افغان پھلوں کی کھیپ میں انڈر ڈکلیئریشن ، کسٹمز انسپکٹر جبری ریٹائر
- غلط معائنے کے باعث 20 لاکھ روپے کے ممکنہ ریونیو نقصان پر ایف بی آر نے سخت کارروائی کی
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے انسپکٹر کسٹمز کو جبری ریٹائر کر دیا، جس نے افغانستان سے درآمد کی گئی پھلوں (انگور/ آلو بخارا) کی ایک کھیپ کی مقدار انتہائی کم ظاہر کر کے تقریباً 20 لاکھ روپے کے ریونیو نقصان کا باعث بننے کی کوشش کی۔
منگل کو ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق انسپکٹر کسٹمز محمد علی پیچوہو (معطل) کلیکٹریٹ آف کسٹمز اپریزمنٹ کوئٹہ کے خلاف سول سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2020 کے تحت “نااہلی اور بدعنوانی” کے الزامات پر تادیبی کارروائی شروع کی گئی تھی اور انہیں معطل بھی کیا گیا تھا۔
بطور ایگزامنر آفیسر ملزم افسر نے اس حوالے سے اپنی جانچ رپورٹ میں 18 ہزار کلوگرام تازہ انگور اور 5 ہزار کلوگرام آلو بخارا ظاہر کیے۔
تاہم کھیپ کی دوبارہ جانچ پر دونوں اشیاء کی اصل مقدار نمایاں طور پر مختلف پائی گئی، یعنی 2,934 کلوگرام تازہ انگور اور 20,784 کلوگرام آلو بخارا، جس پر زیادہ ڈیوٹی اور ٹیکس عائد ہوتے تھے۔ اگر یہ کھیپ راستے میں نہ روکی جاتی تو ملزم افسر کی اس سنگین غفلت کے نتیجے میں قومی خزانے کو تقریباً 20 لاکھ روپے کا نقصان ہوتا۔
محکمانہ نمائندے (ڈی آر) نے مزید تصدیق کی کہ سپرنٹنڈنٹ انچارج کی جانب سے سامان کو اتار کر اور الگ الگ کر کے مکمل جانچ کی واضح ہدایات کے باوجود ملزم افسر نے محض جی ڈی میں درج اعلامیے کے مطابق بغیر مناسب جسمانی جانچ کے رپورٹ جمع کرا دی۔
ملزم افسر نے اعتراف کیا کہ اس نے موقع پر ممکن نہ ہونے کے باعث مناسب جسمانی جانچ کے بغیر نیک نیتی سے جی ڈی میں دیے گئے اعلامیے کے مطابق رپورٹ جمع کرائی۔
اس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ کھیپ کو ابتدائی جانچ کی جگہ سے 30 کلومیٹر دور جا کر روکا گیا اور دوبارہ جانچ کی گئی، اس لیے سامان میں چوری یا مقدار میں تبدیلی کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا اس نے خود کو الزامات سے بری کرنے کی درخواست کی۔
ایف بی آر کے مطابق ملزم افسر نے اپنے انچارج افسر کی جانب سے دی گئی واضح ہدایات کو نظرانداز کیا۔






















Comments