آئندہ وفاقی بجٹ پر پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مشاورت
- وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب سےآئی ایم ایف وفد کی ملاقات
آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کی تیاریاں جاری ہیں جب کہ حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر اہم مالیاتی امور اور منصوبوں پر غور کررہی ہے۔
بدھ کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف مشن کو پاکستان کے میکرو اکنامک آؤٹ لک، مالیاتی حکمتِ عملی، اصلاحاتی ترجیحات، اور پائیدار معاشی استحکام اور طویل مدتی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کی جاری کوششوں کے بارے میں بریفنگ دی۔
مذاکرات کا محور پاکستان کی معاشی استحکام کی کوششیں، آئندہ وفاقی بجٹ کی تیاریاں اور اصلاحات کا وہ وسیع ایجنڈا رہا جس کا مقصد مالیاتی اور بیرونی استحکام کو مضبوط بناتے ہوئے پائیدار معاشی ترقی کو فروغ دینا ہے۔
دونوں اطراف نے اصلاحات کے تسلسل کو برقرار رکھنے، معاشی استحکام کو قائم رکھنے اور ساختی اصلاحات کو آگے بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا تاکہ ایک متوازن اور مستقبل بین پالیسی فریم ورک کے تحت سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت اور برآمدات پر مبنی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔
آئی ایم ایف وفد کو اسلام آباد آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے محمد اورنگزیب نے حکومتِ پاکستان کے ساتھ آئی ایم ایف کے مسلسل تعاون اور تعمیری مذاکرات کو سراہا۔
محمد اورنگزیب نے پاکستان کے بیرونی شعبے کے حوالے سے حوصلہ افزا پیش رفت سے آگاہ کیا اور ترسیلاتِ زر اور برآمدی کارکردگی میں مثبت رجحانات پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے نوٹ کیا کہ حالیہ اعدادوشمار ماہانہ اور سالانہ دونوں بنیادوں پر برآمدات میں بہتری کی نشاندہی کرتے ہیں جو معیشت میں بڑھتی لچک اور میکرو اکنامک بنیادوں کی بتدریج مضبوطی کی عکاسی کرتے ہیں۔
وفاقی وزیرِ خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ معاشی استحکام کی کوششوں کے حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوئے ہیں، تاہم حکومت معیشت کو درپیش ساختی چیلنجز، خاص طور پر بیرونی واجبات اور پائیدار و برآمدات پر مبنی ترقی کی رفتار تیز کرنے کی ضرورت سے پوری طرح باخبر ہے۔
انہوں نے طویل مدتی ترقی کے امکانات پر سمجھوتہ کیے بغیر معاشی استحکام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اصلاحات کو گہرا کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔
اس سلسلے میں انہوں نے ساختی اصلاحات، پیداواری صلاحیت میں اضافے، ڈی ریگولیشن اور برآمدی مسابقت میں بہتری کے ذریعے پاکستان کو بار بار آنے والے اتار چڑھاؤ سے نکالنے کی اہمیت پر زور دیا۔
محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ حکومت کا اصلاحاتی ایجنڈا بین الاقوامی ماہرین اور ماہرینِ معاشیات کی مشاورت سے انتہائی احتیاط کے ساتھ مرتب کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جاری پالیسی اقدامات قلیل مدتی مقاصد کے لیے نہیں ہیں بلکہ یہ ایک وسیع تر اور تکنیکی بنیادوں پر استوار معاشی تبدیلی کی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں جس کی اعلیٰ ترین سطح پر توثیق کی گئی ہے۔
انہوں نے مشن کو بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ پاکستان کے مسلسل رابطوں کے بارے میں بھی بریفنگ دی جس میں چین کے ساتھ جاری معاشی تعاون کے اقدامات اور ملک کی تزویراتی (اسٹریٹجک) معاشی ترجیحات کے مطابق طویل مدتی سرمایہ کاری کے حصول کی کوششیں شامل ہیں۔
مشن چیف ایوا پیٹرووا کی سربراہی میں آنے والے آئی ایم ایف کے وفد نے مشکل عالمی اور علاقائی ماحول کے باوجود معاشی استحکام برقرار رکھنے میں پاکستان کی جانب سے کی گئی مثبت پیش رفت کا اعتراف کیا۔
مشن نے محتاط معاشی نظم و نسق اور اصلاحات کے نفاذ کے لیے حکومت کے مسلسل عزم کو سراہا۔
آئی ایم ایف کی ٹیم نے اصلاحات کے تسلسل کو برقرار رکھنے، مالیاتی نظم و ضبط قائم رکھنے اور پائیدار و ہمہ گیر معاشی ترقی کے لیے ساختی اصلاحات کو آگے بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔ ملاقات کے دوران وسیع تر میکرو اکنامک فریم ورک، حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے اور آئندہ بجٹ کی ترجیحات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
مشن نے ملک کے معاشی اصلاحاتی پروگرام اور طویل مدتی معاشی استحکام کی حمایت میں حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے اور تعمیری تعاون کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
ملاقات میں گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، سیکرٹری فنانس ڈویژن امداد اللہ بوسال، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) راشد محمود لنگڑیال، اور فنانس و ریونیو ڈویژن کے سینیئر حکام کے ساتھ ساتھ ٹیکس پالیسی آفس کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔
قبل ازیں اسٹیٹ بینک نے اعلان کیا کہ اسے آئی ایم ایف سےای ایف ایف اور آر ایس ایف کے تحت تقریباً 1.3 ارب ڈالر موصول ہوئے ہیں۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق یہ رقم 15 مئی 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے زرمبادلہ ذخائر میں ظاہر کی جائے گی۔
پاکستان کے لیے 37 ماہ کے ای ایف ایف پروگرام کی منظوری 25 ستمبر 2024 کو دی گئی تھی جس کا مقصد معاشی لچک پیدا کرنا اور پائیدار ترقی کو ممکن بنانا ہے۔
دریں اثنا ذرائع نے اس سے قبل بزنس ریکارڈر کو بتایا تھا کہ حکومت آئندہ بجٹ میں کسی نئے ٹیکس کے نفاذ کا ارادہ نہیں رکھتی اور ریونیو ہدف حاصل کرنے کے لیے انفورسمنٹ اور انتظامی اقدامات پر انحصار کیا جائے گا جس کا تخمینہ 778 سے 780 ارب روپے کے درمیان لگایا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں ٹیکس دہندگان کو ریلیف فراہم کیے جانے کی توقع ہے جبکہ حکام ممکنہ ریونیو نقصانات کو پورا کرنے کے لیے آمدن پیدا کرنے کے متبادل اقدامات پر انحصار کریں گے۔
























Comments