BR100 Decreased By (-0.07%)
BR30 Decreased By (-0.15%)
KSE100 No Change (0%)
KSE30 No Change (0%)
BAFL 61.73 Decreased By ▼ -0.40 (-0.64%)
BIPL 29.22 Increased By ▲ 0.80 (2.81%)
BOP 37.37 Increased By ▲ 0.24 (0.65%)
CNERGY 8.49 Decreased By ▼ -0.01 (-0.12%)
DFML 20.10 Decreased By ▼ -0.42 (-2.05%)
DGKC 233.26 Decreased By ▼ -0.72 (-0.31%)
FABL 103.85 Decreased By ▼ -0.33 (-0.32%)
FCCL 57.75 Decreased By ▼ -0.88 (-1.5%)
FFL 17.89 Decreased By ▼ -0.21 (-1.16%)
GGL 26.22 Decreased By ▼ -0.21 (-0.79%)
HBL 318.59 Increased By ▲ 0.44 (0.14%)
HUBC 233.44 Decreased By ▼ -2.21 (-0.94%)
HUMNL 11.20 Decreased By ▼ -0.05 (-0.44%)
KEL 8.11 Decreased By ▼ -0.06 (-0.73%)
LOTCHEM 30.54 Decreased By ▼ -0.02 (-0.07%)
MLCF 107.06 Decreased By ▼ -2.45 (-2.24%)
OGDC 343.32 Decreased By ▼ -5.40 (-1.55%)
PAEL 47.02 Increased By ▲ 0.30 (0.64%)
PIBTL 18.62 Decreased By ▼ -0.24 (-1.27%)
PIOC 280.55 Decreased By ▼ -5.66 (-1.98%)
PPL 246.82 Decreased By ▼ -5.84 (-2.31%)
PRL 37.25 Increased By ▲ 0.80 (2.19%)
SNGP 118.34 Decreased By ▼ -2.21 (-1.83%)
SSGC 31.94 Decreased By ▼ -0.41 (-1.27%)
TELE 9.18 Increased By ▲ 0.09 (0.99%)
TPLP 13.32 Increased By ▲ 0.78 (6.22%)
TRG 67.50 Increased By ▲ 0.20 (0.3%)
UNITY 10.61 Decreased By ▼ -0.14 (-1.3%)
WTL 1.27 Increased By ▲ 0.01 (0.79%)
کاروبار اور معیشت

وزیر خزانہ نے ایس ایم ای فنانس ٹاسک فورس کے قیام کا اعلان کر دیا

  • حالیہ بجٹ میں ایڈوانس ٹیکس، سبسڈیز اور سپر ٹیکس میں نمایاں کمی کی گئی ہے، محمد اورنگزیب
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) کے لیے مالی سہولتوں کے فروغ کی غرض سے ایک خصوصی فنانس ٹاسک فورس کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت برآمدات پر مبنی معاشی ترقی، مالیاتی اصلاحات اور نجی شعبے کی قیادت میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے جامع اقدامات کر رہی ہے۔

پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (پی بی اے) کے زیر اہتمام کراچی میں منعقدہ پاکستان بینکنگ سمٹ 2026 سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حالیہ بجٹ میں ایڈوانس ٹیکس، سبسڈیز اور سپر ٹیکس میں نمایاں کمی کی گئی ہے، جبکہ 50 کروڑ روپے تک سالانہ کاروبار رکھنے والی کمپنیوں کے لیے سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایس ایم ایز کو مطلوبہ مالی سہولتیں میسر نہیں آ رہیں، اس لیے حکومت جزوی کریڈٹ گارنٹی اسکیموں، رعایتی قرضوں اور خصوصی مالی معاونت کو مزید وسعت دے گی، خاص طور پر چھوٹے کسانوں، ایس ایم ایز اور برآمدی صنعتوں کے لیے۔ اس کے ساتھ قرض کی سرمایہ منڈی (ڈیٹ کیپیٹل مارکیٹ) کو بھی فروغ دیا جائے گا تاکہ حکومت کے قرضوں کے لیے کمرشل بینکوں پر انحصار کم ہو۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں میں واپسی کی تیاری کر رہا ہے اور اس مقصد کے لیے یورو بانڈز، سکوک اور پہلی مرتبہ ڈالر میں تصفیہ ہونے والے روپے سے منسلک بانڈز جاری کیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ وزارت خزانہ نے عالمی سرمایہ کاری بینکوں اور مالیاتی اداروں سے ان بانڈز کی ساخت، قیمتوں اور سرمایہ کاری سے متعلق تجاویز طلب کر لی ہیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کی معاشی حکمت عملی کا محور برآمدات میں اضافہ، صنعتی مسابقت اور پائیدار ترقی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال ترسیلات زر تقریباً 41 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جبکہ گزشتہ سال پہلی مرتبہ رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد تین لاکھ سے تجاوز کر گئی اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئی لسٹنگز 11 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے ٹیکس پالیسی آفس کو وزارت خزانہ کے ماتحت منتقل کر دیا ہے تاکہ ٹیکس فیصلے صرف محصولات کے بجائے معاشی ضروریات کو مدنظر رکھ کر کیے جائیں۔ مزید برآں درمیانی مدت کی ٹیکس حکمت عملی بھی متعارف کرائی جائے گی تاکہ آئندہ چار سے پانچ برس کے لیے کاروباری برادری کو پالیسی کا واضح روڈ میپ مل سکے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ پارلیمنٹ نے مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ اور بڑے لینگویج ماڈلز پر مبنی نئے ٹیکس انتظامی نظام کی منظوری دی ہے، جس سے انسانی مداخلت کم، شفافیت میں اضافہ اور ہراسانی و بدعنوانی میں کمی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نجکاری، کلائمیٹ فنانس اور ڈیجیٹل معیشت کو بھی ترجیح دے رہی ہے، جبکہ ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ 2026 کے بعد لائسنس یافتہ ورچوئل اثاثہ سروس فراہم کنندگان کے لیے بینک اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت بھی دے دی گئی ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف