BR100 Increased By (0.54%)
BR30 Increased By (0.68%)
KSE100 Increased By (0.41%)
KSE30 Increased By (0.41%)
BAFL 58.50 Increased By ▲ 0.06 (0.1%)
BIPL 25.37 Increased By ▲ 0.17 (0.67%)
BOP 34.30 Increased By ▲ 0.31 (0.91%)
CNERGY 8.15 Increased By ▲ 0.04 (0.49%)
DFML 20.86 Increased By ▲ 0.02 (0.1%)
DGKC 195.62 Increased By ▲ 2.65 (1.37%)
FABL 89.90 Increased By ▲ 0.11 (0.12%)
FCCL 53.30 Increased By ▲ 0.47 (0.89%)
FFL 18.07 Increased By ▲ 0.12 (0.67%)
GGL 19.70 Increased By ▲ 0.73 (3.85%)
HBL 286.50 Increased By ▲ 1.00 (0.35%)
HUBC 215.00 Increased By ▲ 0.62 (0.29%)
HUMNL 10.86 Decreased By ▼ -0.02 (-0.18%)
KEL 8.14 Increased By ▲ 0.12 (1.5%)
LOTCHEM 27.75 Decreased By ▼ -0.14 (-0.5%)
MLCF 86.99 Increased By ▲ 0.48 (0.55%)
OGDC 322.79 Increased By ▲ 2.83 (0.88%)
PAEL 39.93 Increased By ▲ 0.51 (1.29%)
PIBTL 16.90 Increased By ▲ 0.23 (1.38%)
PIOC 267.15 Increased By ▲ 1.09 (0.41%)
PPL 229.27 Increased By ▲ 1.09 (0.48%)
PRL 34.75 Increased By ▲ 0.07 (0.2%)
SNGP 99.30 Increased By ▲ 0.12 (0.12%)
SSGC 27.00 Increased By ▲ 0.40 (1.5%)
TELE 8.59 Increased By ▲ 0.31 (3.74%)
TPLP 8.63 Increased By ▲ 0.41 (4.99%)
TRG 69.64 Decreased By ▼ -0.07 (-0.1%)
UNITY 11.65 Decreased By ▼ -0.02 (-0.17%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)

پاکستان نے بدھ کے روز بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کی گجرات میں کی گئی اشتعال انگیز تقریر کی شدید مذمت کرتے ہوئے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی اصولوں کا احترام کرے۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ یہ افسوسناک ہے، لیکن حیران کن نہیں، کہ بھارتی وزیرِاعظم نے ایک بار پھر تاریخی حقائق کو مسخ کرنے اور اقلیتوں پر داخلی جبر کے تسلسل کیلئے ایک اور اشتعال انگیز خطاب کیا ہے۔

ترجمان شفقت علی خان نے کہا کہ نریندر مودی کی طرف سے پانی جیسے مشترکہ اور معاہدہ شدہ وسائل کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا بین الاقوامی اصولوں سے ایک خطرناک انحراف کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ اس تضاد کو نمایاں کرتے ہیں جو بھارت کے علاقائی طرزِ عمل اور اس کی عالمی دعووں کے درمیان پایا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر بھارت واقعی بین الاقوامی وقار کا خواہاں ہے تو اسے دوسروں کو دھمکانے سے پہلے اپنے اندر جھانکنا چاہیے اور اپنے ضمیر کو پاک کرنا چاہیے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت بیرونِ ملک قتل اور غیر ملکی ریاستوں میں مداخلت جیسے اقدامات سے جُڑی ہوئی ہے۔ بھارت غیر قانونی طور پر دیگر اقوام اور علاقوں پر قابض ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں اس کا طرزِ عمل منظم جبر سے عبارت ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ایسا ملک خود کو مظلوم ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ بھارت کی موجودہ حکومت کے نظریاتی پیروکاروں نے ہجوم کے تشدد کو معمول بنا دیا ہے، نفرت انگیز مہمات کو فروغ دیا ہے اور مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ اقدامات مقامی سیاست کے لیے تو فائدہ مند ہو سکتے ہیں لیکن عالمی سطح پر ان کا دفاع ممکن نہیں، اور نہ ہی یہ بھارت کو ایک ذمہ دار علاقائی طاقت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

پاکستان نے بھارت پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی نظم کے بنیادی اصولوں، جیسے دوسروں کی خودمختاری کا احترام، معاہدوں کی پاسداری، اور زبان و عمل میں تحمل کی روش اختیار کرے۔ انتخابی مہم میں جنگی جنون وقتی تالیاں تو بٹور سکتا ہے، لیکن یہ خطے کے امن و استحکام کو نقصان پہنچاتا ہے۔ بھارت کے نوجوان، جو اکثر قوم پرستی کے جنون کا پہلا شکار بنتے ہیں، بہتر مستقبل کے لیے خوف کی سیاست کو مسترد کریں اور باوقار، باعقل اور علاقائی تعاون پر مبنی سوچ کو اپنائیں۔

یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ بھارتی وزیرِاعظم نے ایک سیاسی جلسے میں کہا کہ وہ نئی نسل کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ بھارت کیسے تباہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا، اگر آپ 1960 کے سندھ طاس معاہدے کا مطالعہ کریں گے تو آپ کو حیرت ہو گی۔ فیصلہ کیا گیا تھا کہ جموں و کشمیر کی ندیوں پر بننے والے ڈیموں کی صفائی نہیں کی جائے گی، تلچھٹ نکالی نہیں جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا، تلچھٹ صاف کرنے کے لیے بنائے گئے نچلے دروازے کبھی نہیں کھولے گئے۔ جو آبی ذخائر 100 فیصد بھرنے کے لیے بنائے گئے تھے، آج صرف 2 یا 3 فیصد تک ہو چکے ہیں۔“ مودی نے طنزیہ انداز میں کہا، ابھی تو میں نے کچھ کیا ہی نہیں اور وہاں (پاکستان میں) لوگوں کے پسینے چھوٹ گئے ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.