وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ میری اولین ترجیح ہے۔ وہ صوبائی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کر رہی تھیں جس میں پاکستان کی پہلی مخصوص ’رائٹ مینجمنٹ پولیس‘ کے قیام کی منظوری دی گئی، جو پنجاب پولیس کے چاق و چوبند، مستعد اور جسمانی طور پر مضبوط اہلکاروں پر مشتمل ہو گی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ رائٹ مینجمنٹ پولیس کا قیام پولیس کی امن و امان قائم رکھنے کی کوششوں میں خوش آئند اضافہ ہے۔ یہ فورس حکومت کے لیے ایک نیا رخ متعین کرے گی جو نجی و سرکاری املاک کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ غصے میں بپھرے ہجوم کو محفوظ انداز میں قابو میں لا کر صورتحال کو بگڑنے سے روکا جا سکے گا۔
وزیراعلیٰ کی ہدایت پر پولیس ٹریننگ سینٹر فاروق آباد میں رائٹ مینجمنٹ پولیس کی خصوصی تربیت کا اہتمام کیا گیا۔ اجلاس میں حکام نے بتایا کہ رائٹ مینجمنٹ پولیس کے پہلے بیچ کو امریکہ، ترکی، یورپ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کے ٹریننگ مینوئلز کی بنیاد پر 8 ہفتے کی پیشہ ورانہ تربیت دی گئی ہے، جو ترک ماہرین سے تربیت یافتہ پولیس افسران نے فراہم کی۔
حکام کے مطابق، فورس کو ہجوم کو قابو میں لانے کے لیے خصوصی سازوسامان اور حفاظتی کٹس فراہم کی گئی ہیں۔ ہر 250 اہلکاروں پر مشتمل ٹیم اور 15 ذیلی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جن میں فرسٹ ایڈ ٹیم، ڈرون ٹیم، ہجوم سے رابطہ کرنے والی ٹیم، مذاکراتی ٹیم، اور ہجوم کنٹرول ٹیم شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مظاہرین کو گرفتار کرنے، متاثرہ علاقے سے انخلا، کے 9 (ڈاگ ہینڈلرز)، اسنائپر ٹیم اور دیگر ماہرین پر مشتمل ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی ہیں۔ ان اہلکاروں کو ان کی پیشہ ورانہ مہارت کی بنیاد پر خصوصی الاؤنس بھی دیا جائے گا۔
حکام نے آگاہ کیا کہ پنجاب کی پہلی رائٹ مینجمنٹ پولیس فورس کا ابتدائی دستہ 5,000 اہلکاروں پر مشتمل ہو گا، جن میں سے پہلے مرحلے میں 3,000 اہلکاروں کی تربیت مکمل ہو چکی ہے۔ ان کی پاسنگ آؤٹ تقریب پولیس ٹریننگ سینٹر فاروق آباد میں منعقد ہوئی، جس میں ایڈیشنل آئی جی خرم شکور، ڈی آئی جی رائٹ مینجمنٹ اسد سرفراز اور دیگر افسران نے شرکت کی۔
تقریب میں انسپکٹر حافظ خرم شہزاد، سب انسپکٹر شان علی، اے ایس آئی سجاد ریاض، شہزاد حسین اور ہیڈ کانسٹیبل نعیم نیاز کو بہترین کارکردگی پر انعامات دیے گئے۔
مزید بتایا گیا کہ 3,000 تربیت یافتہ اہلکاروں کو ریجنل ہیڈکوارٹرز میں تعینات کیا جائے گا، ہر ریجن میں 250 اہلکار تعینات ہوں گے۔ تربیت مکمل کرنے والے اہلکاروں نے مظاہرین سے نمٹنے کی مشقوں کا عملی مظاہرہ بھی پیش کیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ رائٹ مینجمنٹ پولیس کو مختلف قسم کے ہجوم کو کنٹرول کرنے کی خصوصی تربیت دی گئی ہے۔ یہ اہلکار مظاہرین سے بات چیت کے ذریعے بھی املاک کا تحفظ یقینی بنائیں گے اور منظم حملے کرنے والے افراد کو پیشہ ورانہ انداز میں قابو میں لائیں گے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا، مظاہرین کے حملے نہ صرف نجی و سرکاری املاک کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ پاکستان کی عالمی ساکھ کو بھی متاثر کرتے ہیں۔






















Comments
Comments are closed.