پاکستان اور بحرین کا مشترکہ ورکنگ گروپس فعال بنانے، تجارتی تعلقات وسعت دینے پر اتفاق
- دونوں ممالک نے افرادی قوت کی نقل و حرکت، فنی تربیت اور انسانی وسائل کی ترقی میں تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا، وزیر خارجہ اسحاق ڈار
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اور بحرین نے دوطرفہ تعلقات کے ادارہ جاتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپس کو فعال کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
بحرینی ہم منصب ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی کے ہمراہ اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ طریقہ کار پاکستان بحرین مشترکہ وزارتی کمیشن (جی ایم سی) کے تحت باقاعدہ روابط اور فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائے گا۔ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی جمعرات کی صبح سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچے، جہاں ایئرپورٹ پر سیکریٹری اقتصادی امور ڈویژن محمد ہمایوں کریم اور ایڈیشنل سیکریٹری (مشرق وسطیٰ) زاہد حسین نے ان کا استقبال کیا۔
اس سے قبل دفتر خارجہ نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ دونوں وزرائے خارجہ نے دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا، اعلیٰ سطح کے روابط میں مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور تجارت، معیشت اور سرمایہ کاری سمیت کثیرالجہتی فورمز پر تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ دونوں ممالک نے مشترکہ وزارتی کمیشن کے تیسرے اجلاس کے پروٹوکول پر دستخط کیے، جو باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون مزید گہرا کرنے کے مشترکہ عزم کا عکاس ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں جانب سے تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ، صنعتی تعاون، زراعت و غذائی تحفظ، ہنرمندی کی ترقی، اعلیٰ تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی، لاجسٹکس اور بحری امور میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان روابط میں اضافے کا بھی خیرمقدم کیا۔
اسحاق ڈار نے بحرین میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کو دونوں ممالک کے درمیان مضبوط پل قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے افرادی قوت کی نقل و حرکت، فنی تربیت اور انسانی وسائل کی ترقی میں تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے، تاکہ ہنرمند پاکستانی پیشہ ور افراد اور کارکنوں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے جاسکیں۔
علاقائی صورتحال
اسحاق ڈار نے کہا کہ دونوں وزرائے خارجہ نے خلیج کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور تحمل، کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب سے بحری آمدورفت کی سلامتی اور آزادی یقینی بنانا ضروری ہے کیونکہ یہ دونوں راستے علاقائی اور عالمی غذائی و توانائی کے تحفظ کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
فلسطین کے معاملے پر اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام اور ان کے ناقابل تنسیخ حقوق کے لیے پاکستان کی اصولی حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے غیر قانونی بستیوں میں مسلسل توسیع اور القدس الشریف کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے غزہ تک بلا رکاوٹ انسانی امداد کی رسائی اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق منصفانہ اور پائیدار حل پر زور دیا۔
مذاکرات میں جنوبی ایشیا کی صورتحال، افغانستان اور سندھ طاس معاہدے سمیت دیگر امور بھی زیر بحث آئے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے اس امر کی ضرورت پر زور دیا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کا بھارتی فیصلہ ’’بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی‘‘ ہے اور مشترکہ آبی وسائل کو سیاسی ہتھیار بنانے کی ’’خطرناک کوشش‘‘ ہے۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات پاکستان کے 25 کروڑ عوام کے پانی، خوراک اور توانائی کے تحفظ کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
ورکنگ گروپس اور آزاد تجارتی معاہدہ
بحرینی وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف الزیانی نے میزبانی پر حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مشترکہ وزارتی کمیشن کے تیسرے اجلاس کے متفقہ نکات میں 15 سے زائد شعبے شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک نے تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے اور توانائی کے مشترکہ ورکنگ گروپ کا اجلاس آئندہ ماہ بلانے پر اتفاق کیا ہے، جس میں تیل، گیس اور معدنیات پر بات چیت ہوگی۔ غذائی تحفظ، آئی ٹی، قانون نافذ کرنے والے اداروں، میڈیا، افرادی قوت کی نقل و حرکت، صحت، تعلیم، ثقافت اور کھیل کے شعبوں میں بھی تعاون آگے بڑھایا جائے گا۔
بحرینی وزیر خارجہ نے کہا کہ دونوں ممالک خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) اور پاکستان کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے پرعزم ہیں، جبکہ اس حوالے سے پیش رفت کا جائزہ آئندہ سال بحرین میں ہونے والے مشترکہ وزارتی کمیشن کے چوتھے اجلاس میں لیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ بحرین نے جاری بحران کے دوران پاکستان کے اصولی مؤقف کو سراہا، جس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 کی حمایت اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کی کوششیں شامل ہیں، جن کے لیے اسلام آباد مذاکرات کی میزبانی بھی کرچکا ہے۔
سعودی عرب پر حملوں کی مذمت
بحرینی وزیر خارجہ نے 6 اور 7 اکتوبر کو سعودی عرب کے ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کی، جن میں شہری اور مقیم افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔
انہوں نے سعودی عرب میں شہریوں اور شہری تنصیبات کے ساتھ ساتھ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے مقدس مقامات پر حوثی حملوں کی بھی مذمت کی۔
انہوں نے کہا کہ بحرین سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے، کیونکہ سعودی عرب کی سلامتی بحرین اور خلیج تعاون کونسل کی سلامتی کا لازمی حصہ ہے۔ انہوں نے حملوں میں جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت بھی کی۔
الزیانی نے کہا کہ دونوں فریقوں نے آبنائے ہرمز اور باب المندب میں تجارتی بحری جہازوں پر جاری حملوں پر بھی تبادلہ خیال کیا اور بحری آمدورفت کی آزادی و سلامتی اور بین الاقوامی قانون کے احترام پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کے غیر مستقل ارکان کی حیثیت سے دونوں ممالک قریبی رابطہ برقرار رکھیں گے اور نیویارک میں اپنے مستقل مشنز کے درمیان بھی تعاون جاری رکھیں گے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور بحرین تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے پرعزم ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان دوستی مضبوط اور مستقبل پر مرکوز ہے۔























Comments