اسٹاک ایکسچینج: خریداری کا رجحان واپس، 100 انڈیکس 7 ہزار سے زائد پوائنٹس اضافے کے ساتھ بند
- جغرافیائی کشیدگی میں کمی اور سیاسی حالات میں بہتری کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد ایک بار پھر بحال
پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں ایک روزہ شدید مندی کے بعد منگل زبردست تیزی دیکھی گئی، جغرافیائی کشیدگی میں کمی اور سیاسی حالات میں بہتری کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد ایک بار پھر بحال ہوگیا جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 7 ہزار سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا۔
ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس 165,866.77 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر جاپہنچا تھا۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 7,032.60 پوائنٹس یا 4.44 فیصد اضافے سے 165,476.02 پوائنٹس پر بند ہوا۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق یہ ایک روز میں سب سے بڑے اضافے میں سے دوسرا سب سے بڑا اضافہ ہے، 12 مئی 2025 کو ایک روز میں سب سے زیادہ 10,123 پوائنٹس کے اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
اہم شعبوں میں بھرپور خریداری دیکھی جارہی ہے جن میں آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینک، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیاں، او ایم سیز، بجلی پیدا کرنے والے ادارے اور ریفائنریز شامل ہیں۔ حبکو، اے آر ایل، ماری، او جی ڈی سی، پی او ایل، پی پی ایل، پی ایس او، ایس ایس جی سی، ایس این جی پی ایل اور وافی مثبت زون میں دکھائی دیے۔
ماہرین کے مطابق مارکیٹ کا رجحان اب بھی سیاسی استحکام اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ پروگرام پر عملدرآمد کے سلسلے میں حکومت کے عزم پر منحصر ہے۔
اسماعیل اقبال سیکیورٹیز کے ہیڈ آف ریسرچ سعد حنیف نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو میں کہا کہ مارکیٹ کا مجموعی رجحان وہی ہے، تاہم گزشتہ روز میوچل فنڈز کی جانب سے بڑی سطح پر شیئرز کی فروخت ہوئی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ خریداری سیاسی شور میں کمی کے باعث دیکھنے میں آ رہی ہے۔
یاد رہے کہ پیر کوپاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں شدید مندی دیکھنے میں آئی، کیونکہ بڑے پیمانے پر منافع کے حصول اور سرمایہ کاروں کے کمزور اعتماد نے تمام اہم انڈیکس کو منفی زون میں دھکیل دیا۔پیر کو بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 4,654.77 پوائنٹس یا 2.85 فیصد کمی سے 158,443.42 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بین الاقوامی سطح پر منگل کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں گراوٹ دیکھی گئی، کیونکہ اس بات کے آثار کے باوجود کہ امریکا اور چین رواں ماہ کے آخر میں تجارتی مذاکرات کی تیاری کر رہے ہیں، دونوں ممالک کے درمیان ایک پائیدار معاہدے تک پہنچنے کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار رہی۔
ایم ایس سی آئی کے جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے وسیع ترین انڈیکس اور ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں ابتدائی تیزی برقرار نہ رہ سکی اور یہ بالآخر مستحکم سطح پر ٹریڈ کرنے لگے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چین کے ساتھ تجارتی کشیدگی پر نسبتاً مصالحت آمیز مؤقف اختیار کرنے کے بعد، وال اسٹریٹ کے اہم انڈیکس راتوں رات 2.2 فیصد تک کے اضافے کے ساتھ بند ہوئے، جن کی قیادت چپ بنانے والی کمپنیوں کے شیئرز نے کی۔
جمعہ کو عالمی اسٹاک مارکیٹس میں اچانک مندی اس وقت آئی جب ٹرمپ نے چین پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا جس نے اپریل کے یومِ آزادی کے اعلان کے بعد پیدا ہونے والی مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال کی یاد تازہ کر دی۔
یہ فروخت کا سلسلہ اس وقت جا کر رکا جب امریکی صدر نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر اپنے بیانات میں نرمی اختیار کی۔
ہانگ کانگ میں ابتدائی اضافے کے بعد ہینگ سینگ انڈیکس 0.4 فیصد گر گیا، جب کہ چین کی مین لینڈ مارکیٹ میں بلیو چِپ اسٹاکس کے سی ایس آئی 300 انڈیکس میں 0.1 فیصد کی معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔
دریں اثناء پاکستانی روپیہ نے منگل کے روز انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی بہتری درج کی۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 0.01 روپے کے اضافے کے ساتھ 281.15 روپے فی ڈالر پر بند ہوئی۔
تمام شیئرز کے انڈیکس پر کاروباری حجم کم ہو کر 1.179 ارب شیئرز رہا، جو گزشتہ سیشن کے 1.365 ارب شیئرز سے کم ہے۔ شیئرز کی کل مالیت بھی گھٹ کر 59.20 ارب روپے رہی، جو گزشتہ کاروباری روز 62.46 ارب روپے تھی۔
بینک آف پنجاب کاروباری حجم میں سرِفہرست رہا، جس کے 100.72 ملین شیئرز کا کاروبار ہوا، اس کے بعد پی ٹی سی ایل کے 79.83 ملین اور پیس (پاکستان) لمیٹڈ کے 74.77 ملین شیئرز کا لین دین ریکارڈ کیا گیا۔
منگل کو مجموعی طور پر 483 کمپنیوں کے شیئرز کی خرید و فروخت ہوئی، جن میں سے 391 کمپنیوں کے شیئرز کی قدر میں اضافہ، 69 میں کمی جبکہ 23 کے نرخ مستحکم رہے۔


























Comments
Comments are closed.