شرح سود بڑھے گی یا برقرار رہے گی؟ فیصلہ آج ہوگا
- اسٹیٹ بینک مہنگائی اور بیرونی شعبے پر طویل مدتی دباؤ کم کرنے کے لیے پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس اضافہ کرے گا، ٹاپ لائن
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) آج بروز پیر مالی سال 2026-27 کے تیسرے اجلاس میں پالیسی ریٹ کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس منعقد کرے گی۔
14 ستمبر کو ہونے والے گزشتہ اجلاس میں مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے مارکیٹ کی توقعات کے مطابق پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔
ایم پی سی کے بیان میں کہا گیا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری طویل تنازع میں حالیہ شدت کے باعث پہلے ہی بلند عالمی اجناس کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے، جبکہ سپلائی چین میں رکاوٹیں بھی برقرار ہیں۔
تاہم بیان کے مطابق ملکی معیشت سے متعلق حالیہ اعداد و شمار مجموعی طور پر کمیٹی کی توقعات کے مطابق رہے۔ اگست میں عمومی مہنگائی کی سالانہ شرح جولائی کے 9.2 فیصد سے بڑھ کر 11.1 فیصد ہوگئی، جبکہ بنیادی مہنگائی توقعات سے معمولی کم رہی۔
متعدد تجزیہ کاروں کو توقع ہے کہ اسٹیٹ بینک آئندہ اجلاس میں شرح سود بڑھا دے گا۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے کہا کہ عالمی جغرافیائی سیاسی صورتحال میں مسلسل غیر یقینی اور عالمی توانائی کی سپلائی چین پر اس کے اثرات کے پیش نظر توقع ہے کہ اسٹیٹ بینک مہنگائی اور بیرونی شعبے پر طویل مدتی دباؤ کم کرنے کے لیے پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس اضافہ کرے گا۔
اسی طرح ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی جانب سے مارکیٹ کے شرکا کے درمیان کیے گئے سروے میں 61 فیصد جواب دہندگان نے آج کے اجلاس میں شرح سود بڑھنے کی توقع ظاہر کی۔ ان میں سے 54 فیصد نے 50 بیسس پوائنٹس جبکہ 7 فیصد نے 100 بیسس پوائنٹس اضافے کا امکان ظاہر کیا۔ دوسری جانب 39 فیصد شرکا نے توقع ظاہر کی کہ پالیسی ریٹ برقرار رکھا جائے گا۔
ٹاپ لائن کے مطابق، خام تیل کی موجودہ قیمت یعنی برینٹ کی 100 ڈالر فی بیرل سطح کو مدنظر رکھتے ہوئے مالی سال 2026-27 میں عمومی مہنگائی کی اوسط شرح 9 سے 9.5 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ اس طرح موجودہ 11.5 فیصد پالیسی ریٹ پر حقیقی شرح سود 200 سے 250 بیسس پوائنٹس رہے گی۔
فاؤنڈیشن سیکیورٹیز نے بھی مانیٹری پالیسی کمیٹی کی جانب سے شرح سود میں 50 بیسس پوائنٹس اضافے کی توقع ظاہر کی ہے۔
ادارے نے کہا کہ اسے توقع ہے کہ پیر 26 اکتوبر 2026 کو ہونے والے اجلاس میں کمیٹی پالیسی ریٹ 50 بیسس پوائنٹس بڑھا کر 12 فیصد کردے گی۔
فاؤنڈیشن سیکیورٹیز کے مطابق مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے ہدف سے زیادہ مہنگائی برقرار رہنے، مہنگائی کی توقعات بڑھنے، حقیقی شرح سود محدود ہونے اور معاشی نمو میں تیزی آنے کے باعث محتاط اور پیشگی اضافہ ضروری ہے۔
ادارے نے کہا کہ 50 بیسس پوائنٹس اضافے سے اکتوبر 2026 کی مہنگائی کے اپنے تخمینے کی بنیاد پر حقیقی شرح سود تقریباً 2.5 فیصد ہوجائے گی، جو ستمبر 2026 میں تقریباً 1.2 فیصد تھی۔
دوسری جانب پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اسٹیٹ بینک پر زور دیا ہے کہ پالیسی ریٹ برقرار رکھا جائے۔
پائیڈ نے کہا کہ اگرچہ خطرات کا توازن اب شرح سود بڑھانے کے حق میں ہوگیا ہے، تاہم موجودہ معاشی حالات فوری اضافے کے لیے مضبوط جواز فراہم نہیں کرتے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں مہنگائی کا منظرنامہ اب بھی مشکل لیکن ملا جلا ہے۔ ستمبر میں عمومی مہنگائی کم ہوکر 10.26 فیصد ہوگئی، جبکہ خوراک اور توانائی کو نکال کر مہنگائی کی شرح میں بھی کمی آئی۔
تاہم پائیڈ نے کہا کہ اوسط سے غیر معمولی طور پر بلند مہنگائی، ہفتہ وار قیمتوں کا دباؤ اور گھریلو سطح پر مہنگائی سے متعلق بڑھتے خدشات مسلسل نگرانی کے متقاضی ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ دستیاب شواہد سے ابھی تک طلب میں وسیع پیمانے پر غیر معمولی تیزی یا مہنگائی کے دوسرے دور کے اثرات کے عمومی پھیلاؤ کی تصدیق نہیں ہوتی۔
پائیڈ کے مطابق اس لیے پیشگی سختی کے بجائے مشروط طور پر پالیسی ریٹ برقرار رکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔






















Comments