قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کو پیر کے روز آگاہ کیا گیا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کمپنی لمیٹڈ (پی آئی اے سی ایل) کے آپریشنل اثاثے رواں سال کی آخری سہ ماہی میں فروخت کیے جانے کا ارادہ ہے، جس سے قبل 60 سے 90 دنوں پر مشتمل جانچ پڑتال (ڈیو ڈیلیجنس) کا عمل مکمل کیا جائے گا۔
کمیٹی کا اجلاس رکن قومی اسمبلی محمد فاروق ستار کی زیر صدارت ہوا، جس میں پی آئی اے اور فرسٹ ویمن بینک لمیٹڈ کی نجکاری سے متعلق بریفنگ دی گئی۔
سیکریٹری نجکاری کمیشن عثمان اختر باجوہ نے کمیٹی کو بتایا کہ پی آئی اے کی نجکاری کے لیے منتخب چار دلچسپی رکھنے والے بولی دہندگان منگل (آج) سے بائر سائیڈ ڈیو ڈیلیجنس کے مرحلے میں داخل ہوں گی، جو کہ 60 سے 90 دن کے اندر مکمل ہوگا، اس کا انحصار ممکنہ خریداروں پر ہوگا۔
پی آئی اے کی نجکاری کے لیے چار کنسورشیم پہلے ہی اہل قرار دیے جا چکے ہیں۔ جن میں لکی سیمنٹ لمیٹڈ، حب پاور ہولڈنگز، کوہاٹ سیمنٹ کمپنی لمیٹڈ، اور میٹرو وینچرز پرائیویٹ لمیٹڈ پر مشتمل کنسورشیم، عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ، فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی، سٹی اسکول پرائیویٹ لمیٹڈ، اور لیک سٹی ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈ پر مشتمل کنسورشیم، فوجی فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ اور ایئر بلیو پرائیویٹ لمیٹڈ شامل ہیں۔
یہ بولی دہندگان اب پی آئی اے کے آپریشنل اثاثوں کے تفصیلی جائزے کے عمل سے گزریں گی، جو نجکاری کے شفاف اور مسابقتی عمل کا اہم مرحلہ ہے۔
اجلاس کے دوران کمیٹی کے چیئرمین فاروق ستار نے حکومت کو سفارش کی کہ پی آئی اے کی نجکاری کے بعد ادارے کے 6,700 ملازمین کی نوکریاں کم از کم تین سے چار سال کے لیے محفوظ رکھی جائیں۔
سیکریٹری نجکاری کمیشن نے بتایا کہ اس وقت پی آئی اے میں 20 سے 25 فیصد عملہ زائد ہے، تاہم ممکنہ خریداروں کو پروازوں کے آپریشن میں توسیع کی صورت میں اضافی عملے کی ضرورت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کی برقراری کے لیے کمیشن ممکنہ خریداروں سے مذاکرات کرے گا۔ گزشتہ بولی کے دور میں برقراری کی مدت 18 ماہ تھی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ موجودہ چار بولی دہندگان میں سے تین نے گزشتہ بولی کے عمل میں بھی شرکت کی تھی، جب کہ فلائی جناح نے حصہ نہیں لیا کیونکہ ایئر عربیہ کا مؤقف تھا کہ ان کے پاس صرف لو کاسٹ ایئرلائن چلانے کا تجربہ ہے، بین الاقوامی ایئرلائن جیسے پی آئی اے کا نہیں۔
پی آئی اے کے آپریشنل اثاثوں کی بنیادی قیمت سے متعلق سوال پر سیکریٹری نے بتایا کہ یہ قیمت نیلامی کی تاریخ کے قریب مارکیٹ کی دلچسپی اور مالی مشیروں کے تجزیے کی روشنی میں طے کی جائے گی۔
سیکریٹری نے یہ بھی انکشاف کیا کہ نیویارک میں واقع روزویلٹ ہوٹل کی نجکاری کے لیے اظہار دلچسپی (ای او آئی) اگست 2025 میں طلب کیا جائے گا۔
ایئر وائس مارشل (ر) محمد عامر حیات نے کمیٹی کو بتایا کہ پی آئی اے کا ترک ایئرلائن اور ایتھوپین ایئرلائن کے ساتھ مشترکہ آپریشن جاری ہے، جب کہ برطانیہ کے شہر مانچسٹر کے لیے پروازوں کی بحالی کے بعد پی آئی اے کی مالی حالت مزید بہتر ہو گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.