BR100 Increased By (0.83%)
BR30 Increased By (1.05%)
KSE100 Increased By (0.53%)
KSE30 Increased By (0.53%)
BAFL 58.90 Increased By ▲ 0.46 (0.79%)
BIPL 25.44 Increased By ▲ 0.24 (0.95%)
BOP 34.40 Increased By ▲ 0.41 (1.21%)
CNERGY 8.17 Increased By ▲ 0.06 (0.74%)
DFML 20.90 Increased By ▲ 0.06 (0.29%)
DGKC 195.56 Increased By ▲ 2.59 (1.34%)
FABL 89.70 Decreased By ▼ -0.09 (-0.1%)
FCCL 53.46 Increased By ▲ 0.63 (1.19%)
FFL 18.06 Increased By ▲ 0.11 (0.61%)
GGL 19.36 Increased By ▲ 0.39 (2.06%)
HBL 287.30 Increased By ▲ 1.80 (0.63%)
HUBC 215.50 Increased By ▲ 1.12 (0.52%)
HUMNL 10.88 No Change ▼ 0.00 (0%)
KEL 8.10 Increased By ▲ 0.08 (1%)
LOTCHEM 27.80 Decreased By ▼ -0.09 (-0.32%)
MLCF 87.32 Increased By ▲ 0.81 (0.94%)
OGDC 322.72 Increased By ▲ 2.76 (0.86%)
PAEL 40.00 Increased By ▲ 0.58 (1.47%)
PIBTL 16.99 Increased By ▲ 0.32 (1.92%)
PIOC 270.06 Increased By ▲ 4.00 (1.5%)
PPL 229.80 Increased By ▲ 1.62 (0.71%)
PRL 34.90 Increased By ▲ 0.22 (0.63%)
SNGP 99.35 Increased By ▲ 0.17 (0.17%)
SSGC 26.82 Increased By ▲ 0.22 (0.83%)
TELE 8.62 Increased By ▲ 0.34 (4.11%)
TPLP 8.66 Increased By ▲ 0.44 (5.35%)
TRG 69.85 Increased By ▲ 0.14 (0.2%)
UNITY 11.70 Increased By ▲ 0.03 (0.26%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)
پاکستان

بھارت کی جانب سے کشیدگی میں کمی کی شدید خواہش کے بعد پاکستان نے جنگ بندی پر اتفاق کیا

  • دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز کل دوبارہ بات کریں گے تاکہ مستقل جنگ بندی قائم کی جا سکے۔
شائع May 11, 2025 اپ ڈیٹ May 11, 2025 09:13am

طویل کشیدگی کے بعد ایک غیر متوقع اقدام کے طور پر پاکستان اور بھارت نے 12 مئی 2025 کی دوپہر تک کے لیے ایک عارضی جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے،بھارت کی جانب سے کشیدگی میں کمی کی شدید خواہش کے بعد پاکستان نے جنگ بندی پر اتفاق کیا۔

ایک سینئر سرکاری اہلکار کے مطابق جنگ بندی کا اطلاق دس مئی کی شام 4:30 بجے سے ہوگا، جو 12 مئی کی دوپہر تک مؤثر رہے گی۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرلز ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز) 12 مئی کو ایک مستقل حل کے لیے ملاقات کریں گے۔

دونوں ممالک کے حکام نے اس روز کی جھڑپوں کے بعد پیچھے ہٹنے کے عندیے دیے ہیں، کیونکہ دونوں جانب شہری ہلاکتوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 66 ہو گئی ہے۔

پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس پیشرفت کی تصدیق اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر کی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سب سے پہلے اپنی سوشل میڈیا سائٹ ایکس (جو پہلے ٹوئٹر کہلاتی تھی) پر اعلان کیا کہ دونوں جوہری طاقتیں فی الحال جنگ بندی پر متفق ہو گئی ہیں۔ یہ پیشرفت 22 اپریل کو پہلگام واقعے کے بعد دو ہفتوں سے جاری کشیدگی کے بعد سامنے آئی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران، نائب صدر جے ڈی وینس اور میں نے بھارتی اور پاکستانی اعلیٰ حکام سے بات چیت کی، جن میں وزیر اعظم نریندر مودی، وزیراعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ جے شنکر، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر، اور قومی سلامتی مشیران اجیت دوول اور عاصم ملک شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ بھارت اور پاکستان کی حکومتوں نے مکمل اور فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے اوردونوں ایک غیر جانبدار مقام پر وسیع امور پر بات چیت کا آغاز کرینگے۔

باخبر سفارتی ذرائع کے مطابق کئی دوست ممالک کے وزرائے خارجہ نے بھارتی قیادت کا پیغام پاکستان کے نائب وزیر اعظم/وزیر خارجہ کو پہنچایا، جس میں کشیدگی میں کمی اور جنگ بندی کی شدید خواہش کا اظہار کیا گیا تھا۔

اس پیشرفت کو درست تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے خطے میں امن و استحکام کی خاطر جنگ بندی قبول کی ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارت 7 مئی 2025 سے پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی کر رہا تھا، جس سے علاقائی امن کو خطرات لاحق ہو گئے تھے۔ تاہم، پاکستان نے انتہائی ضبط و تحمل کا مظاہرہ کیا۔

بھارت کی ڈرون اور میزائل دراندازیوں نے پہلے ہی سے غیر مستحکم سیکیورٹی ماحول کو مزید خطرناک بنا دیا تھا۔

9 اور 10 مئی کی درمیانی شب، بھارت نے پاکستان ایئر فورس کے متعدد اڈوں اور ہوائی اڈوں پر میزائل حملے کیے۔ بھارت کی مسلسل جارحیت کے تناظر میں، پاکستان کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق استعمال کرنا پڑا۔ کوئی بھی ملک اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔

پاکستان کے اقدام کا مقصد اپنے حق، عزم اور دفاعی صلاحیت کا مظاہرہ تھا۔ پاکستان نے اپنے مقاصد حاصل کر لیے ہیں — اس نے اپنی سرزمین کا کامیابی سے دفاع کیا اور دفاعی توازن بحال کیا۔

ایک سینئر سفارتی ذریعے نے کہا کہ بھارت کی طرف سے دو طرفہ تعلقات میں جارحیت کو ”نیا معمول“ بنانے کی کوششوں کو پاکستان نے ناکام بنایا ہے۔ پاکستان کسی صورت بھارت کو علاقائی بالادستی قائم کرنے یا امن کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دے گا۔

پاکستان نے بھارت کے غیر قانونی اقدامات کی سخت مذمت کی ہے۔ بین الاقوامی قانون کے تحت بھارت کے 7 مئی کے بعد کے اقدامات واضح طور پر جنگی کارروائیوں کے زمرے میں آتے ہیں۔

یہ اقدامات اقوام متحدہ کے چارٹر، عالمی قانون اور بین الاقوامی تعلقات کے مسلمہ اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ بھارت کے غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل نے دونوں جوہری ممالک کو ایک بڑے تصادم کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ بھارت کی جنگجویانہ سوچ اور جنگی جنون پر دنیا کو شدید تشویش ہونی چاہیے۔ جنوبی ایشیا دنیا کی ایک بڑی آبادی کا مسکن ہے، جو ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

بھارت نے بغیر کسی قابلِ تصدیق ثبوت یا غیر جانب دار تحقیقات کے پہلگام حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا۔ 26 اپریل 2025 کو پاکستان کے وزیر اعظم نے اس سانحے کی شفاف اور آزادانہ تحقیقات کے لیے غیر جانبدار ماہرین پر مشتمل کمیشن کی تجویز دی تھی، لیکن بھارت نے جارحیت کا راستہ اختیار کیا۔

گزشتہ کئی ہفتوں کے دوران مختلف ممالک نے فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔ اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) جیسے بین الاقوامی اداروں نے بھی یہی مشورہ دیا۔ تاہم بھارت نے ان اپیلوں کو نظرانداز کیا، جو انتہائی افسوسناک ہے۔

پاکستان نے بحران کے آغاز سے ہی اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کو بھارت کے بدنیتی پر مبنی اقدامات سے آگاہ کیا تھا۔ بھارت کے اقدامات سے واضح ہو گیا کہ پاکستان کے تحفظات بالکل درست تھے۔

پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے پوری قوت کے ساتھ پرعزم ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارت کو اس کے غیر ذمہ دارانہ، غیر قانونی اور جارحانہ رویے پر جوابدہ بنائے۔

ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار کے حوالے سے کہا گیا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کا خواہاں ہے، لیکن امن کے لیے دونوں فریقین کا تعاون ضروری ہے۔ بھارت کو اپنی جارحانہ کارروائیاں بند کرنا ہوں گی۔ پاکستان کسی بھی صورت بھارت کو علاقائی بالادستی قائم کرنے نہیں دے گا۔ پاکستان پر کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

دریں اثنا، وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے متحدہ عرب امارات کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید سے گفتگو کی، جنہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کا خیرمقدم کیا۔

نائب وزیر اعظم/وزیر خارجہ نے خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے کے لیے متحدہ عرب امارات کی تعمیری سفارتی کوششوں کو سراہا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.