ٹرمپ کی ایران کے خلاف ایک اور فوجی کارروائی کی دھمکی
- ٹرمپ جنگ کے مقاصد اور اس کے خاتمے کی مدت کے حوالے سے مختلف بیانات دیتے رہے ہیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف ایک اور فوجی کارروائی کرسکتا ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران کے ساتھ جنگ کو آٹھ ماہ مکمل ہونے والے ہیں اور ایندھن کی بڑھتی قیمتیں امریکی وسط مدتی انتخابات پر اثرانداز ہورہی ہیں۔
ٹرمپ نے جمعہ کو فلوریڈا میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایک اور ایپک فیوری آپریشن کرسکتا ہے۔ یہ ایران کے خلاف جنگ کے لیے امریکی فوج کی جانب سے استعمال کی جانے والی اصطلاح ہے۔ تاہم، انہوں نے ممکنہ کارروائی کے حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
امریکی صدر نے اسی روز اس امکان کا بھی اظہار کیا کہ امریکا جنگ جلد ختم کرسکتا ہے، تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا واشنگٹن کو تنازع فوری طور پر ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے یا اسے بتدریج اختتام کی جانب بڑھنے دینا چاہیے۔
ٹرمپ جنگ کے مقاصد اور اس کے خاتمے کی مدت کے حوالے سے مختلف بیانات دیتے رہے ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران حالیہ تقاریر میں بھی انہوں نے کہا کہ جنگ کسی نہ کسی طرح جلد ختم ہوجائے گی۔
ٹرمپ نے رواں ماہ کہا تھا کہ امریکا 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔ ان انتخابات میں کانگریس کے کنٹرول کا فیصلہ ہوگا۔ اس وقت ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ، دونوں میں معمولی اکثریت حاصل ہے۔
امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملے کیے تھے، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور ان خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا جہاں امریکی فوجی اڈے قائم ہیں۔
ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں، جبکہ لبنان پر اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں افراد مارے اور لاکھوں بے گھر ہوچکے ہیں۔ جنگ کے باعث عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں تہران وسیع پیمانے پر جوابی کارروائی کرسکتا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران کے دو اعلیٰ سکیورٹی حکام نے بتایا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ممکنہ نئے حملوں کے پیش نظر ایران نے خلیج میں زیرِ سمندر مواصلاتی کیبلز کو نشانہ بنانے کے تفصیلی منصوبے تیار کرلیے ہیں۔



















Comments