پاکستان اور بنگلہ دیش نے کراچی اور چٹاگانگ بندرگاہوں کے درمیان براہ راست شپنگ کے آغاز کا خیرمقدم کیا ہے اور جلد ہی براہ راست فضائی رابطوں کی بحالی کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں ممالک نے سفری اور ویزا سہولتوں میں پیش رفت پر اطمینان کا اظہار بھی کیا
عالمی و علاقائی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے دونوں فریقین نے سارک کو اس کے بنیادی اصولوں کے مطابق دوبارہ فعال بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ سیکریٹری خارجہ نے بنگلہ دیشی قیادت کے وژن کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ سارک کا عمل دو طرفہ سیاسی معاملات سے متاثر نہیں ہوگا۔
واضح رہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان سیکریٹری خارجہ سطح کے چھٹے دو طرفہ مشاورتی مذاکرات 17 اپریل 2025 کو ڈھاکہ میں 15 سال کے وقفے کے بعد منعقد ہوئے۔
سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ (پاکستان) اور سیکرٹری خارجہ محمد جاشم الدین (بنگلہ دیش) کی سربراہی میں ہونے والے مذاکرات خوشگوار ماحول میں ہوئے۔
دونوں فریقین نے سیاسی، اقتصادی، ثقافتی، تعلیمی اور اسٹریٹجک تعاون پر مبنی ایک جامع تبادلہ خیال کیا، جو مشترکہ تاریخ، ثقافتی قربت اور عوامی امنگوں پر مبنی ہے۔ دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق، نیویارک، قاہرہ، ساموا اور جدہ میں حالیہ اعلیٰ سطح روابط پر اطمینان کا اظہار کیا گیا جنہوں نے دو طرفہ تعلقات کو نئی توانائی فراہم کی ہے۔
دونوں ممالک نے باقاعدہ ادارہ جاتی بات چیت، زیر التواء معاہدوں کو جلد حتمی شکل دینے اور تجارت، زراعت، تعلیم اور رابطہ سازی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
پاکستان نے اپنی زرعی جامعات میں تعلیمی مواقع کی پیشکش کی، جبکہ بنگلہ دیش نے ماہی گیری اور میری ٹائم اسٹڈیز میں تکنیکی تربیت کی پیشکش کی۔ بنگلہ دیشی فریق نے پاکستان کی نجی جامعات کی جانب سے دی گئی اسکالرشپ کی پیشکش کو سراہا اور تعلیم کے شعبے میں گہرے تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
بنگلہ دیشی وفد نے ڈھاکہ میں معروف پاکستانی فنکاروں کی حالیہ پرفارمنس کو سراہا، جبکہ پاکستانی فریق نے باہمی ثقافتی تبادلوں کی حوصلہ افزائی کی۔ کھیل، میڈیا اور ثقافتی اداروں کے شعبوں میں وسیع تر تعاون کے امکانات پر بات چیت ہوئی، جن میں مختلف مفاہمتی یادداشتوں کو حتمی شکل دینا بھی شامل تھا۔
دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق سیکرٹری خارجہ نے بنگلہ دیشی وفد کو بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کیا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے جلد حل کی ضرورت پر زور دیا۔
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے فریقین نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں بالخصوص غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی۔
علاوہ ازیں سیکرٹری خارجہ نے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس اور مشیر خارجہ محمد توحید حسین سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ملاقات میں علاقائی انضمام، اقتصادی روابط اور دوطرفہ تعلقات کو بیرونی دباؤ سے محفوظ رکھنے کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں ممالک کے درمیان مستقبل کی شراکت داری کے لیے ایک مشترکہ عزم کا اظہار سامنے آیا۔ بنگلہ دیشی مشیر نے پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کے متوقع دورہ بنگلہ دیش کا خیرمقدم کیا۔
سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ نے پاکستانی قیادت کی جانب سے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ مشاورتی عمل کا اگلا دور 2026 میں اسلام آباد میں ہوگا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.