BR100 Increased By (0.2%)
BR30 Increased By (0.41%)
KSE100 Increased By (0.07%)
KSE30 Increased By (0.23%)
BAFL 57.20 Increased By ▲ 0.46 (0.81%)
BIPL 26.89 Decreased By ▼ -0.15 (-0.55%)
BOP 33.69 Increased By ▲ 0.01 (0.03%)
CNERGY 10.61 Increased By ▲ 0.80 (8.15%)
DFML 18.05 Decreased By ▼ -0.47 (-2.54%)
DGKC 209.90 Increased By ▲ 2.03 (0.98%)
FABL 98.95 Increased By ▲ 0.05 (0.05%)
FCCL 53.74 Increased By ▲ 0.22 (0.41%)
FFL 16.46 Decreased By ▼ -0.22 (-1.32%)
GGL 23.82 Increased By ▲ 0.25 (1.06%)
HBL 302.42 Decreased By ▼ -1.97 (-0.65%)
HUBC 218.94 Increased By ▲ 0.83 (0.38%)
HUMNL 10.54 Decreased By ▼ -0.12 (-1.13%)
KEL 7.28 Decreased By ▼ -0.07 (-0.95%)
LOTCHEM 29.65 Increased By ▲ 0.54 (1.86%)
MLCF 96.36 Increased By ▲ 0.86 (0.9%)
OGDC 318.22 Increased By ▲ 0.28 (0.09%)
PAEL 41.77 Decreased By ▼ -0.06 (-0.14%)
PIBTL 16.81 Increased By ▲ 0.31 (1.88%)
PIOC 296.62 Increased By ▲ 16.61 (5.93%)
PPL 220.17 Increased By ▲ 0.43 (0.2%)
PRL 49.05 Increased By ▲ 4.46 (10%)
SNGP 106.13 Decreased By ▼ -1.36 (-1.27%)
SSGC 29.14 Increased By ▲ 0.21 (0.73%)
TELE 8.82 Increased By ▲ 0.06 (0.68%)
TPLP 12.51 Increased By ▲ 0.41 (3.39%)
TRG 60.22 Increased By ▲ 0.19 (0.32%)
UNITY 10.02 Decreased By ▼ -0.09 (-0.89%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)

بھارت کے 283 ارب ڈالر کے آئی ٹی سیکٹر کو اپنی دہائیوں پرانی حکمتِ عملی پر نظرثانی کرنا ہوگی کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے H-1B ویزا کے لیے 100,000 ڈالر فیس عائد کر دی ہے، جو اتوار سے نافذ ہو چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے بھارتی کمپنیوں کو امریکی پراجیکٹس میں اپنے ماہرین بھیجنے میں مشکلات کا سامنا ہوگا اور انہیں زیادہ تر کام بھارت، میکسیکو اور فلپائن جیسے ممالک سے ہی انجام دینا پڑے گا۔

بھارتی آئی ٹی سیکٹر اپنی 57 فیصد آمدن امریکا سے حاصل کرتا ہے اور اس نے سب سے زیادہ H-1B ویزے (71 فیصد) حاصل کیے، جبکہ چین دوسرے نمبر پر رہا۔ نئی پالیسی کے بعد کمپنیوں کو مجبوراً امریکی شہریوں اور گرین کارڈ ہولڈرز کی بھرتی بڑھانی پڑے گی۔ ٹاٹا کنسلٹنسی، انفوسس، ایچ سی ایل اور وپرو جیسی بڑی کمپنیوں نے فوری ردعمل دینے سے گریز کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس اقدام سے امریکی کلائنٹس کی ڈیمانڈ متاثر ہوگی، پراجیکٹس کی شروعات میں تاخیر ہو سکتی ہے اور بھارتی کمپنیوں کو ری پرائسنگ یا آن شور اسٹافنگ کم کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ بعض منصوبے مکمل طور پر آف شور یا نئیر شور منتقل کیے جا سکتے ہیں۔

امیگریشن وکلاء کا کہنا ہے کہ اتنی بھاری فیس کے بعد کمپنیاں صرف انتہائی اہم عہدوں کے لیے ویزا درخواستیں جمع کرائیں گی، جس سے زیادہ تر ماہرین کے مواقع محدود ہو جائیں گے۔ اگرچہ یہ حکم موجودہ ویزہ ہولڈرز پر لاگو نہیں ہوگا، لیکن اس فیصلے نے ہزاروں بھارتی اور چینی ملازمین کو اپنی سفری منصوبہ بندی تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا۔ متعدد قانونی ماہرین توقع کر رہے ہیں کہ اس فیصلے کو جلد ہی عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔

اس پیشرفت سے امریکی کمپنیوں کے گلوبل کیپیبلٹی سینٹرز (جی سی سیز) کو فروغ ملنے کا امکان ہے، جو بھارت سمیت میکسیکو، کینیڈا اور لاطینی امریکا میں قائم ہیں۔ بھارت پہلے ہی دنیا کے نصف سے زیادہ جی سی سیز کی میزبانی کرتا ہے اور 2030 تک ان کی تعداد 2200 سے زائد اور مارکیٹ کا حجم 100 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جو تقریباً 28 لاکھ نوکریاں پیدا کرے گا۔

یہ صورتحال بھارتی آئی ٹی سیکٹر کے لیے نئے چیلنجز اور نئے مواقع دونوں پیدا کر رہی ہے۔

Comments

Comments are closed.