پاکستانی تیل و گیس کمپنیوں نے تین آف شور اور دو آن شور بلاکس کیلئے معاہدے کرلئے
- معاہدے پر ترکیہ کے وزیر توانائی کے دورہ پاکستان کے دوران دستخط کیے گئے
پاکستان کی صفِ اول کی ایکسپلوریشن اور پروڈکشن کمپنیاں (ای اینڈ پیز)، جن میں آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) اور ماری انرجیز لمیٹڈ شامل ہیں نے حکومتِ پاکستان کے ساتھ 5 اہم معاہدوں پر دستخط کرنے کا اعلان کیا ہے جو سمندری اور زمینی، دونوں طرح کی ہائیڈرو کاربن کی تلاش میں ایک بڑی پیش رفت کی نشاندہی کرتا ہے۔
اوجی ڈی سی ایل نے بدھ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بھیجے گئے اپنے نوٹس میں کہا کہ ہمیں یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ حکومت پاکستان نے 2 دسمبر 2025 کو 3 معاہدے انجام دیے جن میں ایک آف شور اور دو آن شور بلاکس شامل ہیں، جہاں آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) شراکت دار ہے، ساتھ ہی ترکش پیٹرولیم آئل کمپنی (ٹی پی او سی)، مری انرجیز لمیٹڈ (ماری)، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل)، پرائم انٹرنیشنل آئل اینڈ گیس کمپنی لمیٹڈ (پرائم) اور گورنمنٹ ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ (جی ایچ پی ایل) بھی شامل ہیں۔
ان معاہدوں میں ایسٹرن آف شور انڈس-سی بلاک کے لیے ایک ڈیڈ آف اسائنمنٹ شامل ہے جس میں ترکش پیٹرولیم اوورسیز کمپنی آپریٹر کے طور پر کام کرے گی جبکہ ماری انرجیز، پی پی ایل، اور او جی ڈی سی ایل اس کی مشترکہ منصوبے کی شراکت دار ہوں گی۔
اس کے علاوہ ماری انرجیز نے آف شور ڈیپ سی اور آف شور ڈیپ ایف بلاکس کے لیے دو پروڈکشن شیئرنگ ایگریمنٹس کیے ہیں جس میں وہ ٹی پی او سی اور فاطمہ پٹرولیم کے ساتھ شراکت دار ہے۔
خشکی کے حوالے سے پیٹرولیم کنسیشن ایگریمنٹس زیارت نارتھ بلاک کے لیے حتمی طور پر طے پاگئے ہیں جسے ماری انرجیز آپریٹ کرے گی اور ٹی پی او سی، پی پی ایل، او جی ڈی سی ایل، اور جی ایچ پی ایل شراکت دار ہوں گے، جبکہ سکھپور-II بلاک کو پرائم آپریٹ کرے گا جس میں ٹی پی او سی، مری انرجیز، اور او جی ڈی سی ایل مشترکہ منصوبے کے شراکت دار ہیں۔
او جی ڈی سی ایل نے کہا کہ یہ معاہدے کمپنی کے لیے ایک اہم قدم ہیں جو آف شور اور آن شور دونوں علاقوں میں ہماری تلاش کے پورٹ فولیو کو مضبوط کرتے ہیں اور ہائی-پوٹینشل بلاکس میں شراکت کے ذریعے طویل مدتی ترقی کے مواقع کو فروغ دیتے ہیں۔
دوسری جانب ماری انرجیز نے اسٹاک ایکسچینج کو دیے گئے ایک الگ نوٹس میں کہا کہ یہ تیل و گیس کی تلاش و پیداوار ملک کی توانائی کی حفاظت میں حصہ ڈالنے کے لیے آن شور اور آف شور دونوں بیسنز میں منظم اور باقاعدہ تلاش کے عمل کے لیے پرعزم ہے۔
وزارت کے مطابق، یہ معاہدے ترکیہ کے وزیر توانائی کے پاکستان کے دورے کے دوران دستخط کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق ترکیہ کے وزیر توانائی نے کہا کہ ہمارا مقصد 2026 تک ان بلاکس میں کام کا آغاز کرنا ہے۔ ہم کچھ علاقوں میں سیسمک سرویز اور دیگر میں براہِ راست ڈرلنگ کے ذریعے یہ سرگرمیاں انجام دینا چاہتے ہیں۔






















Comments
Comments are closed.