پاکستان نے جمعرات کے روز مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی وزیر دفاع کی جانب سے پاکستان کے جوہری اثاثوں سے متعلق دیے گئے بیان کی شدید مذمت کی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ، سفیر شفقت علی خان نے کہا کہ یہ غیر ذمہ دارانہ بیان بھارتی وزیر دفاع کی شدید عدم تحفظ کا اظہار ہے جو پاکستان کی مؤثر دفاعی صلاحیت اور روایتی بھارتی جارحیت کے خلاف روک تھام پر مایوسی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی روایتی عسکری صلاحیتیں بھارت کے خلاف دفاع کے لیے کافی ہیں، اور پاکستان کو ایسی ایٹمی بلیک میلنگ کی ضرورت نہیں، جیسی بھارت میں نظر آتی ہے۔
بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اپنے دورہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے دوران فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کے جوہری اثاثے اقوام متحدہ کی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی نگرانی میں ہونے چاہئیں۔
اس پر ردعمل دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارتی وزیر دفاع کے یہ بیانات اقوام متحدہ کی خصوصی ایجنسیوں کے دائرہ کار اور ذمہ داریوں سے ان کی مکمل لاعلمی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سفیر شفقت علی خان نے کہا کہ اگر کسی چیز پر آئی اے ای اے اور بین الاقوامی برادری کو تشویش ہونی چاہیے تو وہ بھارت میں جوہری اور تابکار مواد کی بار بار چوری اور غیر قانونی اسمگلنگ کے واقعات ہیں۔
ترجمان کے مطابق، گزشتہ سال بھارت کے شہر دہرادون میں پانچ افراد کو ایک ریڈیو ایکٹیو آلہ کے ساتھ گرفتار کیا گیا، جو مبینہ طور پر بھارت کے بھابھا ایٹمی تحقیقاتی مرکز (بی اے آر سی) سے چوری کیا گیا تھا۔
اسی طرح ایک گروہ کے پاس سے کیلیفورنیئم نامی ایک انتہائی خطرناک اور مہنگا تابکار مادہ برآمد ہوا، جس کی عالمی منڈی میں مالیت 100 ملین ڈالر بتائی گئی۔ 2021 میں کیلیفورنیئم چوری کے تین واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ان واقعات سے بھارت میں جوہری اور تابکار مواد کی حفاظت اور سلامتی سے متعلق انتظامات پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں، اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ بھارت میں دوہری استعمال والے حساس مواد کی ایک بلیک مارکیٹ موجود ہو سکتی ہے۔
پاکستان نے ان واقعات کی مکمل تحقیقات پر زور دیا ہے اور بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے جوہری اثاثوں اور تنصیبات کی سلامتی کو یقینی بنائے۔
واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت نے 10 مئی کو چار روزہ شدید ڈرون، میزائل اور آرٹلری حملوں کے بعد فائر بندی پر اتفاق کیا تھا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.