آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر پر حملہ، ایران اور امریکا میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی
- برطانیہ کی میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے مطابق حملے میں ٹینکر کے برج (بریج) کو نقصان پہنچا، تاہم تمام عملہ محفوظ رہا۔
آبنائے ہرمز میں ہفتے کے روز ایک آئل ٹینکر پر میزائل نما ہتھیار سے حملے کی اطلاع ملی ہے، جس کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ عبوری امن معاہدے کے باوجود کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ برطانیہ کی میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے مطابق حملے میں ٹینکر کے برج (بریج) کو نقصان پہنچا، تاہم تمام عملہ محفوظ رہا۔
امریکا اور ایران نے ایک دوسرے پر دو ہفتے قبل طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اس نے رات بھر ایران کے مختلف اہداف کو نشانہ بنایا، جبکہ تہران نے دعویٰ کیا کہ اس نے امریکی افواج سے منسلک فوجی اہداف پر دفاعی کارروائی کی ہے۔
یہ تازہ حملہ جمعرات کو ایک مال بردار جہاز پر ہونے والے حملے کے بعد پیش آیا، جس نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا دیا۔ مشترکہ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر نے حالیہ واقعات کے پیش نظر بحری سلامتی کے خطرے کی سطح بھی بلند کر دی ہے۔
ایران نے مخصوص بحری حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق پاسداران انقلاب نے ایرانی ہدایات کے بغیر گزرنے والے بعض جہازوں پر وارننگ شاٹس فائر کیے، جس کے بعد کئی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایرانی اجازت حاصل کرنے لگے ہیں۔
ادھر لبنان کے جنوبی علاقے نباتیہ میں اسرائیلی ڈرون حملے کی بھی اطلاعات ہیں۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ حملہ اس شخص پر کیا گیا جو اس کی فورسز کے لیے خطرہ تھا، جبکہ حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان حالیہ جنگ بندی معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے اسے کالعدم قرار دیا ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا نے جنگ بندی معاہدے کی مکمل پاسداری کی ہے اور اگر ایران کو معاہدے پر کوئی اعتراض ہے تو اسے سفارتی ذرائع استعمال کرنے چاہییں۔ ان کا کہنا تھا کہ تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا۔
دوسری جانب، جنگ کے باعث خلیج میں پھنسے سیکڑوں تجارتی اور آئل بردار جہازوں کی آمدورفت بحال ہونا شروع ہوئی ہے، جس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب آ گئی ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق مکمل بحالی اسی صورت ممکن ہوگی جب آبنائے ہرمز کو بحری جہازوں کے لیے دوبارہ محفوظ سمجھا جائے۔