عالمی توانائی ایجنسی کو 2027 میں بھی توانائی منڈیوں کی جنگ سے پہلے کی سطح پر واپسی کی توقع نہیں
- حکومتوں اور کاروباری اداروں کو توانائی کے تحفظ کو اولین ترجیح بناتے ہوئے مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار رہنا چاہیے، فاتح بیرول
عالمی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے سربراہ فاتح بیرول نے کہا ہے کہ انہیں توقع نہیں کہ ایران جنگ کے باعث عالمی توانائی منڈیاں 2027 میں جنگ سے پہلے کی صورتحال پر واپس آجائیں گی۔
سنگاپور انٹرنیشنل انرجی ویک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فاتح بیرول نے کہا کہ فروری کے اواخر میں شروع ہونے والی جنگ نے عالمی توانائی کی ترسیل متاثر کی ہے، جس کے نتیجے میں تیل کے نرخوں اور صاف شدہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
انہوں نے کہا کہ حکومتوں اور کاروباری اداروں کو توانائی کے تحفظ کو اولین ترجیح بناتے ہوئے مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
سعودی عرب میں حوثی حملوں کے بعد جمعے کو برینٹ خام تیل کے نرخ تقریباً چھ ماہ کی بلند ترین سطح 117 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے۔ پیر کو قیمتوں میں کمی آئی، تاہم تیل اب بھی جنگ سے پہلے کی سطح سے تقریباً 59 فیصد مہنگا تھا۔
بیرول کے مطابق تقریباً 120 ڈالر فی بیرل تیل کی قیمتیں دنیا کے کئی ممالک کے تجارتی خسارے پر نمایاں دباؤ ڈال رہی ہیں۔
انہوں نے سردیوں میں ڈیزل کی بڑھتی طلب اور یورپ میں گیس کی فراہمی سے متعلق خدشات بھی ظاہر کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے جوہری توانائی کے شعبے کی بحالی کو تقویت مل سکتی ہے۔ عالمی سطح پر 90 گیگاواٹ صلاحیت کے جوہری بجلی گھر زیر تعمیر ہیں، جو گزشتہ چار دہائیوں میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔






















Comments