BR100 Decreased By (-0.13%)
BR30 Increased By (0.02%)
KSE100 Decreased By (-0.19%)
KSE30 Decreased By (-0.24%)
BAFL 59.15 Decreased By ▼ -0.01 (-0.02%)
BIPL 27.16 Decreased By ▼ -0.10 (-0.37%)
BOP 36.54 Increased By ▲ 0.54 (1.5%)
CNERGY 12.19 Increased By ▲ 0.94 (8.36%)
DFML 18.20 Increased By ▲ 0.12 (0.66%)
DGKC 218.91 Decreased By ▼ -1.28 (-0.58%)
FABL 100.53 Decreased By ▼ -0.02 (-0.02%)
FCCL 57.41 Increased By ▲ 0.53 (0.93%)
FFL 16.57 Increased By ▲ 0.06 (0.36%)
GGL 24.65 Increased By ▲ 0.75 (3.14%)
HBL 325.00 Decreased By ▼ -0.60 (-0.18%)
HUBC 225.95 Increased By ▲ 2.37 (1.06%)
HUMNL 10.80 Increased By ▲ 0.05 (0.47%)
KEL 7.34 Decreased By ▼ -0.08 (-1.08%)
LOTCHEM 27.15 Decreased By ▼ -0.05 (-0.18%)
MLCF 102.20 Decreased By ▼ -0.89 (-0.86%)
OGDC 319.00 Increased By ▲ 0.51 (0.16%)
PAEL 43.84 Decreased By ▼ -0.54 (-1.22%)
PIBTL 16.86 Decreased By ▼ -0.04 (-0.24%)
PIOC 273.70 Decreased By ▼ -2.16 (-0.78%)
PPL 221.50 Decreased By ▼ -0.98 (-0.44%)
PRL 63.75 Decreased By ▼ -0.06 (-0.09%)
SNGP 104.20 Decreased By ▼ -0.71 (-0.68%)
SSGC 27.33 Increased By ▲ 0.08 (0.29%)
TELE 8.75 Decreased By ▼ -0.06 (-0.68%)
TPLP 15.04 Increased By ▲ 0.07 (0.47%)
TRG 63.25 Increased By ▲ 0.88 (1.41%)
UNITY 11.53 Decreased By ▼ -0.37 (-3.11%)
WTL 1.23 Increased By ▲ 0.01 (0.82%)

عالمی منڈی میں منگل کے روز خام تیل کی قیمتوں میں استحکام دیکھا گیا، کیونکہ اوپیک پلس کی جانب سے توقع سے کم پیداوار میں اضافہ سرمایہ کاروں کے جذبات کو سہارا دینے میں ناکام رہا، جبکہ عالمی طلب میں کمی اور فراہمی کے ممکنہ اضافے نے مارکیٹ کو دباؤ میں رکھا۔

برینٹ خام تیل کے سودے صرف 1 سینٹ اضافے کے ساتھ 65.48 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 61.69 ڈالر فی بیرل پر مستحکم رہی۔ دونوں بینچ مارک کنٹریکٹس گزشتہ سیشن میں ایک فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کر چکے تھے۔

تجزیہ کار ڈینیئل ہائنس نے ایک نوٹ میں لکھا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ اس وقت دیکھا گیا جب اوپیک نے توقع سے کم پیداوار میں اضافہ کیا۔ مارکیٹ کو خدشہ تھا کہ تنظیم پیداوار کے کوٹے میں بڑا اضافہ کرے گی، تاہم ایسا نہ ہونے سے رسد کے اضافی دباؤ کا خطرہ وقتی طور پر ٹل گیا۔“

گزشتہ اتوار اوپیک پلس (جس میں روس اور چند دیگر ممالک شامل ہیں) نے نومبر سے تیل کی پیداوار میں روزانہ 137,000 بیرل اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس سال تنظیم مجموعی طور پر 2.7 ملین بیرل یومیہ پیداوار بڑھا چکی ہے، جو عالمی طلب کا تقریباً 2.5 فیصد بنتی ہے۔

دوسری جانب، روس-یوکرین تنازعہ توانائی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہا ہے۔ روس کے کِریشی آئل ریفائنری نے 4 اکتوبر کو ڈرون حملے اور آگ لگنے کے بعد اپنی سب سے بڑی ڈسٹلیشن یونٹ بند کر دی، جس کی بحالی میں تقریباً ایک ماہ لگنے کا امکان ہے۔

ماہرین کے مطابق، اگر عالمی معیشت امریکی تجارتی ٹیرف کے اثرات سے مزید سست ہوئی تو طلب میں کمی رسد کے اضافے کو مزید سنگین بنا سکتی ہے، جس سے تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ پڑنے کا امکان ہے۔

Comments

Comments are closed.