آٹو پارٹس ساز صنعت نے خبردار کیا ہے کہ 15 فیصد کسٹمز ڈیوٹی کی تجویز اس شعبے کی ترقی اور مسابقتی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔
وزیراعظم کے خصوصی معاون ہارون اختر خان کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا جس میں آٹو پارٹس صنعت سے متعلق ٹیرف مسائل زیر بحث آئے۔
اجلاس میں پاکستان آٹوموٹو پارٹس اینڈ ایکسسریز مینوفیکچررز (پاپام) کے نمائندگان ،وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ، وزارت صنعت و پیداوار کے سیکرٹری سیف انجم اور سیکرٹری تجارت جاوید پال شریک تھے۔
اجلاس کے دوران ہارون اختر خان نے زور دیا کہ آٹو پارٹس انڈسٹری کے مسائل کو باضابطہ طور پر ٹیرف پالیسی بورڈ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے پاپام کو ہدایت دی کہ وہ صنعت کی مسابقت برقرار رکھنے اور دیرپا ترقی کے لیے مطلوبہ حفاظتی اقدامات کی جامع اور تفصیلی رپورٹ پیش کریں۔
وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق ان صنعتوں کو مراعات دی جائیں گی جو اپنی پیداوار میں اضافہ دکھائیں گی۔ اس اقدام کا مقصد ترقی کو فروغ دینا اور شعبے کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔ تاہم، آٹو پارٹس مینوفیکچررز نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ تجویز کردہ 15 فیصد کسٹمز ڈیوٹی صنعت کی ترقی اور مجموعی مسابقت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔
ہارون اختر خان نے صنعتکاروں کو یقین دہانی کرائی کہ وہ وزیراعظم شہباز شریف پر اعتماد رکھیں، اور ان کا کیس ٹیرف پالیسی بورڈ کے سامنے بھرپور انداز میں پیش اور مؤثر طریقے سے دفاع کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید ہدایت کی کہ پاپام مختصر رپورٹس پیش کرے تاکہ آئندہ اجلاس میں ان پر غور کیا جاسکے اور ان مسائل پر مسلسل بات چیت اور پیش رفت کو یقینی بنایا جا سکے۔






















Comments
Comments are closed.