وفاقی کابینہ نے یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن (یو ایس سی) کو تحلیل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ہدایت کی کہ خسارے میں چلنے والے اس ریٹیل نیٹ ورک کو مکمل شفافیت کے ساتھ بند کیا جائے اور ملازمین کے حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن جو کم آمدنی والے گھرانوں کو سبسڈی شدہ اشیاء فراہم کرنے کے لیے قائم کی گئی تھی۔
یہ فیصلہ ریاستی ملکیتی اداروں کو منظم کرنے اور مالی بوجھ کم کرنے کے لیے حکومت کی حکمتِ عملی میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، اگرچہ تحلیل کے لیے کوئی ٹائم لائن ظاہر نہیں کی گئی۔
معاشی امور پر بات کرتے ہوئے کابینہ نے خصوصی اقتصادی زونز ایکٹ 2012 میں ترمیم کی اصولی منظوری بھی دی جس کا مقصد صنعتی ترقی کو فروغ دینا اور نئی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔
مجوزہ ترامیم کا مقصد زونز کے اندر زیادہ کاروبار اور سرمایہ کار دوست ماحول پیدا کرنا ہے تاکہ صنعتی ترقی کو تیز کیا جاسکے۔
وزیرِاعظم نے اس بات پر زور دیا کہ کاروبار اور سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول ملکی صنعتی ترقی کے لیے نہایت اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ معیشت میں استحکام اور پائیدار ترقی کے آثار ظاہر ہورہے ہیں اور صنعتی توسیع سے برآمدات میں اضافہ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
کابینہ نے قومی فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کی سفارش پر یوریا کھاد کی قیمتوں میں استحکام سے متعلق تجاویز کا بھی جائزہ لیا۔
شہباز شریف نے زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے کسانوں کی پیداواری لاگت کم کرنے پر زور دیا۔
مسئلے کے حل کے لیے شہباز شریف نے ایک اعلیٰ سطح کمیٹی تشکیل دی جس میں وزیرِ ماحولیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک، وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیرِ قومی غذائی تحفظ رانا تنویر، مشیر محمد علی اور وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت ہارون اختر شامل ہیں۔
علاوہ ازیں کابینہ نے قومی اقتصادی کونسل کی مالی سال 2023-24 کی سالانہ رپورٹ پارلیمان میں پیش کرنے کی منظوری دی اور 19 اگست کو اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) اور 18 اگست کو کابینہ کی قانون ساز کمیٹی (سی سی ایل سی) کے فیصلوں کی توثیق کی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025
























Comments
Comments are closed.