روسی افواج نے پیر کے روز یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارکیف پر گائیڈڈ بموں سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں شہر کے تین اضلاع میں 30 ہزار صارفین کی بجلی منقطع ہو گئی۔ مقامی حکام کے مطابق حملے نے ایک اسپتال اور بجلی کی ترسیلی لائنوں کو نقصان پہنچایا۔
علاقائی گورنر اولیہ سینیہوبوف نے ٹیلیگرام پر بتایا کہ روسی افواج نے جنوب مشرقی اضلاع نیمیشلیانسکی اور سلوبیڈسکی، جبکہ شمالی ضلع شیوشینکیوسکی کو نشانہ بنایا۔
میئر ایہور تیریکوف نے مقامی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ تین بموں نے ایک اسپتال کو نقصان پہنچایا اور بجلی کی لائنوں کو متاثر کیا، جس سے تقریباً 30 ہزار صارفین بجلی سے محروم ہو گئے۔ ان کے مطابق چار افراد زخمی ہوئے جن میں زیادہ تر شیشے کے ٹکڑوں سے متاثر ہوئے، جبکہ بعض مریضوں کو دوسرے وارڈز میں منتقل کیا گیا۔
تیریکوف نے بتایا کہ اسپتال کو شدید نقصان پہنچا، تقریباً 200 کھڑکیاں ٹوٹ گئیں اور چار افراد مختلف نوعیت کے زخموں کا شکار ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ روسی حملوں کا بنیادی ہدف توانائی کے ڈھانچے ہیں تاکہ بجلی کی ترسیل کا نظام مفلوج ہو جائے۔
گزشتہ چند ہفتوں سے روسی افواج یوکرین کے بجلی کے گرڈ اور گیس کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا رہی ہیں کیونکہ سردی کا موسم قریب ہے۔ پچھلے ہفتے کے بڑے حملے کے بعد ایک ملین سے زائد گھرانے اور کاروبار عارضی طور پر بجلی سے محروم ہوگئے تھے۔
دوسری جانب، دونیتسک کے شہر کوستیانتینیوکا میں روسی ڈرون حملے میں دو افراد اپنی گاڑی میں ہلاک ہوگئے۔ روسی وزارتِ دفاع کے مطابق، مشرقی یوکرین میں دو نئی بستیاں قبضے میں لی گئیں، تاہم یوکرینی نیشنل گارڈ نے دونیتسک کے قصبے دوبروپیلیا کے قریب روسی پیش قدمی ناکام بنانے کا دعویٰ کیا۔






















Comments
Comments are closed.