روسی افواج نے کیف پر بڑے پیمانے پر ڈرون اور میزائل حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک اور 38 زخمی ہو گئے، جبکہ سات اضلاع میں رہائشی اور دیگر عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
یوکرینی حکام نے جمعرات کو بتایا صدر وولوڈیمیر زیلنسکی نے کہا کہ یہ حملہ، جس میں ایک بچہ بھی ہلاک ہوا، دنیا کو دکھاتا ہے کہ روس سفارت کاری کے بجائے تشدد کا راستہ اختیار کر رہا ہے۔ انہوں نے ایکس پر کہا کہ روس میزائلوں کو مذاکرات کی میز پر ترجیح دیتا ہے اور جنگ ختم کرنے کے بجائے قتل جاری رکھنا چاہتا ہے۔
کیف کی انتظامیہ کے مطابق کم از کم 38 افراد زخمی ہوئے، اور ریسکیو آپریشنز جاری ہیں، ایمرجنسی ٹیمیں آگ بجھانے اور تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے افراد کو نکالنے میں مصروف ہیں۔ رات کے دوران فضائی خطرے کی انتباہی حالت میں آسمان دھماکوں سے روشن رہا، اور ڈرونز اوپر سے گزرتے رہے۔
یوکرینی فضائیہ نے بتایا کہ اس نے روس کے 598 ڈرونز میں سے 563 اور 31 میزائلز میں سے 26 مار گرائے۔ کیف کی فوجی انتظامیہ کے سربراہ تیمور تکاچنکو نے کہا کہ روس کے حملے عموماً مختلف سمتوں سے یکجا اور رہائشی عمارتوں کو ہدف بناتے ہیں۔
روس، جو شہریوں کو نشانہ بنانے کی تردید کرتا ہے، حالیہ مہینوں میں جنگ کے محاذ سے دور یوکرینی شہروں پر فضائی حملے بڑھا رہا ہے۔ کیف میں 20 سے زائد مقامات پر ایمرجنسی ٹیمیں حملوں کے بعد بچاؤ اور ریسکیو کے کام میں مصروف ہیں۔






















Comments
Comments are closed.