اینگرو پاورجن قادر پور لمیٹڈ (ای پی کیو ایل) نے پاور ڈویژن سے درخواست کی ہے کہ وہ بدر-ون گیس فیلڈ سے کم بی ٹی یو مقامی گیس کے استعمال کیلئے سپلیمنٹری ایگریمنٹ پر دستخط کے عمل میں تیزی لانے کیلئے تعاون فراہم کرے۔
پاور ڈویژن کو لکھے گئے خط میں ای پی کیو ایل کے سی ای او عدیل قمر نے بتایا کہ کمپنی 225 میگاواٹ کا پاور پلانٹ چلاتی ہے جو بنیادی طور پر قادر پور گیس فیلڈ سے حاصل ہونے والی پرمیئیٹ گیس پر چلتا ہے، اور یہ منصوبہ 26 اکتوبر 2007 کو سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹی لمیٹڈ کے ساتھ کیے گئے پاور پرچیز ایگریمنٹ کے تحت کام کر رہا ہے۔
مارچ 2010 میں کمرشل آپریشنز کے آغاز سے لے کر اب تک، یہ پلانٹ اکنامک میرٹ آرڈر میں اعلیٰ درجہ برقرار رکھے ہوئے ہے اور اس نے گیس پر مبنی بلند شرحِ استعمال کے ساتھ قومی گرڈ کو 18.9 ارب یونٹ بجلی فراہم کی ہے۔
ای پی کیو ایل کا دعویٰ ہے کہ اس کے آپریشن نے بجلی کے صارفین اور حکومتِ پاکستان کو خاطر خواہ فوائد فراہم کیے ہیں، جن میں شامل ہیں:(i) کم لاگت بجلی کی خریداری کے ذریعے 89 ارب روپے کی بچت؛(ii) مقامی گیس کے استعمال کے ذریعے 1.6 ارب ڈالر کا زرمبادلہ بچایا گیا؛ اور(iii) فیول سپلائرز (ایس این جی پی ایل اور او جی ڈی سی ایل) کے لیے پرمیئیٹ گیس کی فروخت سے 96 ارب روپے کی آمدنی، جو اس سے پہلے ضائع ہورہی تھی۔
عدیل قمر نے کہا کہ یہ تمام فوائد صرف حکومتِ پاکستان اور اس کے اداروں، بشمول پی پی آئی بی، سی پی پی اے-جی اور این ٹی ڈی سی کے بھرپور تعاون اور حمایت کے باعث ممکن ہو سکے۔
قادرپور سے گیس کی فراہمی میں کمی اور پلانٹ کے استعمال کو بہتر بنانے کے لیے ای پی کیو ایل نے پی پی آئی بی اور سی پی پی اے-جی جیسے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر متبادل ایندھن کے ذرائع تلاش کیے،اس کے نتیجے میں نیپرا نے 20 فروری 2024 کے اپنے فیصلے میں ای پی کیو ایل کی کارروائیوں کے لیے بدر-ون گیس فیلڈ سے کم بی ٹی یو گیس کو اضافی ایندھن کے طور پر استعمال کرنے کی منظوری دے دی۔
نیپرا کی منظوری کے بعد، ای پی کیو ایل نے 5 اگست 2024 کو پیٹرولیم ایکسپلوریژن لمیٹڈ کے ساتھ بدر-1 گیس فیلڈ سے 8 تا 13 ایم ایم ایس سی ایف ڈی کم بی ٹی یو گیس کی فراہمی کے لیے معاہدہ کیا۔
بعد ازاں ای پی کیو ایل نے تفصیلی مشاورت کے بعد 26 اگست 2024 کو سی پی پی اے-جی کے جائزے کے لیے پاور پرچیز ایگریمنٹ کا ایک سپلیمنٹری ایگریمنٹ پیش کیا، تاہم کمپنی کے مطابق یہ معاملہ تاحال حل طلب ہے۔
عدیل قمر نے کہا کہ ہم گہرے تشویش کے ساتھ نوٹ کرتے ہیں کہ 10 ماہ گزرنے کے باوجود یہ معاملہ سی پی پی اے-جی کے پاس تاحال زیر التوا ہے جس کے باعث ای پی کیو ایل کو بدر-1 سے کم بی ٹی یو گیس استعمال کرتے ہوئے اضافی بجلی پیدا کرنے کا موقع میسر نہیں آرہا۔
ای پی کیو ایل کا کہنا ہے کہ بدر-ون سے گیس کی فراہمی کیلئے درکار انفرااسٹرکچر مکمل طور پر فعال ہے اور ضروری منظوری ملتے ہی گیس کی وصولی فوری طور پر شروع کی جاسکتی ہے۔ یہ معاہدہ ٹیک اینڈ پے کی بنیاد پر ترتیب دیا گیا ہے، یعنی گیس صرف اسی صورت میں استعمال کی جائے گی جب وہ اکنامک ڈسپیچ میرٹ آرڈر کے تحت اہل قرار پائے۔
کمپنی کا اندازہ ہے کہ اگر اکتوبر 2024 تک منظوری دے دی جاتی تو وہ 12 کروڑ 20 لاکھ اضافی یونٹ بجلی پیدا کرسکتی تھی جس کے نتیجے میں بجلی صارفین کے لیے 78 کروڑ 70 لاکھ روپے کی ممکنہ بچت اور 90 لاکھ ڈالر کا زرمبادلہ بچایا جا سکتا تھا۔
عدیل قمر نے مزید کہا ہم نے سی پی پی اے-جی کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا ہے اور ان کے تمام سوالات کے بروقت جوابات دیے ہیں، لیکن منظوری تاحال زیر التوا ہے۔ چونکہ اس وقت گرمیوں کا عروج ہے اور بجلی کی پیداوار کے لیے مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار کیا جا رہا ہے، اس لیے سپلیمنٹری ایگریمنٹ کو مزید تاخیر کے بغیر حتمی شکل دینا انتہائی ضروری ہے۔
ای پی کیو ایل نے پاور ڈویژن سے اپیل کی ہے کہ منصوبے سے جڑے اقتصادی اور عملی فوائد کو بروئے کار لانے کے لیے منظوری کے عمل کو جلد از جلد مکمل کرانے میں کردار ادا کرے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025






















Comments
Comments are closed.