اسلام آباد ہائی کورٹ نے جمعرات کو پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین میجر جنرل (ریٹائرڈ) حافظ الرحمن کو عہدے سے ہٹانے کے احکامات معطل کر دیے۔یہ فیصلہ جسٹس انعام امین منہاس اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل ڈویژن بینچ نے دیا، جس نے حافظ الرحمن کی انٹرا کورٹ اپیل (ICA) پر سماعت کی۔
خیال رہے کہ 16 ستمبر کو جسٹس بابر ستار نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ملزم نمبر 4 (میجر جنرل ریٹائرڈ حافظ الرحمن) کی بطور ممبر ایڈمنسٹریشن اور بعد ازاں چیئرمین پی ٹی اے تقرری غیر آئینی اور غیر قانونی عمل کا نتیجہ ہے، لہٰذا وہ فوری طور پر اپنے عہدے سے سبکدوش ہوں۔
عدالت نے یہ بھی ہدایت دی تھی کہ پی ٹی اے کے سینئر ترین رکن کو عارضی طور پر چیئرمین کا چارج دیا جائے، جب تک وفاقی حکومت ٹیلی کام ایکٹ اور پی ٹی اے تقرری قوانین کے مطابق مستقل چیئرمین تعینات نہ کرے۔ ساتھ ہی وفاقی حکومت کو ہدایت کی گئی تھی کہ تقرری کے قواعد میں ترمیم کر کے چیئرمین کے لیے اہلیت، معیار اور طریقہ کار واضح کرے۔
یہ فیصلہ ایک درخواست پر سنایا گیا تھا جو اسامہ خلجی نے ایڈووکیٹ اسد لڈھا کے ذریعے دائر کی تھی۔ درخواست گزار نے مارچ 2023 کے اس اشتہار کو چیلنج کیا تھا جس میں ممبر ایڈمنسٹریشن کی آسامی کے لیے امیدوار طلب کیے گئے تھے۔
جسٹس بابر ستار نے 99 صفحات پر مشتمل اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ چیئرمین پی ٹی اے کی تقرری قانونی طور پر درست نہیں اور ہدایت دی تھی کہ عارضی طور پر پی ٹی اے کا سینئر رکن یہ ذمہ داری سنبھالے۔
























Comments
Comments are closed.