امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ’’گولڈن ڈوم‘‘ میزائل دفاعی نظام کے منصوبے کو حتمی شکل دینا شروع کر دی ہے، جو چار تہوں پر مشتمل ہوگا — ایک خلا میں اور تین زمین پر — اور اس میں 11 مختصر فاصلے کے بیٹری سسٹم امریکہ، الاسکا اور ہوائی میں نصب کیے جائیں گے۔
رائٹرز کے مطابق یہ منصوبہ، جسے ”گو فاسٹ۔ تھینک بگ!“ کا عنوان دیا گیا ہے، گزشتہ ہفتے الاباما میں 3,000 دفاعی ٹھیکیداروں کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس کا تخمینہ لاگت 175 ارب ڈالر ہے، تاہم لانچرز، انٹرسپٹرز اور گراؤنڈ اسٹیشنز کی درست تعداد ابھی طے نہیں ہوئی۔
اب تک کانگریس جولائی میں منظور کیے گئے ٹیکس اینڈ اسپینڈ بل کے تحت 25 ارب ڈالر کی منظوری دے چکی ہے، جبکہ 2026 کے بجٹ میں مزید 45.3 ارب ڈالر مختص ہیں۔ یہ نظام اسرائیل کے ’’آئرن ڈوم‘‘ سے متاثر ہے مگر جغرافیائی دائرہ اور خطرات کی نوعیت کے باعث کہیں زیادہ بڑا اور پیچیدہ ہوگا۔
پیش کردہ خاکے کے مطابق، اس میں خلا پر مبنی میزائل وارننگ اور ٹریکنگ سسٹم کے علاوہ تین زمینی پرتیں شامل ہوں گی، جن میں انٹرسپٹرز، ریڈارز اور ممکنہ طور پر لیزرز ہوں گے۔ ایک بڑی پیش رفت مڈویسٹ میں نیکسٹ جنریشن انٹرسپٹرز کا نیا میزائل فیلڈ ہے، جو موجودہ گراؤنڈ بیسڈ مڈکورس ڈیفنس نظام کو مزید تقویت دے گا۔
پینٹاگون کا کہنا ہے کہ گولڈن ڈوم کا ایک اہم مقصد میزائل کو اس کے ابتدائی بوسٹ فیز میں تباہ کرنا ہے۔ آخری دفاعی لائن میں پیٹریاٹ میزائل سسٹم اور نئے مشترکہ لانچرز شامل ہوں گے، جو مختلف خطرات سے نمٹ سکیں گے۔
اس منصوبے کی قیادت اسپیس فورس کے جنرل مائیکل گیٹ لائن کر رہے ہیں، جنہیں ابتدائی ڈیزائن کے لیے 60 دن اور مکمل نفاذ کے منصوبے کے لیے 120 دن دیے گئے ہیں۔






















Comments
Comments are closed.