دنیا

امریکہ اور ایران کے درمیان حملوں میں تیزی، امن معاہدے کی خلاف ورزی پر ایک دوسرے پر الزامات کا تبادلہ

  • اسرائیل کا نبطیہ میں حزب اللہ کمانڈر کو مارنے اور راکٹ لانچر تباہ کرنے کا دعویٰ، کویت نے دو بیلسٹک میزائل مار گرائے، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا
شائع June 28, 2026 اپ ڈیٹ June 28, 2026 04:40pm

خلیج میں امریکہ اور ایران کے درمیان فضائی اور میزائل حملوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے، جبکہ دونوں فریقین نے ایک دوسرے پر چار ماہ طویل جنگ کے خاتمے کے لیے دو ہفتے قبل ہونے والے عبوری امن معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایران کو فوجی کارروائی کے ذریعے ”کام تمام کرنے“ اور صفحہ ہستی سے مٹانے کی دھمکی کے بعد ایران نے اتوار کی صبح کویت اور بحرین میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر میزائلوں اور ڈرونز سے بمباری کی۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی کارروائیوں کے بعد اب تمام سفارتی عمل معطل ہو جائے گا۔ کویتی فوج نے دو بیلسٹک میزائل مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ بحرین میں ایک رہائشی عمارت کو نقصان پہنچا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ان حملوں میں فی الحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ہفتے کو آبنائے ہرمز میں پاناما کے ایک آئل ٹینکر پر ایرانی ڈرون حملے کے جواب میں جنوبی ایران کے شہر سیریک میں فضائی نگرانی، مواصلات اور فضائی دفاعی نظام پر تازہ حملے کیے ہیں۔ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی 20 فیصد تیل اور گیس کی سپلائی ہوتی ہے، پر کنٹرول کے لیے کشیدگی برقرار ہے۔ ادھر لبنان کے جنوبی علاقے نبطیہ میں بھی اسرائیل نے ایران کے حامی گروپ حزب اللہ کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے، جس سے خطے میں عبوری جنگ بندی شدید خطرات سے دوچار ہو گئی ہے۔