پاکستان نے ایران کے خلاف امریکی بحریہ کی اپنی سرزمین سے کارروائیوں کا دعویٰ مسترد کردیا
- من گھڑت پروپیگنڈا کیا گیا کہ امریکی بحریہ مبینہ طور پر پاکستان کی منظوری سے پاکستانی سرزمین سے ایران کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے، وزارت اطلاعات
پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے کہ امریکی بحریہ اسلام آباد کی منظوری سے ایران کے خلاف پاکستانی سرزمین سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ وزارت نے ان دعوؤں کو بے بنیاد پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔
وزارت اطلاعات نے اپنے فیکٹ چیک اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ یہ دعویٰ شمالی امریکا میں قائم ایک سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے سامنے آیا، جس کے بعد اسے مزید پھیلایا گیا۔
وزارت نے کہا شمالی امریکا میں قائم ایک اکاؤنٹ کی جانب سے من گھڑت پروپیگنڈا کیا گیا کہ امریکی بحریہ مبینہ طور پر پاکستان کی منظوری سے پاکستانی سرزمین سے ایران کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس دعوے کو بعد ازاں مزید پھیلایا گیا۔ یہ بے بنیاد ہے اور اس وسیع تر ایجنڈے کا حصہ ہے جس کا مقصد الجھن، غلط فہمیوں اور افراتفری کو ہوا دینا ہے۔
وزارت نے اپنے بیان میں کہا کہ سچائی ہمیشہ جھوٹ پر غالب آتی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اس سے چند گھنٹے قبل پاکستان نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر جنوب مغربی صوبے بلوچستان میں ایران کے ساتھ سرحد کے آرپار تجارت عارضی طور پر معطل کر دی تھی۔ ایک ضلعی عہدیدار نے ہفتے کو یہ بات بتائی، جبکہ تاجروں نے سرحد بند ہونے سے بھاری مالی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا۔
چاغی کے ڈپٹی کمشنر بختیار اسماعیل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ایران کے ساتھ سرحد کے ذریعے تجارت عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور ایران کی سرحد کی بندش سرحدی انتظام کو بہتر بنانے اور انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں میں معاونت کے لیے ایک عارضی اقدام ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مؤثر اقدامات مکمل ہوتے ہی سرحد کھول دی جائے گی۔

























Comments