نیٹ میٹرنگ سے بجلی کی پیداوار ستمبر میں 100 فیصد سے زائد بڑھ گئی
- ماہانہ نیٹ میٹرنگ یونٹس میں 28.1 فیصد اضافہ ہوا جو اگست میں پیدا شدہ 111.4 گیگا واٹ آور کے مقابلے میں زیادہ ہیں
پاکستان کا قابل تجدید توانائی کا شعبہ آہستہ آہستہ ترقی کر رہا ہے جس کی عکاسی گزشتہ ایک سال کے دوران نیٹ میٹرنگ جنریشن کے رجحانات سے ہوتی ہے۔ عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) ریسرچ کے فراہم کردہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق کے الیکٹرک کے صارفین کو چھوڑ کر، نیٹ میٹرنگ یونٹس میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جو ستمبر 2024 میں 70.35 گیگا واٹ آور سے بڑھ کر ستمبر 2025 تک 142.67 گیگا واٹ آور ہو گئے جو کہ 100 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ماہانہ نیٹ میٹرنگ یونٹس میں 28.1 فیصد اضافہ ہوا جو اگست میں پیدا شدہ 111.4 گیگا واٹ آور کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
ملک کی مجموعی بجلی کی پیداوار میں نیٹ میٹرنگ کا حصہ بھی بڑھتا ہوا دیکھا گیا ہے جہاں یہ ستمبر 2024 میں مجموعی پیداوار کا صرف 0.6 فیصد تھا، یہ حصہ ستمبر 2025 تک 1.1 فیصد تک پہنچ گیا جو تقریباً دوگنا ہے۔
عارف حبیب لمیٹڈ کے مطابق ستمبر 2025 میں نیٹ میٹرنگ کا کل پیداوار میں حصہ سالانہ 57 بیس پوائنٹس بڑھاجو سولر توانائی کے بڑھتے ہوئے استعمال اور گرڈ پر کم انحصار کی عکاسی کرتا ہے۔
اعداد و شمار کے تجزیے کے دوران نوٹ کیا گیا کہ نیٹ میٹرنگ کا سب سے زیادہ حصہ اپریل 2025 میں ریکارڈ کیا گیا، جب نیٹ میٹرنگ یونٹس 307.8 گیگا واٹ آور تک پہنچ گئے جو مجموعی پیداوار کا 2.9 فیصد بنتے ہیں۔
اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جیسے جیسے مزید گھریلو اور کاروباری صارفین روف ٹاپ سولر سلوشنز اپناتے ہیں، نیٹ میٹرنگ بتدریج پاکستان کی بجلی کے مجموعی نظام کا ایک اہم جزو بنتی جارہی ہے۔
گزشتہ ماہ بزنس ریکارڈر نے رپورٹ کیا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے ملک بھر میں نیٹ میٹرنگ کے لیے ریوائیسڈ بائیک بیک ریٹس پر پاور ڈویژن کی جانب سے پیش کی گئی سمری کی منظوری میں مہینوں کی تاخیر کے بعد پاور ڈویژن کو ہدایت کی ہے کہ وہ نیپرا کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے مجوزہ نئے ٹیرف کی فوری تصدیق کرے۔
پاور ڈویژن نے نیٹ میٹرنگ کے بائیک بیک ریٹ کو موجودہ 22 روپے فی یونٹ سے کم کر کے تقریباً 11.30 روپے فی یونٹ کرنے کی تجویز دی ہے، جس کی بنیاد یہ ہے کہ موجودہ ریٹ دیگر بجلی صارفین پر اضافی مالی بوجھ ڈال رہا ہے۔
وزیر اعظم نے پاور ڈویژن کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ نیٹ میٹرنگ رولز 2015 کے تحت کیے گئے تمام موجودہ معاہدوں کا جائزہ لیا جائے تاکہ یہ تعین کیا جاسکے کہ بائیک بیک ریٹس کو قانونی طور پر تبدیل کیا جاسکتا ہے یا نہیں، بغیر موجودہ معاہداتی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کیے۔

























Comments
Comments are closed.