BR100 Increased By (1.02%)
BR30 Increased By (1.71%)
KSE100 Increased By (0.58%)
KSE30 Increased By (0.65%)
BAFL 58.65 Increased By ▲ 0.21 (0.36%)
BIPL 25.45 Increased By ▲ 0.25 (0.99%)
BOP 34.23 Increased By ▲ 0.24 (0.71%)
CNERGY 8.16 Increased By ▲ 0.05 (0.62%)
DFML 20.96 Increased By ▲ 0.12 (0.58%)
DGKC 197.81 Increased By ▲ 4.84 (2.51%)
FABL 89.78 Decreased By ▼ -0.01 (-0.01%)
FCCL 53.80 Increased By ▲ 0.97 (1.84%)
FFL 18.03 Increased By ▲ 0.08 (0.45%)
GGL 19.95 Increased By ▲ 0.98 (5.17%)
HBL 286.00 Increased By ▲ 0.50 (0.18%)
HUBC 215.78 Increased By ▲ 1.40 (0.65%)
HUMNL 11.00 Increased By ▲ 0.12 (1.1%)
KEL 8.07 Increased By ▲ 0.05 (0.62%)
LOTCHEM 27.59 Decreased By ▼ -0.30 (-1.08%)
MLCF 87.90 Increased By ▲ 1.39 (1.61%)
OGDC 324.25 Increased By ▲ 4.29 (1.34%)
PAEL 39.95 Increased By ▲ 0.53 (1.34%)
PIBTL 17.32 Increased By ▲ 0.65 (3.9%)
PIOC 273.90 Increased By ▲ 7.84 (2.95%)
PPL 233.49 Increased By ▲ 5.31 (2.33%)
PRL 34.98 Increased By ▲ 0.30 (0.87%)
SNGP 99.70 Increased By ▲ 0.52 (0.52%)
SSGC 27.20 Increased By ▲ 0.60 (2.26%)
TELE 8.57 Increased By ▲ 0.29 (3.5%)
TPLP 8.78 Increased By ▲ 0.56 (6.81%)
TRG 71.50 Increased By ▲ 1.79 (2.57%)
UNITY 11.66 Decreased By ▼ -0.01 (-0.09%)
WTL 1.27 Decreased By ▼ -0.01 (-0.78%)

ایرانی صدر ڈاکٹر ابراہیم رئیسی کی میڈیا سے بات چیت اور استقبالیہ سیکیورٹی اداروں کے تحفظات کی وجہ سے منسوخ کر دیا گیا۔

ایرانی سفیر رضا امیری موغدام نے بڑی تعداد میں صحافیوں کو ایک استقبالیہ میں مدعو کیا تھا جس کی میزبانی انہوں نے ایرانی صدر رئیسی کے ساتھ مقامی ہوٹل میں کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

تاہم سیکیورٹی اداروں کی جانب سے کلیئرنس نہ ملنے کی وجہ سے تقریب منسوخ کردی گئی۔

ایرانی سفارت خانے کی طرف سے مدعو افراد کو بھیجے گئے پیغام میں کہا گیا کہ آپ کو مطلع کیا جاتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی کے دورے پاکستان کے پروگرام کو میزبان ملک [پاکستان] نے ترتیب دیا ہے۔ پروگراموں اور سرکاری میٹنگوں کے وقت میں کچھ تبدیلیوں کی وجہ سے اور سیکورٹی ایجنسیوں کے تحفظات کی وجہ سے 22 اپریل بروز پیر شیش محل ہال، سرینا ہوٹل میں ہونے والا پروگرام منسوخ کر دیا گیا ہے،اس پیغام کا مقصد آپ سے معذرت کرنا ہے۔

ایرانی صدر رئیسی اپنی اہلیہ اور کابینہ کے وزراء، تاجروں اور دیگر اعلیٰ حکام پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ پاکستان کے تین روزہ سرکاری دورے پر پہنچے ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر،

Comments

Comments are closed.