ٌپاکستان جانے کو تیار ہیں چاہے گرفتار ہی کیوں نہ ہوجائیں، عمران خان کے بیٹوں کی پیئرز مورگن شو میں گفتگو
- صدر ٹرمپ اور ہمارے والد کے درمیان بہترین تعلقات رہے ہیں، اگر کوئی فرق ڈال سکتا ہے تو وہ ٹرمپ ہیں، قاسم
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے بیٹے سلیمان اور قاسم نے جمعہ کے روز لندن میں پیئرز مورگن کے شو ”ان سنسرڈ“(Uncensored) میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنے والد کے جیل میں قتل کے خدشات، ان کے انتہائی ناقص حالاتِ زندگی اور ان کی رہائی کے لیے پاکستان آ کر مہم چلانے کی کوششوں کے بارے میں بات کی۔
عمران خان کے بیٹوں کا کہنا تھا کہ وہ اپنے والد کی رہائی کے لیے پاکستان جانے کو تیار ہیں، چاہے اس کے نتیجے میں ان کی گرفتاری ہی کیوں نہ ہو۔ اس وقت وہ پاکستان آنے کے لیے وزارت داخلہ کی جانب سے ویزا منظوری کے منتظر ہیں۔
عمران خان تقریباً دو سال سے جیل میں ہیں۔ وہ اس وقت کرپشن کے الزامات پر 14 سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں جن کی وہ ہمیشہ تردید کرتے رہے ہیں، جبکہ ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی بھی سات سال کی سزا کاٹ رہی ہیں۔
گزشتہ ماہ سلیمان اور قاسم نے واشنگٹن میں امریکی کانگریس مین بریڈ شرمین سے ملاقات کی تاکہ اپنے والد کی رہائی کے لیے عالمی حمایت حاصل کرنے کی مہم کا آغاز کیا جا سکے۔
قاسم نے گفتگو کے دوران کہا کہ صدر ٹرمپ اور ہمارے والد کے درمیان بہترین تعلقات رہے ہیں، اگر کوئی فرق ڈال سکتا ہے تو وہ ٹرمپ ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں حکام کو جمہوریت، عوام کی رائے، اور قانون کی حکمرانی کا احترام کرنا چاہیے۔
سلیمان اور قاسم کا کہنا تھا کہ انہیں کئی مہینے ہو چکے ہیں کہ وہ اپنے والد سے بات بھی نہیں کر سکے، اور جتنی زیادہ میڈیا میں ان کی سرگرمیاں بڑھتی ہیں، اتنی ہی زیادہ سختی پاکستانی حکام کی جانب سے ہوتی ہے۔
سلیمان نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کو روزانہ 22 گھنٹے تک تنہائی میں رکھا جاتا ہے اور وہ نہایت خراب اور گندے حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔
مورگن نے ان سے پوچھا کہ کیا انہیں عمران خان کی موت کا خدشہ ہے؟ اس پر قاسم نے جواب دیا: ”اب معاملہ اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ ہم بے بس ہو گئے ہیں، ہم جو کچھ کر سکتے ہیں، کرنا چاہتے ہیں۔“
سلیمان نے مزید کہا کہ اگرچہ ان کے والد یوکے میں آرام دہ زندگی گزار سکتے تھے، لیکن وہ اس وقت تک خوش نہیں ہو سکتے جب تک وہ پاکستان میں تبدیلی کی کوشش نہ کر رہے ہوں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ عمران خان نے جب سیاست میں قدم رکھا تھا، تب ہی موت کا خوف اپنے اندر سے نکال پھینکا تھا۔






















Comments
Comments are closed.