BR100 Decreased By (-0.04%)
BR30 Decreased By (-0.24%)
KSE100 Increased By (0.04%)
KSE30 Increased By (0.04%)
BAFL 57.00 Increased By ▲ 0.13 (0.23%)
BIPL 24.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 30.32 Decreased By ▼ -0.03 (-0.1%)
CNERGY 13.11 Decreased By ▼ -0.01 (-0.08%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 192.30 Decreased By ▼ -0.15 (-0.08%)
FABL 94.38 Increased By ▲ 0.24 (0.25%)
FCCL 52.78 Decreased By ▼ -0.01 (-0.02%)
FFL 14.65 Decreased By ▼ -0.07 (-0.48%)
GGL 19.32 Decreased By ▼ -0.24 (-1.23%)
HBL 307.01 Increased By ▲ 0.91 (0.3%)
HUBC 201.00 Decreased By ▼ -0.42 (-0.21%)
HUMNL 10.10 Decreased By ▼ -0.06 (-0.59%)
KEL 6.16 Increased By ▲ 0.07 (1.15%)
LOTCHEM 26.50 Increased By ▲ 0.04 (0.15%)
MLCF 93.20 Increased By ▲ 0.04 (0.04%)
OGDC 315.80 Decreased By ▼ -0.93 (-0.29%)
PAEL 35.63 No Change ▼ 0.00 (0%)
PIBTL 14.85 Increased By ▲ 0.17 (1.16%)
PIOC 243.49 Increased By ▲ 0.28 (0.12%)
PPL 224.49 Decreased By ▼ -2.42 (-1.07%)
PRL 92.95 Decreased By ▼ -0.07 (-0.08%)
SNGP 91.91 Increased By ▲ 0.07 (0.08%)
SSGC 23.85 Increased By ▲ 0.04 (0.17%)
TELE 7.81 Increased By ▲ 0.01 (0.13%)
TPLP 12.80 Decreased By ▼ -0.17 (-1.31%)
TRG 56.75 Increased By ▲ 0.19 (0.34%)
UNITY 8.10 Increased By ▲ 0.03 (0.37%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)
پاکستان

وفاق اور صوبوں میں تنازع، سینیٹ کمیٹی نیٹ ہائیڈل پرافٹ کے مسئلے کے آؤٹ آف باکس حل پر غور کریگی

  • وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال بھی اس مسئلے پر ایک علیحدہ کمیٹی کے سربراہ ہیں۔
شائع اپ ڈیٹ

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پاور، جس کی سربراہی سینیٹر محسن عزیز کر رہے ہیں، کا اجلاس پیر کو منعقد ہو رہا ہے تاکہ وفاقی حکومت اور صوبوں، خصوصاً خیبرپختونخوا کے درمیان نیٹ ہائیڈل پرافٹ (این ایچ پی) کے تنازع پر ”آؤٹ آف باکس“ حل تلاش کیا جا سکے۔

وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال بھی اس مسئلے پر ایک علیحدہ کمیٹی کے سربراہ ہیں۔ پاور ڈویژن کی نمائندگی سی ای او سی پی پی اے-جی اور ایم ڈی پی پی ایم سی کر رہے ہیں۔ کمیٹی کے پانچ اجلاس ہو چکے ہیں جن میں چاروں صوبوں، پاور ڈویژن اور وزارت خزانہ کے نمائندے شریک ہوئے۔ وزارت بین الصوبائی رابطہ حتمی پیش رفت سے آگاہ کرے گی۔

واپڈا کے مطابق آئین کے آرٹیکل 161(2) کے تحت کونسل آف کامن انٹرسٹ (سی سی آئی) ہائیڈل پاور اسٹیشنز کے بس بار ریٹ کا تعین کرتی ہے، تاہم قاضی کمیٹی کے طریقہ کار پر مختلف آرا کے باعث نیٹ ہائیڈل پرافٹ کا حساب ہمیشہ متنازع رہا ہے۔

سال 2016 میں وفاق اور خیبرپختونخوا کے درمیان معاہدے کے تحت نیٹ ہائیڈل پرافٹ کی شرح 1.10 روپے فی یونٹ مقرر کی گئی اور سابقہ واجبات کی 70 ارب روپے کی ادائیگی طے پائی، بعد میں پنجاب کے 82.71 ارب روپے کے واجبات کا بھی تصفیہ ہوا۔ بعد ازاں یہ شرح بڑھا کر 1.155 روپے فی یونٹ کر دی گئی، لیکن خیبرپختونخوا نے دوبارہ قاضی کمیٹی طریقہ کار کے مطابق ادائیگی کا مطالبہ کر دیا۔

واپڈا کا کہنا ہے کہ چونکہ وہ نیٹ ہائیڈل پرافٹ کو ”پاس تھرو آئٹم“ کے طور پر صوبوں کو ادا کرتا ہے اور اسے سی پی پی اے-جی سے واجبات کی مد میں بھاری رقوم وصول کرنی ہیں، اس لیے پاور ڈویژن اور سی پی پی اے-جی اس مسئلے کے حل کے لیے بہتر پوزیشن میں ہیں۔ فی الحال واپڈا کو خیبرپختونخوا کو 49.565 ارب روپے اور پنجاب کو 114.584 ارب روپے (جس میں 13.617 ارب روپے کے واجبات شامل ہیں) ادا کرنے ہیں۔

پی پی ایم سی نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کے تحت نیٹ ہائیڈل پرافٹ کو بجلی صارفین پر منتقل نہیں کیا جا سکتا اور یہ ادائیگی وفاقی بجٹ یا واپڈا کے منافع سے ہونی چاہیے۔ موجودہ بجلی کا ڈھانچہ 86-1985 کے ماڈل سے مختلف ہے، اس لیے پرانے حسابی طریقے کو ازسرِ نو دیکھنا ضروری ہے۔

حکومت سندھ نے مؤقف اختیار کیا کہ ہائیڈرو پاور اسٹیشنز کا صوبوں کو منتقلی کے بجائے پانی ذخیرہ کرنے والے منصوبوں کے بنیادی مقصد کو پیش نظر رکھا جائے اور اس ضمن میں ارسا، وزارت خزانہ اور اقتصادی امور ڈویژن کو بھی شامل کیا جائے۔ سندھ نے بھی نیٹ ہائیڈل پرافٹ کو آئینی حق قرار دیتے ہوئے اس بوجھ کو صارفین پر منتقل کرنے کی مخالفت کی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.