صادق آباد میں رات گئے ماہی چوک کے قریب پولیس چوکی پر ڈاکوؤں نے راکٹ لانچر سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں 5 پولیس اہلکار شہید اور 2 زخمی ہوگئے۔
آج نیوز کے مطابق شہید ہونے والوں میں 5 کانسٹیبلز شامل ہیں جن کے نام محمد عرفان، محمد سلیم، نخیّل، خلیل اور غضنفر ہیں۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ بستی شیخانی کے قریب پیش آیا۔
شہیدوں کی لاشوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا جب کہ زخمی اہلکاروں کو طبی امداد دی جا رہی ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں ملوث عناصر کو جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔
شیخانی پولیس پوسٹ پر واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پنجاب کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) ڈاکٹر عثمان انور نے ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) بہاولپور سے رپورٹ طلب کی ہے اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) رحیم یار خان کو فائرنگ میں ملوث ڈاکوؤں کو گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔
آئی جی پنجاب نے اس بزدلانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکوؤں نے رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر چھپ کر حملہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب پولیس کا مورال بلند ہے اور ایسی بزدلانہ کارروائیاں جانیں قربان کرنے والی فورس کا مورال پست نہیں کرسکتیں۔
آئی جی پنجاب نے واضح کیا کہ کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف پولیس آپریشن بھرپور طاقت سے جاری رہے گا اور شہداء کا خون رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔
ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں ایک ڈاکو بھی مارا گیا ہے۔
ادھر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ شہید پولیس اہلکاروں کی قربانی کو سلام پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے جانیں نچھاور کر کے شہادت کا اعلیٰ مقام پایا۔ ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور ڈاکوؤں کے خلاف پولیس کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
محسن نقوی نے شہدا کے لواحقین سے تعزیت کرتے ہوئے انہیں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔






















Comments
Comments are closed.