ای سی سی نے اسٹیل سیکٹر کی بحالی کے منصوبے کی منظوری دے دی
- وفاقی وزیرِ خزانہ کی زیر صدارت ای ای سی کا اجلاس، صنعتی ترقی، ماحولیاتی پالیسی، ہنر مندی کی بہتری، رہائشی قرضہ جات اور ٹیلی کمیونیکیشن سمیت اہم قومی امور پر غور کیا گیا
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے وزارتِ تجارت کی جانب سے اسٹیل شعبے کی بحالی سے متعلق پیش کردہ رپورٹ کی توثیق کرتے ہوئے سستے رہائشی قرضوں کے لیے مارک اپ سبسڈی اور رسک شیئرنگ اسکیم کی منظوری دے دی۔
ای سی سی کا اجلاس وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی صدارت میں ہوا جس میں صنعتی ترقی، ماحولیاتی پالیسی، ہنر مندی کی بہتری، رہائشی قرضہ جات اور ٹیلی کمیونیکیشن سمیت اہم قومی امور پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق اسٹیل انڈسٹری کی بحالی کا منصوبہ قومی ٹیرف پالیسی 2025–30 کے تحت ترتیب دیا گیا ہے، جس کا مقصد پیداواری لاگت میں کمی اور برآمدی مسابقت کو فروغ دینا ہے۔
اجلاس میں لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے غنی گلاس لمیٹڈ کو گیس/آر ایل این جی ٹیرف میں رعایت دینے سے متعلق فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی وزارتِ تجارت کی تجویز کو بھی منظور کیا گیا۔ ای سی سی نے اس موقف کی توثیق کی کہ چونکہ پانچ برآمدی شعبوں کے لیے توانائی رعایتیں پہلے ہی ختم کی جا چکی ہیں، اس لیے اپیل جائز ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مالی سال 2024 میں شعبے کی مجموعی پیداوار 8.40 ملین میٹرک ٹن رہی، جس میں لانگ پروڈکٹس 60 فیصد، فلیٹ مصنوعات 30 فیصد، ٹیوبز اور پائپس 7 فیصد اور دیگر مصنوعات 3 فیصد شامل ہیں۔
اس کے برعکس فی کس اسٹیل کا استعمال صرف 36 کلوگرام ہے، جبکہ عالمی اوسط 247 کلوگرام ہے—جو پاکستان کے مقابلے میں 6.5 گنا زیادہ ہے۔
ماحولیاتی پائیداری کے ضمن میں ای سی سی نے وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کی جانب سے پیش کردہ پاکستان کی پہلی گرین ٹیکسانومی کی منظوری دے دی۔
چیئرمین نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ دیرینہ ضرورت تھی اور ماحولیاتی منصوبوں کے لیے مالی معاونت کے حصول میں یہ کلیدی کردار ادا کرے گا۔
مزید برآں ای سی سی نے وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی سفارش پر پاکستان اسکل امپیکٹ بانڈ کے اجرا کے لیے ایک ارب روپے کی سرکاری ضمانت کی منظوری دی۔
کمیٹی نے وزارت کو ہدایت کی کہ وہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کی طرف پیش رفت کرے اور اپنی بیلنس شیٹ کے ذریعے ایسے اقدامات کو ممکن بنائے تاکہ خودمختار ضمانتوں پر انحصار کم ہو۔
رہائشی شعبے کے لیے سستے مکانات کی فراہمی کو ممکن بنانے کی غرض سے، مارک اپ سبسڈی اور رسک شیئرنگ اسکیم کی بھی منظوری دی گئی۔ کمیٹی نے وزارت پر زور دیا کہ وہ متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں کے ساتھ مل کر ایک جامع، مربوط ڈیٹا بیس تشکیل دے تاکہ اسکیم کے مؤثر نفاذ اور درست ہدف بندی کو یقینی بنایا جا سکے۔
اجلاس میں وزارتِ صنعت و پیداوار نے بناسپتی گھی اور خوردنی تیل کی دستیابی و قیمتوں پر بریفنگ دی۔
اگرچہ مناسب اسٹاک کی یقین دہانی کرائی گئی، کمیٹی نے بین الاقوامی قیمتوں میں کمی کے مقامی صارفین تک مکمل اثرات نہ پہنچنے پر تشویش ظاہر کی اور وزارت کو ہدایت کی کہ وہ قیمتوں کی نگرانی، کارٹلائزیشن کی روک تھام اور متعلقہ اداروں سے فعال روابط قائم رکھے۔
ای سی سی نے وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کام کی جانب سے ریڈیو بیسڈ سروسز کے چارجز میں نظرثانی کی تجویز منظور کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ہر تین سے پانچ سال بعد چارجز کا ازسرنو جائزہ لیا جائے تاکہ انہیں جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا جا سکے۔
اسی طرح آئی ایم ٹی اسپیکٹرم کی نیلامی کی نگرانی کرنے والی مشاورتی کمیٹی کی ازسرنو تشکیل کی بھی توثیق کی گئی جس کا مقصد ملک میں جدید موبائل براڈبینڈ خدمات کو فروغ دینا ہے۔
اجلاس کے اختتام پر، وزارتِ بحری امور کی سفارش پر شپ بریکنگ اور ری سائیکلنگ کو باقاعدہ صنعت کا درجہ دینے کی منظوری دی گئی۔ تاہم، کمیٹی نے وزارت کو ہدایت کی کہ وہ پاور ڈویژن سے رابطہ کر کے بجلی کے استعمال کا ڈیٹا فراہم کرے تاکہ صنعتی نرخوں کے نفاذ کے ممکنہ اثرات کا درست تجزیہ کیا جا سکے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر برائے تجارت جام کمال خان اور دیگر متعلقہ وزارتوں، ڈویژنوں، محکموں اور اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025






















Comments
Comments are closed.