ورلڈ بینک نے مالی سال 2025 کے لیے پاکستان کی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو کی پیشگوئی کو 2.8 فیصد سے کم کرکے 2.7 فیصد کر دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر نجی سرمایہ کاری اور برآمدات کو فروغ دینے کے لیے ٹھوس اور مسلسل اصلاحات نہ کی گئیں تو آئندہ چند برسوں میں معاشی ترقی اور غربت کے خاتمے میں مشکلات برقرار رہیں گی۔
ورلڈ بینک کی تازہ رپورٹ ”: پاکستان ڈویلپمنٹ اپ ڈیٹ: ری امیجنگ اے ڈیجیٹل پاکستان“ کے مطابق، پاکستان کا معاشی مستقبل عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام اور حکومتی اصلاحاتی منصوبہ ”اُڑان پاکستان“ پر عمل درآمد سے مشروط ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالیاتی نظم و ضبط، بہتر معاشی حکمت عملی، متوقع غیر ملکی قرضوں کی فراہمی اور اصلاحاتی ایجنڈے میں پیش رفت کے بغیر ترقی کا تسلسل ممکن نہیں۔
ورلڈ بینک کے مطابق مالی سال 2025 میں شرح نمو 2.7 فیصد تک محدود رہے گی، جس کی بنیاد نجی کھپت، سرمایہ کاری، کم افراط زر، اور کاروباری اعتماد میں بہتری ہے۔ مالی سال 2026 میں یہ شرح 3.1 فیصد اور 2027 میں 3.4 فیصد تک پہنچنے کی امید ہے۔ تاہم، سخت مالی پالیسیوں اور اقتصادی استحکام کے اقدامات کے باعث ترقی کی رفتار محدود رہے گی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2025 کی پہلی ششماہی میں غربت کی شرح 25.6 فیصد رہی، جو کہ مالی سال 2024 میں 25.4 فیصد تھی۔ زراعت، تعمیرات اور کم معیار کی خدمات جیسے شعبوں میں کمزور کارکردگی کے باعث غریب طبقے کی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہو سکا۔ دیہی علاقوں میں ایک کروڑ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو سکتے ہیں، خصوصاً چاول اور مکئی کی پیداوار متاثر ہونے کی صورت میں۔
رپورٹ میں مہنگائی کی شرح مالی سال 2025 میں 5 فیصد تک رہنے کی توقع ہے، جو کہ اشیائے ضروریہ اور توانائی کی قیمتوں میں کمی اور مستحکم کرنسی کی وجہ سے ممکن ہو گی۔ تاہم، مالی سال 2026 اور 2027 میں مہنگائی دوبارہ بڑھ کر بالترتیب 6 اور 7 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔
زراعتی شعبے کی ترقی مالی سال 2025 میں صرف 1.7 فیصد تک محدود رہنے کا امکان ہے، جبکہ صنعتوں میں 1.7 فیصد ترقی کی امید ہے۔ درمیانی مدت میں زرعی اور صنعتی شعبے بالترتیب 3.0 اور 2.8 فیصد کی شرح سے ترقی کر سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025 میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس 0.2 فیصد رہنے کی امید ہے، جس کی وجہ مضبوط ترسیلات زر ہوں گی۔ تاہم درمیانی مدت میں درآمدات بڑھنے سے تجارتی خسارہ بڑھے گا اور کرنٹ اکاؤنٹ دوبارہ خسارے میں جا سکتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2025 میں مالی خسارہ (گرانٹس کے بغیر) جی ڈی پی کے 6.8 فیصد پر برقرار رہے گا، جبکہ بنیادی بیلنس میں 1.8 فیصد کا سرپلس متوقع ہے۔ عوامی قرضہ مالی سال 2025 میں جی ڈی پی کے 74.6 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے، جو 2026 میں 77 فیصد کی بلند ترین سطح پر جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دسمبر 2024 کے اختتام تک پاکستان کا مجموعی سرکاری قرضہ 80.6 ٹریلین روپے ہو چکا ہے، جس میں سے 35 فیصد قرضہ بیرونی ہے، جو کرنسی کے اتار چڑھاؤ کے خطرے کو بڑھاتا ہے۔
ورلڈ بینک نے کہا ہے کہ پاکستان کو طویل المدتی پائیدار ترقی کے لیے فوری اصلاحاتی اقدامات کرنے ہوں گے، جن میں شامل ہیں:
- کاروباری قوانین سے ریڈ ٹیپ( بیوروکریٹک رکاوٹیں) کا خاتمہ
- برآمدات کو محدود کرنے والی ٹیرف پالیسیوں کا خاتمہ
- ٹیکس نظام میں بہتری اور براہ راست ٹیکسوں کا دائرہ وسیع کرنا
- سرکاری اداروں کی کارکردگی میں بہتری اور نجی شراکت داری کو فروغ دینا
- کرنسی کی قدر کا تعین مارکیٹ پر چھوڑنا
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں، جیسے سیلاب، نے زرعی پیداوار اور انفراسٹرکچر کو شدید متاثر کیا ہے۔ مشرق وسطیٰ اور مشرقی یورپ میں جاری جغرافیائی تنازعات، عالمی شرح سود میں اضافہ، اور تجارتی تحفظ پسندی جیسے عوامل بھی معیشت کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر نجی بن حسین نے کہا ہے کہ ”پاکستان کا اصل چیلنج استحکام سے ترقی کی طرف جانا ہے، جو غربت کے خاتمے کے لیے ضروری ہے۔“ ان کے مطابق، ٹیکس اصلاحات، آزاد کرنسی نظام، برآمدات دوست پالیسی، اور کاروباری ماحول کو بہتر بنا کر سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025
























Comments
Comments are closed.