کراچی کے علاقے گارڈن میں تاج کمپلیکس کے قریب آتش بازی کے سامان کے گودام میں جمعرات کے روز آگ بھڑک اُٹھی، جس کے نتیجے میں 34 افراد زخمی ہو گئے ہیں، جن میں سے 4 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
چیف پولیس سرجن کراچی، ڈاکٹر سمعیہ سید طارق نے بتایا کہ 30 افراد معمولی زخمی جبکہ 4 افراد کو شدید زخم آئے ہیں۔ انہوں نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا کہ 20 زخمیوں کو جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) اور 14 کو ایس ایم بی بی انسٹیٹیوٹ آف ٹراما منتقل کیا گیا ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق سینٹرل کمانڈ اینڈ کنٹرول کو اطلاع ملنے پر فوری طور پر فائر بریگیڈ کی دو گاڑیاں، ایک ایمبولینس اور ریسکیو ٹیم موقع پر روانہ کی گئی۔
ایدھی فاؤنڈیشن کے ترجمان کے مطابق جے پی ایم سی لائے گئے زخمیوں کی شناخت فدا حسین، ارشد، عدنان، دین محمد، یکدیش کمار، ایوب، عابد، حنیف، سعید، محمد سلیم، کاشف، عمار، حماد، اور وجے کے نام سے ہوئی ہے، جن کی عمریں 19 سے 50 سال کے درمیان ہیں اور یہ سب مزدور ہیں۔
ترجمان کے مطابق رپورٹ فائل کیے جانے تک آگ بجھانے کی کارروائیاں جاری تھیں۔
وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ نے تحقیقاتی رپورٹ طلب کر لی
دریں اثناء وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے کراچی میں آتش بازی کے سامان کے گودام میں لگنے والی آگ کے واقعے پر تحقیقاتی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے متعلقہ اداروں کو فوری اقدامات کرنے کی ہدایت کی تاکہ جانی نقصان سے بچا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کی جائے اور زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کی جائے۔
مراد علی شاہ نے واقعے کی تفصیلی رپورٹ بھی طلب کر لی اور ہدایت دی ہے کہ آگ بجھانے کے بعد اس کے اسباب کا تعین کیا جائے اور غفلت یا ذمہ داری کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔
دوسری جانب وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے ڈی آئی جی ساؤتھ کو ہدایت دی ہے کہ پولیس کا دستہ فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے، زخمیوں کو اسپتال منتقل کرے اور امدادی کارروائیوں میں حصہ لے۔
انہوں نے پولیس کو ہدایت دی کہ تحقیقاتی رپورٹ جلد از جلد پیش کی جائے، زخمیوں کے بیانات اور جائے وقوعہ سے حاصل شواہد کو تفتیش کا حصہ بنایا جائے اور مجھے پیشرفت سے مسلسل آگاہ رکھا جائے۔
وزیر داخلہ نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ پولیس معلوم کرے کہ آیا گودام کے مالک کے پاس آتش بازی کا سامان تیار کرنے کا لائسنس تھا یا نہیں۔






















Comments
Comments are closed.