BR100 Decreased By (-0.22%)
BR30 Decreased By (-0.55%)
KSE100 Decreased By (-0.16%)
KSE30 Decreased By (-0.14%)
BAFL 57.23 Increased By ▲ 0.36 (0.63%)
BIPL 24.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 30.22 Decreased By ▼ -0.13 (-0.43%)
CNERGY 13.04 Decreased By ▼ -0.08 (-0.61%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 190.00 Decreased By ▼ -2.45 (-1.27%)
FABL 94.11 Decreased By ▼ -0.03 (-0.03%)
FCCL 52.61 Decreased By ▼ -0.18 (-0.34%)
FFL 14.59 Decreased By ▼ -0.13 (-0.88%)
GGL 19.25 Decreased By ▼ -0.31 (-1.58%)
HBL 306.40 Increased By ▲ 0.30 (0.1%)
HUBC 201.00 Decreased By ▼ -0.42 (-0.21%)
HUMNL 10.01 Decreased By ▼ -0.15 (-1.48%)
KEL 6.17 Increased By ▲ 0.08 (1.31%)
LOTCHEM 26.45 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
MLCF 92.81 Decreased By ▼ -0.35 (-0.38%)
OGDC 315.22 Decreased By ▼ -1.51 (-0.48%)
PAEL 35.15 Decreased By ▼ -0.48 (-1.35%)
PIBTL 14.74 Increased By ▲ 0.06 (0.41%)
PIOC 242.50 Decreased By ▼ -0.71 (-0.29%)
PPL 223.75 Decreased By ▼ -3.16 (-1.39%)
PRL 92.30 Decreased By ▼ -0.72 (-0.77%)
SNGP 91.60 Decreased By ▼ -0.24 (-0.26%)
SSGC 23.70 Decreased By ▼ -0.11 (-0.46%)
TELE 7.68 Decreased By ▼ -0.12 (-1.54%)
TPLP 12.70 Decreased By ▼ -0.27 (-2.08%)
TRG 56.42 Decreased By ▼ -0.14 (-0.25%)
UNITY 8.07 No Change ▼ 0.00 (0%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ مالی سال 2026 کے ابتدائی دو ماہ (جولائی تا اگست) میں پاکستان کی برآمدات میں 0.7 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 5.07 ارب ڈالر سے بڑھ کر 5.11 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسی عرصے میں درآمدات میں 14.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو 9.7 ارب ڈالر سے بڑھ کر 11.1 ارب ڈالر ہو گئیں، جس کی بڑی وجہ خام مال اور مشینری کی درآمد ہے جو ملکی معاشی سرگرمیوں میں اضافے کی نشاندہی کرتی ہے۔

وزیر منصوبہ بندی نے ماہانہ ترقیاتی رپورٹ کے اجراء کے لیے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے کہا کہ سی پی آئی مہنگائی کی شرح 10.4 فیصد سے کم ہو کر 3.5 فیصد پر آ گئی ہے جس کا سہرا حکومتی اقدامات اور بنیادی اشیا کی قریبی نگرانی کو جاتا ہے۔ ایف بی آر نے جولائی تا اگست 1,661 ارب روپے کے محصولات اکٹھے کیے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 14.1 فیصد زیادہ ہیں۔ صرف اگست میں محصولات میں 13.5 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج 5 ستمبر کو 154,277 پوائنٹس کی سطح عبور کر گئی جبکہ مارکیٹ کیپٹلائزیشن 18.1 ٹریلین روپے تک جا پہنچی، جو سرمایہ کاروں کے بڑھتے اعتماد کا مظہر ہے۔ زراعت کے شعبے میں بھی نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی، جس کی مالیت 169.6 ارب روپے سے بڑھ کر 232.2 ارب روپے ہو گئی، یعنی 36.9 فیصد اضافہ۔ نجی شعبے کو دیا گیا قرضہ بھی سالانہ بنیادوں پر 13 فیصد بڑھ کر 9.6 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا۔

انہوں نے بتایا کہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت دو ماہ میں 150 ارب روپے کی منظوری اور 46 ارب روپے کے اجرا کے ساتھ ترقیاتی اخراجات میں 23.3 فیصد اضافہ ہوا۔ اس دوران وزارت نے 32 منصوبوں کی مانیٹرنگ کی جو ہدف سے 160 فیصد زیادہ ہے۔

وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ سی پیک کے تحت ایم ایل ون منصوبے کے لیے پاکستان اور چین نے کثیر الجہتی فنانسنگ آپشنز پر اتفاق کیا ہے اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے مذاکرات جاری ہیں۔ نئی منظور شدہ ترقیاتی اسکیموں سے 1,466 براہ راست اور 31,530 بالواسطہ ملازمتوں کی توقع ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اوڑان اے آئی ٹیکاتھون اور ون نیشنل بزنس پلان کمپیٹیشن جیسے منصوبے نوجوانوں اور اسٹارٹ اپس کو بااختیار بنا کر 2035 تک ایک کھرب ڈالر کی معیشت کے ہدف کی سمت اہم پیشرفت ثابت ہوں گے۔

سیلاب کے حوالے سے بتایا گیا کہ 2025 کے مون سون سیلاب میں 907 افراد جاں بحق اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا، تاہم حکومت نے بروقت 2.35 ملین افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر کے 1,744 امدادی کیمپ قائم کیے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.