امریکہ اور یو اے ای کی اسلحہ ساز کمپنیوں کا مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ڈرونز کو مشترکہ طور پر تیار کرنے کا منصوبہ
- اؤمین ڈرون وار ہیڈز اور ٹورپیڈوز سمیت مختلف پےلوڈز لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، توقع ہے کہ 2028 کے آخر تک اس کی صنعتی پیداوار شروع کر دی جائے گی
امریکہ کی ایک ہائی ٹیک اسلحہ ساز کمپنی اور متحدہ عرب امارات کی ریاستی ملکیت رکھنے والی دفاعی کمپنی (ای ڈی جی ای) گروپ نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ وہ آرٹیفشل انٹیلی جنس(اے آئی) سے لیس ڈرونز کو مشترکہ منصوبے کے تحت متحدہ عرب امارات میں تیار کریں گے، جس سے دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
بیان کے مطابق امریکہ کی اینڈورل( Anduril) اور متحدہ عرب امارات کی ایج گروپ (EDGE Group ) ابوظہبی میں ایک نئے 50,000 مربع فٹ (4,645 مربع میٹر) کے تحقیقی مرکز میں اؤمین( Omen) ڈرون کو مشترکہ طور پر تیار کریں گے۔
عہدیداروں کے مطابق متحدہ عرب امارات پہلے مرحلے میں پہلے 50 یونٹس حاصل کرے گا۔ ایک پبلسٹی فوٹو میں اؤمین ڈرون پر یو اے ای کی فضائیہ کا نشان بھی دکھایا گیا ہے۔
یہ ہلکا، طویل فاصلے تک پرواز کرنے والا خودمختار ڈرون ہیلی کاپٹر کی طرح اڑتا اور لینڈ کرتا ہے، اور ہوائی جہاز کی طرح پرواز کرتا ہے، جس کی بدولت اسے جنگی علاقوں اور آفات کے متاثرہ علاقوں میں بھی تعینات کیا جا سکتا ہے۔
اینڈورل کے سینئر نائب صدر شین آرنٹ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ موجودہ سمندری گشت، خصوصی مشن کے طیاروں اور بہت بڑے نظاموں کو بدل دینے کے بارے میں ہے۔ ہم یہی ہدف بنائے ہوئے ہیں۔
بیان کے مطابق اؤمین مشترکہ منصوبے کی وہ پہلی پروڈکٹ ہے جو “بہت سی” آئندہ مصنوعات کی بنیاد بنے گی اور یہ امریکا، یو اے ای دفاعی تعلقات کے کئی دہائیوں پر محیط تعاون پر مبنی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مئی میں ابو ظہبی کے دورے کے دوران، امریکا اور متحدہ عرب امارات نے ایک نئے دفاعی شراکت داری کے منصوبوں کا اعلان کیا تھا، جس میں “مشترکہ صلاحیت کی ترقی” شامل ہوگی۔
یو اے ای جسے سابق امریکی دفاعی وزیر جیمز میٹس نے ”لٹل اسپارٹا“ کا لقب دیا تھا، نے افغانستان، لیبیا اور یمن میں اپنے عسکری دستے تعینات کیے ہیں۔
تیل سے مالا مال اس صحرائی مملکت نے، جس میں امریکی فضائیہ کا ال دھفرہ اڈہ واقع ہے، 2019 میں اندرونی دفاعی صنعت کی ترقی کے لیے ایج(ای ڈی جی ای) قائم کیا۔
اؤمین میں ایج تقریباً 200 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے جبکہ اینڈورل نے متعلقہ ٹیکنالوجی اور ترقی میں پہلے ہی 850 ملین ڈالر خرچ کر دیے ہیں۔
یہ ڈرون، جو وار ہیڈز اور ٹورپیڈوز سمیت مختلف پےلوڈز لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، توقع ہے کہ 2028 کے آخر تک اس کی صنعتی پیداوار شروع کر دی جائے گی۔
معاہدے کے تحت EDGE کو اینڈورل کے لیٹس AI سسٹم تک رسائی ملے گی، جو متعدد خودمختار طیاروں کو ایک “3D کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر” کی مانند حقیقی وقت میں مربوط اور ہم آہنگ کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے، بیان میں کہا گیا۔
اینڈورل کے بانی پالمر لکی، جو اوکیولس ورچوئل رئیلٹی ہیڈسیٹس کے موجد ہیں، صدر ٹرمپ کے مہم کے ڈونر بھی ہیں۔
لکی، ارب پتی پیٹر تھیل کے قریب ہیں، پیٹر تھیل سافٹ ویئر فرم Palantir کے شریک بانی ہیں، جس نے پچھلے ہفتے یو اے ای کے دبئی ہولڈنگ کے ساتھ ایک AI مشترکہ منصوبے کا اعلان کیا تھا۔
اینڈورل کے امریکی حکومتی معاہدوں میں سرحدی نگرانی کے سینکڑوں خودمختار ٹاورز کو امریکا-میکسیکو سرحد کے ساتھ نصب کرنا بھی شامل ہے، جو ایک مجازی سرحدی دیوار کی تشکیل کا حصہ ہے۔
























Comments
Comments are closed.