BR100 Decreased By (-0.87%)
BR30 Decreased By (-1.08%)
KSE100 Decreased By (-0.81%)
KSE30 Decreased By (-0.88%)
BAFL 55.30 Increased By ▲ 0.09 (0.16%)
BIPL 24.20 Increased By ▲ 0.03 (0.12%)
BOP 27.53 Decreased By ▼ -0.39 (-1.4%)
CNERGY 12.40 Increased By ▲ 0.05 (0.4%)
DFML 15.85 Decreased By ▼ -0.33 (-2.04%)
DGKC 176.80 Decreased By ▼ -1.41 (-0.79%)
FABL 89.98 Decreased By ▼ -0.43 (-0.48%)
FCCL 49.99 Decreased By ▼ -0.03 (-0.06%)
FFL 13.47 Decreased By ▼ -0.16 (-1.17%)
GGL 18.89 Decreased By ▼ -0.06 (-0.32%)
HBL 281.00 Decreased By ▼ -4.75 (-1.66%)
HUBC 187.45 Decreased By ▼ -3.19 (-1.67%)
HUMNL 8.10 Decreased By ▼ -0.19 (-2.29%)
KEL 5.57 Decreased By ▼ -0.06 (-1.07%)
LOTCHEM 23.35 Decreased By ▼ -0.58 (-2.42%)
MLCF 86.35 Decreased By ▼ -1.19 (-1.36%)
OGDC 298.80 Decreased By ▼ -1.70 (-0.57%)
PAEL 32.26 Decreased By ▼ -0.51 (-1.56%)
PIBTL 12.66 Decreased By ▼ -0.20 (-1.56%)
PIOC 224.00 Decreased By ▼ -3.68 (-1.62%)
PPL 210.40 Decreased By ▼ -3.80 (-1.77%)
PRL 96.25 Increased By ▲ 1.13 (1.19%)
SNGP 89.95 Decreased By ▼ -0.70 (-0.77%)
SSGC 22.60 Increased By ▲ 0.05 (0.22%)
TELE 6.69 Decreased By ▼ -0.05 (-0.74%)
TPLP 11.36 Increased By ▲ 0.08 (0.71%)
TRG 53.77 Decreased By ▼ -0.96 (-1.75%)
UNITY 7.66 Decreased By ▼ -0.03 (-0.39%)
WTL 0.90 No Change ▼ 0.00 (0%)
بی آر ریسرچ

اسموگ، کیا پنجاب میں بہتری آسکے گی؟

  • پنجاب حکومت بظاہر اس مسئلے کو زیادہ سنجیدگی سے لے رہی ہے
شائع اپ ڈیٹ

اسموگ کا موسم ایک بار پھر آن پہنچا ہے۔ موسمِ سرما کی آمد کے ساتھ ہی لاہور اور پنجاب کے دیگر علاقوں میں فضائی معیار مزید خراب ہونے کے ایک اور دور کی تیاری کی جارہی ہے۔ شہریوں کے لیے خدشات وہی پرانے ہیں۔ مضرِ صحت ہوا، سانس کی بیماریاں، بیرونی سرگرمیوں پر پابندیاں اور روزمرہ زندگی میں خلل۔ گزشتہ کئی برسوں کے دوران اسموگ صحتِ عامہ کا ایک بار بار سامنے آنے والا بحران بن چکی ہے، جبکہ فضائی معیار میں کوئی نمایاں اور دیرپا بہتری نہیں آئی۔

تاہم، اس بار ایک بات مختلف ہے۔ پنجاب حکومت بظاہر اس مسئلے کو زیادہ سنجیدگی سے لے رہی ہے، جس کا اظہار اس معاملے پر بڑھتی ہوئی سیاسی توجہ، فنڈز میں اضافے اور فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے زیادہ منظم حکمتِ عملی سے ہوتا ہے۔ گزشتہ برسوں کے برعکس، جب حکومتی ردعمل زیادہ تر اسموگ کے عروج کے مہینوں میں ہنگامی اقدامات تک محدود رہتا تھا، اب حکومت سال بھر فضائی معیار کو بہتر بنانے اور اس کے انتظام کے لیے ایک جامع نظام کی جانب بڑھ رہی ہے۔

ان کوششوں کا مرکزی حصہ عالمی بینک کے تعاون سے شروع کیا گیا 30 کروڑ ڈالر کا پنجاب کلین ایئر پروگرام (پی سی اے پی) ہے، جو 2025 سے 2030 تک جاری رہے گا۔ اس پروگرام کا مقصد اگلی دہائی کے دوران پی ایم 2.5 (باریک مضر ذرات) سے شہریوں کی متاثر ہونے کی شرح میں 35 فیصد کمی لانا ہے۔ اس کے تحت ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت اور فضائی معیار کے انتظام پر توجہ دی جائے گی، بالخصوص لاہور ڈویژن میں۔

حکومت فضائی آلودگی کی نگرانی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی وسعت دے رہی ہے۔ پنجاب کے محکمہ تحفظِ ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی (ای پی سی سی ڈی) کے مطابق، صوبے میں فضائی معیار کی نگرانی کے 59 اسٹیشن موجود ہیں، جبکہ اس نیٹ ورک کو بڑھا کر 100 اسٹیشنوں تک لے جانے کا منصوبہ ہے۔ لاہور ایئر امپروومنٹ فریم ورک کے مجوزہ منصوبے پر 4 ارب 35 کروڑ روپے لاگت آنے کا تخمینہ ہے۔ اس کا مقصد اخراج کی جدید نگرانی، آلودگی سے متعلق معلوماتی نظام اور خلاف ورزیوں کے خلاف ہدفی کارروائی کے طریقۂ کار متعارف کرانا ہے۔

ٹیکنالوجی اس حکمتِ عملی کا ایک اہم حصہ بنتی جارہی ہے۔ حکومت صنعتی اخراج کی نگرانی، آلودگی کے بڑے مراکز کی نشاندہی اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا پتا لگانے کے لیے ڈرونز، سی سی ٹی وی کیمروں اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام استعمال کررہی ہے۔ صنعتی چمنیوں کی نگرانی کے لیے 8,500 سے زیادہ کیمرے استعمال کیے جارہے ہیں، جبکہ صنعتوں میں قواعد کی پابندی کو مؤثر بنانے کے لیے اخراج کی مسلسل نگرانی کے نظام متعارف کرانے کا منصوبہ ہے۔ فضائی معیار میں ممکنہ خرابی سے پہلے خبردار کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی پیش گوئی کا نظام بھی تیار کیا جارہا ہے۔

آلودگی کے بنیادی ذرائع سے نمٹنے کے لیے بھی اقدامات کیے جارہے ہیں۔ حکومت برقی عوامی ٹرانسپورٹ کو فروغ دے رہی ہے، پنجاب کلین ایئر پروگرام کے تحت 1 لاکھ 20 ہزار برقی دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کی فراہمی میں معاونت کررہی ہے اور گاڑیوں کے اخراج کی جانچ کے نظام کو مزید سخت بنانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ زراعت کے شعبے میں فصلوں کی باقیات جلانے کی حوصلہ شکنی کے لیے 7,273 سپر سیڈرز تقسیم کیے جاچکے ہیں، جبکہ مجموعی ہدف 10,000 مشینوں کی فراہمی ہے۔ تعمیراتی سرگرمیوں سے اٹھنے والی گردوغبار کو قابو کرنے، ایندھن کے معیار کی جانچ بہتر بنانے اور صنعتوں میں قواعد پر عمل درآمد کو مضبوط کرنے کے اقدامات بھی کیے جارہے ہیں۔

یہ اقدامات حکمتِ عملی میں ایک خوش آئند تبدیلی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ برسوں تک پنجاب میں اسموگ سے نمٹنے کے طریقۂ کار کو تنقید کا سامنا رہا، کیونکہ یہ پیشگی منصوبہ بندی کے بجائے ردعمل پر مبنی تھا اور عارضی پابندیوں اور ہنگامی اقدامات پر انحصار کرتا تھا۔ نگرانی، ضابطہ بندی اور صاف ستھری ٹیکنالوجی پر بڑھتی ہوئی توجہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اب فضائی آلودگی کو ایک ایسے بنیادی اور دیرپا مسئلے کے طور پر تسلیم کرنے لگی ہے جس کے لیے مسلسل توجہ ضروری ہے۔

تاہم اصل چیلنج ان منصوبوں کو صاف ہوا میں تبدیل کرنا ہے۔ حکومت کی موجودہ حکمتِ عملی کا بڑا حصہ اب بھی آلودگی کم کرنے کے بجائے اس کی نگرانی پر مرکوز دکھائی دیتا ہے۔ سینسرز، ڈرونز، مصنوعی ذہانت کے نظام اور نگرانی کے کیمرے آلودگی پھیلانے والوں کی نشاندہی تو کرسکتے ہیں، لیکن خود سے اخراج ختم نہیں کرسکتے۔ اس منصوبے میں ٹرانسپورٹ، صنعت اور زراعت جیسے بڑے ذرائع سے اخراج کم کرنے کے لیے واضح اور عوامی سطح پر قابلِ پیمائش سالانہ اہداف بھی ناکافی ہیں۔ اسی طرح، قوانین پر عمل درآمد کی صلاحیت، صنعتوں میں صاف ایندھن کے استعمال، قواعد کی پابندی پر آنے والے اخراجات اور مختلف محکموں کے درمیان رابطہ کاری کے حوالے سے بھی سوالات موجود ہیں۔ اسموگ ٹاورز اور بڑے پیمانے پر شجرکاری جیسے منصوبوں کے مقامی سطح پر کچھ ماحولیاتی فوائد ہوسکتے ہیں، لیکن شہر بھر میں پی ایم 2.5 کی سطح کم کرنے میں ان کا کردار محدود رہنے کا امکان ہے۔

بین الاقوامی تجربات اس حوالے سے اہم اسباق فراہم کرتے ہیں۔ بیجنگ نے صنعتی اخراج کے معیارات سخت کرکے، کوئلے کے استعمال میں کمی لاکر اور گاڑیوں سے ہونے والی آلودگی پر قابو پاکر فضائی معیار میں نمایاں بہتری حاصل کی۔ لندن نے زیادہ آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں پر سخت پابندیاں عائد کیں، جبکہ سیئول نے پرانی ڈیزل گاڑیوں کو تبدیل کرنے اور اخراج پر کنٹرول مضبوط بنانے پر توجہ دی۔ یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ فضائی معیار میں دیرپا بہتری نگرانی کی ٹیکنالوجی پر بنیادی انحصار کرنے کے بجائے آلودگی کے اصل ذرائع سے اخراج کم کرنے اور قوانین پر مستقل عمل درآمد یقینی بنانے سے حاصل ہوتی ہے۔

تھائی لینڈ بھی اسموگ سے نمٹنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کررہا ہے۔ اس مقصد کے لیے فصلوں کی باقیات جلانے پر سخت کنٹرول، گاڑیوں کے اخراج کے مزید سخت معیارات اور صنعتی سرگرمیوں کی نگرانی کے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ بنکاک میں اسموگ کے 2025-26 کے موسم کے دوران پی ایم 2.5 کی اوسط سطح گزشتہ موسم کے مقابلے میں 15 فیصد کم ہونے کی اطلاع دی گئی ہے، تاہم فضائی آلودگی اب بھی ایک سنگین چیلنج ہے۔

پنجاب میں حالیہ کوششوں کے تحت توجہ، فنڈز اور ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافہ حوصلہ افزا ہے، لیکن ان اقدامات کے مؤثر نفاذ اور جواب دہی سے ہی طے ہوگا کہ آیا وہ کوئی بامعنی تبدیلی لاسکتے ہیں یا نہیں۔

بالآخر کامیابی کا پیمانہ نصب کیے جانے والے نگرانی کے اسٹیشنوں کی تعداد، لگائے جانے والے کیمروں یا اعلان کردہ منصوبوں کی تعداد نہیں ہوگا۔ اصل پیمانہ یہ ہوگا کہ آیا پنجاب کے شہری صاف ہوا میں سانس لے سکیں گے یا نہیں، اور وہ بھی صرف اسموگ کے ایک موسم میں نہیں بلکہ پورا سال۔

Comments

200 حروف