وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کے روز کم مراعات یافتہ نوجوانوں کے لیے تعلیم میں انقلاب لانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دانش اسکولز اور مجوزہ دانش یونیورسٹی کو جدید، عالمی معیار کی تعلیم کے مراکز میں تبدیل کیا جائے گا، جہاں ڈیجیٹل کلاس رومز، جدید ٹیکنالوجی اور غیر متزلزل میرٹ کو بنیاد بنایا جائے گا۔
وزیراعظم نے دانش اسکولز اور مجوزہ یونیورسٹی کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کی، جس میں انہوں نے پسماندہ علاقوں میں اسکولوں کی تعمیر کے کام کو تیز کرنے اور اساتذہ کی بھرتی میں شفافیت اور مراعات میں بہتری پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے بچوں کو بین الاقوامی معیار کی تعلیم اور تربیت فراہم کرنا میری اولین ذمہ داری ہے، اور آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں نئے دانش اسکولز کی تعمیر میں تیزی لانے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ دانش یونیورسٹی جدید سائنسز میں ایسی تعلیم فراہم کرے جو عالمی معیارات سے ہم آہنگ ہو۔ انہوں نے پنجاب میں شروع ہونے والے دانش اسکولز کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ “اللہ کے فضل سے، جو پودا پنجاب میں لگایا گیا تھا وہ اب ایک تناور درخت بن چکا ہے، اور سینکڑوں طلباء نے دنیا بھر میں کامیابی حاصل کی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ کمزور طبقات کے بچوں کی خدمت کا خواب دانش اسکولز کے ذریعے حقیقت میں بدل رہا ہے۔ ملک بھر کے ہزاروں بچوں کو اس سے فائدہ ہوگا، اور میں ہر طبقے کے لیے معیاری تعلیم و تربیت کے یکساں مواقع کی فراہمی کے لیے ہمیشہ کوشاں رہوں گا۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ اسلام آباد کے علاقے کُرّی میں دانش اسکول کی تعمیر تیزی سے جاری ہے اور سال کے آخر تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ گلگت بلتستان کے سلطان آباد، گانچھے اور استور میں اسکولز کی تعمیر جاری ہے، جو آئندہ سال مکمل ہوں گے۔
آزاد کشمیر کے باغ اور بھمبر میں نئے منصوبوں پر کام شروع ہو چکا ہے، جبکہ شاردا، نیلم میں اسکول کی تعمیر جلد پی سی-1 کی منظوری کے بعد شروع کی جائے گی۔ بلوچستان کے ضلع سبی، موسیٰ خیل، ژوب، قلعہ سیف اللہ اور ڈیرہ بگٹی میں دانش اسکولز کے لیے پی سی-1 منظور ہو چکا ہے، جبکہ حب میں منصوبے کے لیے فیزیبلٹی اسٹڈی جاری ہے۔
چترال، کراچی اور ٹنڈو محمد خان میں زمین کی نشاندہی کر لی گئی ہے، جبکہ ایبٹ آباد اور وزیرستان میں مجوزہ اسکولز اور راجن پور میں دانش یونیورسٹی کے لیے ابتدائی کام جاری ہے۔
دانش یونیورسٹی سے متعلق اجلاس کو بتایا گیا کہ ٹیکنو-فیزیبلٹی اسٹڈی جولائی کے آخر تک مکمل ہو جائے گی۔ 12 بین الاقوامی کمپنیوں میں سے 7 نے ماسٹر پلاننگ، ڈیزائن اور تعمیر کے لیے مطلوبہ معیار پر پورا اُترنے کی تصدیق حاصل کر لی ہے، اور خریداری کا عمل حتمی مرحلے میں ہے۔ یونیورسٹی کے نصاب، داخلہ پالیسی اور معاون سہولیات پر بھی کام جاری ہے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ یونیورسٹی کا انفرااسٹرکچر سادہ اور کم لاگت پر مبنی ہو، جبکہ جدید سافٹ ویئر، ڈیجیٹل لرننگ ٹولز، ایڈوانسڈ لیبارٹریز اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پر زیادہ سرمایہ کاری کی جائے۔
دانش اسکولز سسٹم، جو کم مراعات یافتہ بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے قائم کیا گیا تھا، اب حکومت کے تعلیم میں تفریق ختم کرنے کے قومی وژن کے تحت ملک گیر سطح پر توسیع پا رہا ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، اعظم نذیر تارڑ، احد چیمہ، خالد مقبول صدیقی، وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان اور دیگر سینئر افسران شریک تھے، جبکہ چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے چیف سیکرٹریز اور نمائندے ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.