صنعتی شعبے نے وزیراعظم کا بجلی پیکیج مسترد کر دیا
- مشکلات کا شکار صنعتوں کو سہارا دینے کیلئے بنیادی ٹیرف میں کمی کرنے مطالبہ
ملک کے صنعتی شعبے نے وزیراعظم کے تین سالہ بجلی انکریمنٹل پیکیج، جس میں قیمت 22.98 روپے فی یونٹ مقرر کی گئی ہے، کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ مشکلات کا شکار صنعتوں کو سہارا دینے کے لیے بنیادی ٹیرف میں کمی کی جائے۔
صنعتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ انکریمنٹل پیکیج امتیازی نوعیت کا ہے کیونکہ اس سے کارخانوں کے درمیان بجلی نرخوں میں بڑا فرق پیدا ہوگا۔ کچھ فیکٹریوں کو 30 روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی ملے گی، جبکہ دیگر کو 38 روپے فی یونٹ تک ادا کرنا پڑے گا، جس سے پیداواری لاگت اور مسابقت میں شدید بگاڑ پیدا ہوگا۔
ٹیکسٹائل صنعت سے تعلق رکھنے والے صنعتکار عامر شیخ کے مطابق، اس صورتحال میں ایک فیکٹری کا دھاگہ تیار کرنے کی لاگت تقریباً 250 روپے فی پاؤنڈ ہوگی جبکہ دوسری فیکٹری کی لاگت 300 روپے فی پاؤنڈ تک پہنچ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پہلی فیکٹری 250 روپے میں دھاگہ بیچے گی جس سے دوسری فیکٹری دیوالیہ ہو جائے گی۔ ان کے بقول، یہ حکومتی سرپرستی میں صنعت کی تباہی کے مترادف ہوگا۔ ان کے مطابق، اصل حل یہ ہے کہ مجموعی ٹیرف میں کمی کی جائے بجائے اس کے کہ مصنوعی فرق پیدا کیا جائے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی برآمدات میں نمایاں اضافہ صرف اس وقت ہوا جب حکومت نے صنعت کے لیے 9 سینٹ فی یونٹ کا فکسڈ ٹیرف دیا تھا، اور یہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔ ان کے مطابق، ٹیرف جولائی میں 30 روپے فی یونٹ سے بڑھ کر اکتوبر میں 35 روپے تک پہنچ گیا ہے اور دسمبر تک متوقع ایڈجسٹمنٹس کے باعث 38 روپے تک جانے کا امکان ہے۔ یوں انکریمنٹل پیکیج کا فائدہ عملاً ختم ہو چکا ہے اور جنوری تک صنعتی ٹیرف جولائی کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ ہو جائے گا۔
صنعتکاروں نے پیکیج کے ساتھ منسلک شرائط کو بھی غیر حقیقی اور منفی قرار دیا ہے۔ عامر شیخ کے مطابق، بی تھری ٹیکسٹائل صارفین کے لیے لوڈ فیکٹر 60 فیصد مقرر کیا گیا ہے، جو پچھلے پیکیج کے 50 فیصد کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر زیادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت بھی صنعت نے احتجاج کیا تھا اور نیپرا چیئرمین نے تسلیم کیا تھا کہ 50 فیصد لوڈ فیکٹر بہت زیادہ ہے، جسے آئندہ پیکیجز میں کم کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اب اس شرح کو مزید بڑھا کر 60 فیصد کر دیا گیا ہے، جو ناقابلِ عمل ہے۔ ان کے مطابق، پیکیج کی کامیابی کے لیے لوڈ فیکٹر تمام بی تھری صنعتوں کے لیے 33 فیصد یا زیادہ سے زیادہ 40 فیصد مقرر کیا جانا چاہیے جیسا کہ فلور ملز کے لیے کیا گیا۔ مقامی اور عالمی منڈیوں میں سست روی کے باعث زیادہ تر ٹیکسٹائل یونٹس اس وقت صرف ایک شفٹ میں کام کر رہے ہیں، جس سے ان کا لوڈ فیکٹر 30 فیصد بنتا ہے، جبکہ سولر استعمال کرنے والی فیکٹریوں میں یہ 25 فیصد تک گر جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دوسری شفٹ شروع کرنے کے باوجود لوڈ فیکٹر بمشکل 50 فیصد تک پہنچتا ہے، اور موجودہ حالات میں کوئی صنعت تین شفٹوں میں اس وقت تک نہیں چل سکتی جب تک پیک آور بجلی کی قیمتیں بلند رہیں۔
زیادہ تر چیمبرز اور صنعتی تنظیمیں 11 نومبر 2025 کو ہونے والی عوامی سماعت سے قبل مجوزہ پیکیج پر نیپرا کو اپنے تبصرے جمع کروا رہی ہیں۔
ایک اور صنعتکار نے نشاندہی کی کہ پچھلے پیکیجز میں انکریمنٹل یونٹس میں اضافہ دراصل اس لیے ہوا تھا کہ کیپٹو پاور استعمال کرنے والے عارضی طور پر گیس سے بجلی کے قومی گرڈ پر منتقل ہو گئے تھے۔ اس بار صورتحال مختلف ہے کیونکہ زیادہ تر کیپٹو صارفین پہلے ہی گرڈ سے منسلک ہیں۔ ان کے مطابق، حقیقی انکریمنٹل کھپت کے حصول کے لیے بی تھری صارفین کا لوڈ فیکٹر 25 سے 40 فیصد کے درمیان رکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جو فیکٹریاں بندش کے بعد دوبارہ کام شروع کریں گی، وہ ابتدا میں بمشکل 40 فیصد استعداد پر پہنچ سکیں گی۔ صنعتی ذرائع نے حکومت کے پرانے ریفرنس پیریڈ (دسمبر 2023 تا نومبر 2024) کے استعمال پر بھی سوال اٹھایا ہے، حالانکہ تازہ ترین اعدادوشمار دستیاب ہیں۔ ایک صنعتکار کے مطابق، پرانے اعدادوشمار پر انحصار مزید بگاڑ پیدا کرے گا کیونکہ پچھلے دو برسوں میں حالات نمایاں طور پر بدل چکے ہیں۔
عامر شیخ نے یہ بھی کہا کہ کیپٹو پاور صارفین کو نئے یونٹس کے طور پر شمار کرتے ہوئے ان کے لیے 60 فیصد لوڈ فیکٹر مقرر کرنا برآمدی صنعت، جو ملک کی کل برآمدات کا تقریباً 60 فیصد حصہ رکھتی ہے، کو اس پیکیج سے مؤثر طور پر باہر کر دیتا ہے۔ ان کے مطابق، اگر لوڈ فیکٹر کو 25 سے 40 فیصد کے درمیان نہیں لایا گیا تو پاکستان کی برآمدات، روزگار اور محصولات کی وصولی پر شدید منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.