پاکستان اور افغانستان نے ایک دوسرے کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کی سرزمین کو دہشت گردی یا کسی اور غیر قانونی سرگرمی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ عزم نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی کابل کے ایک روزہ دورے کے دوران افغان قیادت سے ملاقاتوں میں ظاہر کیا گیا۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کابل میں افغان عبوری وزیراعظم ملا حسن اخند، نائب وزیراعظم ملا عبدالسلام حنفی اور وزیر خارجہ امیر خان متقی سے تفصیلی ملاقاتیں کیں۔ دفتر خارجہ کے مطابق ان ملاقاتوں میں سیکیورٹی، تجارت، ٹرانزٹ، علاقائی روابط اور عوامی سطح پر تعلقات کے فروغ سمیت دوطرفہ دلچسپی کے تمام امور پر گفتگو کی گئی۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ دونوں ممالک نے باہمی تجارت کو فروغ دینے، ٹرانزٹ سہولیات بہتر بنانے اور معاشی تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 30 جون 2025 سے ”ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم“ فعال کیا جائے گا تاکہ سرحد پار تجارت کو تیز کیا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر 500 کنٹینرز کے لیے ”کراس اسفنگ“ کی سہولت فراہم کی جائے گی جس سے ٹرانزٹ تجارت کی لاگت کم ہو گی۔ اس کے علاوہ طورخم بارڈر پر ”انٹیگریٹڈ ٹرانزٹ ٹریڈ مینجمنٹ سسٹم“ بھی 30 جون سے فعال کر دیا جائے گا۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کا عمل عزت و احترام سے مکمل کیا جائے گا، اور ان کی املاک و اثاثے محفوظ رہیں گے۔ کسی بھی غیر قانونی یا امتیازی کارروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی اور سیکیورٹی ادارے اس حوالے سے موثر نگرانی کریں گے۔
افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے پاکستان میں افغان مہاجرین کے حالات پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی، ٹرانزٹ اور مشترکہ منصوبوں میں توسیع پر بھی زور دیا۔
ملاقاتوں میں ویزوں کی فراہمی میں آسانی، زرعی اجناس کی ترسیل، تجارتی وفود کا تبادلہ، اور اہم علاقائی منصوبوں جیسے افغان ٹرانس ریل لائن، کاسا-1000، تاپی، اور ٹی اے پی پر خصوصی توجہ دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
فریقین نے ان امور پر عملدرآمد کے لیے مشترکہ کمیٹیوں کے قیام پر اتفاق کیا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔
پاکستانی وفد میں افغانستان کے لیے خصوصی نمائندہ سفیر صادق خان، معاون خصوصی طارق باجوہ، وفاقی سیکرٹریز برائے تجارت، ریلوے اور داخلہ سمیت دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے۔
اسحاق ڈار نے افغان وزیر خارجہ کو پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت بھی دی تاکہ اعلیٰ سطحی روابط کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.