By ▼ -2.69 (-1.37%)
FABL 89.79 Decreased By ▼ -0.42 (-0.47%)
FCCL 52.83 Decreased By ▼ -0.17 (-0.32%)
FFL 17.95 Decreased By ▼ -0.20 (-1.1%)
GGL 18.97 Decreased By ▼ -0.17 (-0.89%)
HBL 285.50 Decreased By ▼ -2.31 (-0.8%)
HUBC 214.38 Decreased By ▼ -1.57 (-0.73%)
HUMNL 10.88 Decreased By ▼ -0.12 (-1.09%)
KEL 8.02 Decreased By ▼ -0.12 (-1.47%)
LOTCHEM 27.89 Decreased By ▼ -0.61 (-2.14%)
MLCF 86.51 Decreased By ▼ -1.37 (-1.56%)
OGDC 319.96 Decreased By ▼ -0.62 (-0.19%)
PAEL 39.42 Decreased By ▼ -0.65 (-1.62%)
PIBTL 16.67 Decreased By ▼ -0.09 (-0.54%)
PIOC 266.06 Decreased By ▼ -1.72 (-0.64%)
PPL 228.18 Decreased By ▼ -2.19 (-0.95%)
PRL 34.68 Decreased By ▼ -0.36 (-1.03%)
SNGP 99.18 Decreased By ▼ -0.18 (-0.18%)
SSGC 26.60 Decreased By ▼ -0.37 (-1.37%)
TELE 8.28 Decreased By ▼ -0.09 (-1.08%)
TPLP 8.22 Increased By ▲ 0.04 (0.49%)
TRG 69.71 Decreased By ▼ -0.92 (-1.3%)
UNITY 11.67 Decreased By ▼ -0.10 (-0.85%)
WTL 1.28 Decreased By ▼ -0.01 (-0.78%)
کاروبار اور معیشت

روزویلٹ ہوٹل براہِ راست فروخت نہیں کیا جائے گا ، چیئرمین نجکاری کمیشن

  • ہوٹل کی نجکاری جوائنٹ وینچر یا ری ڈویلپمنٹ ماڈل کے ذریعے ہو گی ، محمد علی
شائع January 1, 2026 اپ ڈیٹ January 1, 2026 04:41pm

وزیر اعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے نیویارک میں واقع روزویلٹ ہوٹل کی براہِ راست فروخت کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حکومت نے اس قیمتی اثاثے سے زیادہ سے زیادہ مالی فائدہ حاصل کرنے کے لیے ترقیاتی نجکاری حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے بتایا کہ قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کی زیرِ ملکیت 16 منزلہ روز ویلٹ ہوٹل کو براہِ راست فروخت کرنے کے بجائے مشترکہ شراکت داری (جوائنٹ وینچر) یا تعمیرِ نو کے ماڈل کے تحت نجی شعبے کے حوالے کیا جائے گا کیونکہ حکومت کا خیال ہے کہ اس وقت اسے فروخت کر دینے سے پراپرٹی کی اصل مالیت اور صلاحیت کا ادراک نہیں ہو سکے گا۔

محمد علی کے مطابق گزشتہ سال کی گئی ایک تفصیلی اسٹڈی سے یہ معلوم ہوا ہے کہ اس جگہ پر 50 سے 60 منزلہ بلند و بالا عمارت تعمیر کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ مجوزہ منصوبے کے تحت حکومتِ پاکستان اس میں زمین فراہم کرے گی جبکہ نجی شراکت دار تقریباً 1 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا اور مزید 2 سے 3 ارب ڈالر قرض کے ذریعے حاصل کیے جائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ اس تعمیرِ نو کے نتیجے میں اگرچہ حکومت کی ملکیت 100 فیصد سے کم ہو کر 40 سے 50 فیصد تک رہ جائے گی لیکن اس کے حصص کی مجموعی مالیت میں 200 سے 250 فیصد تک اضافے کا امکان ہے۔

مین ہٹن کے وسط میں واقع یہ صدی پرانی عمارت پاکستان کے قیمتی ترین غیر ملکی اثاثوں میں شمار ہوتی ہے جسے سن 2000 میں حاصل کیا گیا تھا۔ ایک ہزار سے زائد کمروں پر مشتمل اس ہوٹل کو خسارے کے باعث 2020 میں بند کر دیا گیا تھا۔

چیئرمین نجکاری کمیشن کا کہنا ہے کہ عالمی بینکوں اور آئی ٹی کمپنیوں سمیت کئی بین الاقوامی ادارے اس سائٹ میں دلچسپی رکھتے ہیں، مگر حکومت نے براہِ راست فروخت نہ کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔

دوسری جانب پیرس میں واقع ہوٹل اسکرائب کو فی الحال فروخت نہ کرنے اور حکومت کے پاس ہی رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت پاکستان میں نجکاری کا عمل تیز ہو چکا ہے، جس کی حالیہ مثال پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کے لیے عارف حبیب کنسورشیم کی جانب سے 135 ارب روپے کی کامیاب بولی ہے۔

Comments

200 حروف