پاکستان سنگل ونڈو نے پورٹ کمیونٹی سسٹم کو سرکاری اداروں سے منسلک کردیا
پاکستان سنگل ونڈو (پی ایس ڈبلیو) نے پورٹ کمیونٹی سسٹم کو دیگر سرکاری اداروں اور اتھارٹیز کے ساتھ منسلک کرکے جہازوں کی تیز رفتار کلیئرنس اور بندرگاہوں پر تمام درآمدی و برآمدی عمل کو مؤرخہ طور پر ڈیجیٹل بنانے کا عمل مکمل کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں ایف بی آر نے ایس آر او 1885(I)/2025 جاری کردیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق، پاکستان سنگل ونڈو گورننگ کونسل نے اعلان کیا کہ پورٹ کمیونٹی سسٹم، جس میں میری ٹائم سنگل ونڈو بھی شامل ہے، یکم جولائی 2025 سے دیگر سرکاری اداروں، اتھارٹیز اور متعلقہ ماتحت محکموں پر لاگو ہوگا۔
پورٹ کمیونٹی سسٹم مندرجہ ذیل اداروں پر نافذ ہوگا: مرکنٹائل میرین ڈپارٹمنٹ، بارڈر ہیلتھ سروسز، پاکستان پورٹ ہیلتھ ایسٹیبلشمنٹ، فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی-امیگریشن ونگ اور اینٹی ہیومن اسمگلنگ سی پورٹ، ایف بی آر-پاکستان کسٹمز، ایف بی آر-ان لینڈ ریونیو، کراچی پورٹ ٹرسٹ، پورٹ قاسم اتھارٹی، اور گوادر پورٹ اتھارٹی۔
حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان سنگل ونڈو سسٹم کے مکمل نفاذ سے دستاویزی اور سرحدی تعمیل کے اخراجات میں کمی کے حوالے سے معیشت کو براہِ راست 430 ملین امریکی ڈالر کی بچت ہوگی۔ کسٹمز اور دیگر سرکاری اداروں کی ڈیجیٹلائزیشن کے علاوہ، پی ایس ڈبلیو پروگرام میں پورٹ کمیونٹی سسٹمز، تجارتی معلومات کے پورٹلز، بی ٹو بی لین دین، ڈیجیٹل ادائیگیاں وغیرہ بھی شامل ہیں تاکہ سپلائی چین کے پورے عمل کو کور کیا جا سکے۔
پورٹ کمیونٹی سسٹم نے تمام بندرگاہی عمل کو سنگل ونڈو کے تحت ڈیجیٹل کردیا ہے۔ تمام بندرگاہ سے متعلق کام جیسے ادائیگیاں، صحت، امیگریشن، کسٹمز، ایف آئی اے وغیرہ اور جہاز کی کلیئرنس کے عمل اس نئے سسٹم کے تحت انجام دیے جائیں گے۔
دوسری جانب ایئرپورٹ کمیونٹی سسٹم (اے سی ایس) فریٹ فارورڈرز، گراؤنڈ ہینڈلنگ ایجنٹس، ایئرلائنز اور کورئیرز کو ڈیجیٹل طور پر منسلک کرے گا۔ اے سی ایس کے نفاذ سے سالانہ 80,000 دستاویزات کی بچت ہوگی۔






















Comments
Comments are closed.