BR100 Decreased By (-0.73%)
BR30 Decreased By (-0.77%)
KSE100 Decreased By (-0.49%)
KSE30 Decreased By (-0.47%)
BAFL 58.44 Decreased By ▼ -0.58 (-0.98%)
BIPL 25.20 Decreased By ▼ -0.09 (-0.36%)
BOP 33.99 Increased By ▲ 0.03 (0.09%)
CNERGY 8.11 Decreased By ▼ -0.20 (-2.41%)
DFML 20.84 Decreased By ▼ -0.18 (-0.86%)
DGKC 192.97 Decreased By ▼ -2.69 (-1.37%)
FABL 89.79 Decreased By ▼ -0.42 (-0.47%)
FCCL 52.83 Decreased By ▼ -0.17 (-0.32%)
FFL 17.95 Decreased By ▼ -0.20 (-1.1%)
GGL 18.97 Decreased By ▼ -0.17 (-0.89%)
HBL 285.50 Decreased By ▼ -2.31 (-0.8%)
HUBC 214.38 Decreased By ▼ -1.57 (-0.73%)
HUMNL 10.88 Decreased By ▼ -0.12 (-1.09%)
KEL 8.02 Decreased By ▼ -0.12 (-1.47%)
LOTCHEM 27.89 Decreased By ▼ -0.61 (-2.14%)
MLCF 86.51 Decreased By ▼ -1.37 (-1.56%)
OGDC 319.96 Decreased By ▼ -0.62 (-0.19%)
PAEL 39.42 Decreased By ▼ -0.65 (-1.62%)
PIBTL 16.67 Decreased By ▼ -0.09 (-0.54%)
PIOC 266.06 Decreased By ▼ -1.72 (-0.64%)
PPL 228.18 Decreased By ▼ -2.19 (-0.95%)
PRL 34.68 Decreased By ▼ -0.36 (-1.03%)
SNGP 99.18 Decreased By ▼ -0.18 (-0.18%)
SSGC 26.60 Decreased By ▼ -0.37 (-1.37%)
TELE 8.28 Decreased By ▼ -0.09 (-1.08%)
TPLP 8.22 Increased By ▲ 0.04 (0.49%)
TRG 69.71 Decreased By ▼ -0.92 (-1.3%)
UNITY 11.67 Decreased By ▼ -0.10 (-0.85%)
WTL 1.28 Decreased By ▼ -0.01 (-0.78%)

بھارت کے 283 ارب ڈالر کے آئی ٹی سیکٹر کو اپنی دہائیوں پرانی حکمتِ عملی پر نظرثانی کرنا ہوگی کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے H-1B ویزا کے لیے 100,000 ڈالر فیس عائد کر دی ہے، جو اتوار سے نافذ ہو چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے بھارتی کمپنیوں کو امریکی پراجیکٹس میں اپنے ماہرین بھیجنے میں مشکلات کا سامنا ہوگا اور انہیں زیادہ تر کام بھارت، میکسیکو اور فلپائن جیسے ممالک سے ہی انجام دینا پڑے گا۔

بھارتی آئی ٹی سیکٹر اپنی 57 فیصد آمدن امریکا سے حاصل کرتا ہے اور اس نے سب سے زیادہ H-1B ویزے (71 فیصد) حاصل کیے، جبکہ چین دوسرے نمبر پر رہا۔ نئی پالیسی کے بعد کمپنیوں کو مجبوراً امریکی شہریوں اور گرین کارڈ ہولڈرز کی بھرتی بڑھانی پڑے گی۔ ٹاٹا کنسلٹنسی، انفوسس، ایچ سی ایل اور وپرو جیسی بڑی کمپنیوں نے فوری ردعمل دینے سے گریز کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس اقدام سے امریکی کلائنٹس کی ڈیمانڈ متاثر ہوگی، پراجیکٹس کی شروعات میں تاخیر ہو سکتی ہے اور بھارتی کمپنیوں کو ری پرائسنگ یا آن شور اسٹافنگ کم کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ بعض منصوبے مکمل طور پر آف شور یا نئیر شور منتقل کیے جا سکتے ہیں۔

امیگریشن وکلاء کا کہنا ہے کہ اتنی بھاری فیس کے بعد کمپنیاں صرف انتہائی اہم عہدوں کے لیے ویزا درخواستیں جمع کرائیں گی، جس سے زیادہ تر ماہرین کے مواقع محدود ہو جائیں گے۔ اگرچہ یہ حکم موجودہ ویزہ ہولڈرز پر لاگو نہیں ہوگا، لیکن اس فیصلے نے ہزاروں بھارتی اور چینی ملازمین کو اپنی سفری منصوبہ بندی تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا۔ متعدد قانونی ماہرین توقع کر رہے ہیں کہ اس فیصلے کو جلد ہی عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔

اس پیشرفت سے امریکی کمپنیوں کے گلوبل کیپیبلٹی سینٹرز (جی سی سیز) کو فروغ ملنے کا امکان ہے، جو بھارت سمیت میکسیکو، کینیڈا اور لاطینی امریکا میں قائم ہیں۔ بھارت پہلے ہی دنیا کے نصف سے زیادہ جی سی سیز کی میزبانی کرتا ہے اور 2030 تک ان کی تعداد 2200 سے زائد اور مارکیٹ کا حجم 100 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جو تقریباً 28 لاکھ نوکریاں پیدا کرے گا۔

یہ صورتحال بھارتی آئی ٹی سیکٹر کے لیے نئے چیلنجز اور نئے مواقع دونوں پیدا کر رہی ہے۔

Comments

Comments are closed.