اسٹاک ایکسچینج میں مندی، انڈیکس 800 سے زائد پوائنٹس گرگیا
- بینچ مارک انڈیکس 832.57 پوائنٹس یا 0.51 فیصد کمی کے بعد 161,542.30 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں پیر کو کاروبار کے آغاز پر فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 800 سے زائد پوائنٹس گر گیا۔ یہ صورت حال مانیٹری پالیسی کمیٹی کی جانب سے شرحِ سود میں اضافے کی توقعات کے درمیان سامنے آئی، جس کا اجلاس آج متوقع ہے۔
صبح 9 بج کر 50 منٹ پر بینچ مارک انڈیکس 832.57 پوائنٹس یا 0.51 فیصد کمی کے بعد 161,542.30 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
اہم شعبوں میں فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جن میں آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینک، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں، بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں اور ریفائنریز شامل ہیں۔ انڈیکس پر زیادہ اثرانداز ہونے والے حصص، جن میں حبکو، او جی ڈی سی، ماری، پی پی ایل، ایچ بی ایل، ایم ای بی ایل اور این بی پی شامل ہیں، منفی زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔
ایک اہم پیش رفت کے تحت اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس آج (پیر) منعقد ہونا ہے، جس میں کلیدی پالیسی ریٹ کا جائزہ لیا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کو توقع ہے کہ غیر یقینی صورت حال برقرار رہنے کے باعث مہنگائی اور بیرونی شعبے کو درپیش ممکنہ طویل مدتی جھٹکوں کے اثرات کم کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک شرحِ سود میں 50 بیسس پوائنٹس اضافہ کر سکتا ہے۔
گزشتہ ہفتے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مسلسل گراوٹ کا سلسلہ پانچویں ہفتے بھی جاری رہا۔ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس ہفتہ وار بنیاد پر 4,044.84 پوائنٹس یا 2.4 فیصد گر کر 162,374.84 پوائنٹس پر بند ہوا۔ برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں تیزی کے باعث پاکستان کا تجارتی خسارہ بڑھنے اور مسلسل جغرافیائی سیاسی کشیدگی نے ملکی معیشت کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال کو مزید گہرا کر دیا۔
عالمی سطح پر پیر کو اسٹاک مارکیٹوں میں محتاط انداز میں کاروبار ہوا، کیونکہ خام تیل کی قیمتیں چھ ماہ کی بلند ترین سطح سے نیچے آگئیں۔ سرمایہ کاروں کی نظریں مرکزی بینکوں کے اجلاسوں اور کمپنیوں کے مالی نتائج سے بھرپور رواں ہفتے پر ہیں، جو مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی کے حوالے سے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید آزمائیں گے۔
قطر کے ثالثوں کی جانب سے اتوار کو تہران میں موجودگی کی اطلاعات کے بعد، جس کا مقصد امریکا کے ساتھ رابطہ کاری کے ذریعے علاقائی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں حصہ لینا تھا، برینٹ خام تیل کی قیمت 1.6 فیصد کم ہو کر 114.88 ڈالر فی بیرل رہ گئی۔
حوثی حملوں کے باعث سعودی عرب میں توانائی کی فراہمی کے حوالے سے خدشات بڑھنے پر گزشتہ ہفتے برینٹ فیوچرز کی قیمت میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا تھا اور یہ 2022 کے وسط کے بعد اپنی بلند ترین ہفتہ وار اختتامی سطح پر پہنچ گئی تھی۔ امریکی خام تیل کے فیوچرز کی قیمت 1.9 فیصد کمی کے بعد 101.29 ڈالر فی بیرل رہی۔
جاپان کا نکیئی انڈیکس 0.5 فیصد گر گیا، جبکہ گزشتہ ہفتے اس میں 4.0 فیصد کمی ہوئی تھی۔ جنوبی کوریا کا مرکزی انڈیکس 1.1 فیصد نیچے آگیا، جو رواں ماہ اب تک تقریباً 20 فیصد گر چکا ہے۔ جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے حصص کی نمائندگی کرنے والے ایم ایس سی آئی کے وسیع تر انڈیکس میں 0.1 فیصد کمی ہوئی۔
چین کے بڑے اور مستحکم حصص میں 1.0 فیصد کمی ہوئی، کیونکہ حکمراں کمیونسٹ پارٹی نے بیجنگ میں اپنا پانچواں عمومی اجلاس شروع کر دیا۔ ملکی طلب کے حوالے سے خدشات کے باعث چینی مارکیٹ مسلسل 11 ہفتوں سے گر رہی ہے، اگرچہ برآمدات اب بھی مضبوط ہیں۔
تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پیدا ہونے والا مہنگائی کا دباؤ ان تمام مرکزی بینکوں کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے جن کے اجلاس اس ہفتے ہو رہے ہیں۔ شرحِ سود میں اضافہ اب وقت کی بات دکھائی دیتا ہے، چاہے بعض مرکزی بینک فی الحال شرح برقرار رکھنے کا فیصلہ کریں۔
یہ انٹرا ڈے اپ ڈیٹ ہے۔






















Comments