BR100 Decreased By (-0.59%)
BR30 Decreased By (-0.66%)
KSE100 Decreased By (-0.58%)
KSE30 Decreased By (-0.45%)
BAFL 56.50 Decreased By ▼ -0.24 (-0.42%)
BIPL 26.84 Decreased By ▼ -0.20 (-0.74%)
BOP 33.40 Decreased By ▼ -0.28 (-0.83%)
CNERGY 10.22 Increased By ▲ 0.41 (4.18%)
DFML 18.00 Decreased By ▼ -0.52 (-2.81%)
DGKC 205.15 Decreased By ▼ -2.72 (-1.31%)
FABL 97.30 Decreased By ▼ -1.60 (-1.62%)
FCCL 53.25 Decreased By ▼ -0.27 (-0.5%)
FFL 16.35 Decreased By ▼ -0.33 (-1.98%)
GGL 23.53 Decreased By ▼ -0.04 (-0.17%)
HBL 302.11 Decreased By ▼ -2.28 (-0.75%)
HUBC 217.40 Decreased By ▼ -0.71 (-0.33%)
HUMNL 10.49 Decreased By ▼ -0.17 (-1.59%)
KEL 7.23 Decreased By ▼ -0.12 (-1.63%)
LOTCHEM 28.85 Decreased By ▼ -0.26 (-0.89%)
MLCF 93.99 Decreased By ▼ -1.51 (-1.58%)
OGDC 318.40 Increased By ▲ 0.46 (0.14%)
PAEL 41.24 Decreased By ▼ -0.59 (-1.41%)
PIBTL 16.33 Decreased By ▼ -0.17 (-1.03%)
PIOC 282.00 Increased By ▲ 1.99 (0.71%)
PPL 220.20 Increased By ▲ 0.46 (0.21%)
PRL 48.41 Increased By ▲ 3.82 (8.57%)
SNGP 106.20 Decreased By ▼ -1.29 (-1.2%)
SSGC 28.40 Decreased By ▼ -0.53 (-1.83%)
TELE 8.65 Decreased By ▼ -0.11 (-1.26%)
TPLP 12.23 Increased By ▲ 0.13 (1.07%)
TRG 59.04 Decreased By ▼ -0.99 (-1.65%)
UNITY 9.95 Decreased By ▼ -0.16 (-1.58%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)
کاروبار اور معیشت

کے الیکٹرک کی آئی ایف آر ایس 9 کے تحت ایکسپیکٹڈ کریڈٹ لاس کے اطلاق سے دو سال مزید استثنیٰ کی درخواست

  • گردشی قرض کے بڑھنے کی بنیادی وجہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور سرکاری شعبے کی اداروں سے واجبات ہیں، کے الیکٹرک
شائع اپ ڈیٹ

حکومتی ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ کے الیکٹرک نے سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) سے درخواست کی ہے کہ اسے انٹرنیشنل فنانشل رپورٹنگ اسٹینڈرڈز-9 (آئی ایف آر ایس 9) کے تحت ایکسپیکٹڈ کریڈٹ لاس(ای سی ایل) کے اطلاق سے اگلے دو سال کے لیے استثنیٰ دیا جائے۔ کمپنی کا مؤقف ہے کہ گردشی قرض کے بڑھنے کی بنیادی وجہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور سرکاری شعبے کی اداروں سے واجبات ہیں۔

کے الیکٹرک نے یہ درخواست سی ای او سید مونس عبد اللہ علوی اور کمپنی سیکرٹری رضوان پسنانی کے مشترکہ خط کے ذریعے ایس ای سی پی کو بھجوائی۔ کمپنی نے بتایا کہ اس کی درخواست کا تعلق ایس آر او 1784(1)/2024 سے ہے، جس میں ایس ای سی پی نے نوٹیفائی کیا تھا کہ آئی ایف آر ایس 9 کے تحت ای سی ایل طریقہ کار کے تقاضے اُن کمپنیوں پر لاگو نہیں ہوں گے جن کے مالی اثاثے وفاقی حکومت سے واجب الادا ہوں اور جنہیں گردشی قرض کے تحت وصول کیا جانا ہے، بشرطیکہ یہ کمپنیاں اس دوران آئی اے ایس 39 کے متعلقہ تقاضے پورے کریں۔

کے الیکٹرک نے بتایا کہ گردشی قرض کی صورتحال، جس کی بنیاد پر ایس ای سی پی نے آئی ایف آر ایس 9 کے تقاضوں میں نرمی کی تھی، زیادہ تر تبدیل نہیں ہوئی۔ کمپنی کے مطابق، ای سی ایل ماڈل بنانے کے لیے واجبات کی متوقع وصولیوں پر مبنی پیش گوئی ضروری ہے، لیکن گردشی قرض کے تحت واجبات میں کوئی پچھلا نمونہ یا مستقبل کی وضاحت نہیں ہے، جس سے ای سی ایل پروویژننگ میں غیر معمولی خلل پیدا ہو سکتا ہے۔

کے الیکٹرک نے کہا کہ اگر حکومت اور صوبائی اداروں سے واجبات بروقت وصول ہو جاتے تو دیگر سپلائرز کو ادائیگیاں بروقت کی جاتیں، جو دراصل گردشی قرض کے بڑھنے کی وجہ ہے۔ اس لیے صرف واجبات پر ای سی ایل کے تحت نقصان کا اطلاق مجموعی مالی صورتحال کی درست تصویر پیش نہیں کرتا، کیونکہ اس سے جڑے واجبات بھی اہم ہیں۔

کمپنی نے مزید وضاحت کی کہ آئی ایف آر ایس 9 کے اطلاق سے ملک کے کیپٹل مارکیٹس پر منفی اثر پڑے گا، قرض کے معاہدوں میں ممکنہ خلاف ورزی کے امکانات پیدا ہوں گے، اور کمپنیوں کی قرض لینے کی صلاحیت متاثر ہوگی، جس سے کاروباری عمل پر برا اثر پڑ سکتا ہے۔ ای سی ایل کی پروویژننگ میں غیر یقینی تبدیلیاں کمپنیوں کے نتائج کو مختلف دورانیوں میں بگاڑ سکتی ہیں۔

کے الیکٹرک نے کہا کہ وہ ہمیشہ قابل اطلاق اکاؤنٹنگ اور رپورٹنگ اسٹینڈرڈز کی تعمیل کے حامی رہی ہے، تاہم پاکستان کے گردشی قرض کی حقیقی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ایس ای سی پی سے درخواست کی گئی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے واجبات پر ای سی ایل کے اطلاق سے استثنیٰ اگلے دو سال کے لیے بڑھا دیا جائے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.