خام تیل کی قیمتوں میں جمعرات کو اضافہ ریکارڈ کیا گیا، سرمایہ کار اس بات پر محتاط ہیں کہ جمعہ کو یوکرین کے معاملے پر امریکا۔روس سربراہی اجلاس روسی خام تیل پر عائد پابندیوں میں نرمی کا باعث بن سکتا ہے یا خریداروں کے خلاف مزید اقدامات تک جا سکتا ہے، تاہم کمزور مارکیٹ آؤٹ لک نے اس اضافے کو محدود کردیا۔
برینٹ کروڈ کے سودے 24 سینٹ یا 0.37 فیصد بڑھ کر 65.87 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ کے سودے 21 سینٹ یا 0.34 فیصد اضافے کے ساتھ 62.85 ڈالر فی بیرل پر طے پائے۔
امریکی حکومت اور انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) کی جانب سے منفی سپلائی آؤٹ لک کے بعد دونوں کنٹریکٹس بدھ کو دو ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے۔
بدھ کو ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر پیوٹن نے یوکرین میں امن پر اتفاق نہ کیا تو سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ٹرمپ نے یہ وضاحت نہیں کی کہ یہ نتائج کیا ہو سکتے ہیں، تاہم انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر جمعہ کو الاسکا میں ہونے والا اجلاس بے نتیجہ رہا تو اقتصادی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔
رائسٹڈ انرجی نے اپنے کلائنٹ نوٹ میں کہا کہ امریکا۔روس امن مذاکرات کی غیر یقینی صورتحال ایک مثبت رسک پریمیم کو برقرار رکھے ہوئے ہے کیونکہ روسی تیل کے خریداروں کو مزید اقتصادی دباؤ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
یوکرین۔روس بحران کا حل اور روسی سپلائی میں تبدیلی کچھ غیر متوقع نتائج لا سکتی ہے۔
ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر روس نے یوکرین میں جنگ جاری رکھی تو روسی خام تیل کے خریداروں، خصوصاً چین اور بھارت پر بھاری محصولات عائد کیے جائیں گے۔
آئی این جی میں کموڈٹیز اسٹریٹیجی کے سربراہ وارن پیٹرسن نے ایک نوٹ میں کہا کہ یہ واضح ہے کہ اگر جنگ بندی پر کم پیش رفت ہوئی تو مارکیٹ کے لیے اوپر جانے کا رسک موجود ہے۔
پیٹرسن کے مطابق اس سال کے آخری حصے اور 2026 تک متوقع تیل کی اضافی رسد اور اوپیک کی فاضل پیداواری صلاحیت، اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مارکیٹ بھارت پر ثانوی محصولات کے اثرات کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
























Comments
Comments are closed.