BR100 Decreased By (-0.66%)
BR30 Decreased By (-1.25%)
KSE100 Decreased By (-0.56%)
KSE30 Decreased By (-0.52%)
BAFL 56.90 Increased By ▲ 0.03 (0.05%)
BIPL 24.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 30.07 Decreased By ▼ -0.28 (-0.92%)
CNERGY 12.93 Decreased By ▼ -0.19 (-1.45%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.85 Decreased By ▼ -4.60 (-2.39%)
FABL 93.75 Decreased By ▼ -0.39 (-0.41%)
FCCL 51.95 Decreased By ▼ -0.84 (-1.59%)
FFL 14.47 Decreased By ▼ -0.25 (-1.7%)
GGL 19.03 Decreased By ▼ -0.53 (-2.71%)
HBL 305.01 Decreased By ▼ -1.09 (-0.36%)
HUBC 199.95 Decreased By ▼ -1.47 (-0.73%)
HUMNL 9.98 Decreased By ▼ -0.18 (-1.77%)
KEL 6.12 Increased By ▲ 0.03 (0.49%)
LOTCHEM 26.15 Decreased By ▼ -0.31 (-1.17%)
MLCF 91.45 Decreased By ▼ -1.71 (-1.84%)
OGDC 314.50 Decreased By ▼ -2.23 (-0.7%)
PAEL 35.15 Decreased By ▼ -0.48 (-1.35%)
PIBTL 14.66 Decreased By ▼ -0.02 (-0.14%)
PIOC 239.99 Decreased By ▼ -3.22 (-1.32%)
PPL 222.49 Decreased By ▼ -4.42 (-1.95%)
PRL 91.17 Decreased By ▼ -1.85 (-1.99%)
SNGP 90.87 Decreased By ▼ -0.97 (-1.06%)
SSGC 23.31 Decreased By ▼ -0.50 (-2.1%)
TELE 7.64 Decreased By ▼ -0.16 (-2.05%)
TPLP 12.65 Decreased By ▼ -0.32 (-2.47%)
TRG 56.48 Decreased By ▼ -0.08 (-0.14%)
UNITY 8.03 Decreased By ▼ -0.04 (-0.5%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے یوکرین کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل دیے تو روس کے واشنگٹن کے ساتھ تعلقات ختم ہو سکتے ہیں۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے گزشتہ ماہ انکشاف کیا تھا کہ واشنگٹن یوکرین کی جانب سے ٹام ہاک میزائلز کے حصول کی درخواست پر غور کر رہا ہے، جن کی رینج تقریباً 2,500 کلومیٹر ہے، یعنی یہ ماسکو سمیت پورے یورپی روس کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

صدر پیوٹن کا کہنا ہے کہ ان میزائلوں کا استعمال امریکی فوجی عملے کی براہِ راست شرکت کے بغیر ممکن نہیں اور اگر یہ ہتھیار یوکرین کو دیے گئے تو یہ روس اور امریکہ کے تعلقات میں ایک نئے خطرناک مرحلے کی شروعات ہوگی۔

روسی صدر نے کہا کہ اگرچہ یہ میزائل نقصان پہنچا سکتے ہیں، لیکن روس انہیں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور وہ اس موقع کو اپنی فضائی دفاعی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے استعمال کرے گا۔

دوسری جانب وال اسٹریٹ جرنل اور رائٹرز کی رپورٹس کے مطابق امریکہ یوکرین کو روس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے لیے انٹیلی جنس فراہم کرنے پر غور کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ پیوٹن یوکرین جنگ کو مغرب سے تعلقات میں فیصلہ کن موڑ قرار دیتے ہیں، جبکہ مغربی ممالک اس جنگ کو روسی توسیع پسندی قرار دے کر یوکرین کی مکمل حمایت کر رہے ہیں۔

Comments

Comments are closed.