آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی فروخت میں اضافہ، بنیادی طلب بدستور کمزور
- ماہانہ بنیاد پر بہتری کی بڑی وجہ ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) رہا، جس کی فروخت میں ماہانہ بنیاد پر تقریباً 25 فیصد اضافہ ہوا۔
پاکستان کی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی کے اختتام پر مجموعی فروخت میں اضافہ ریکارڈ کیا ہے، تاہم مجموعی شرح نمو کے اعدادوشمار بنیادی ایندھن کی طلب میں جاری کمزوری کو چھپا رہے ہیں۔ ستمبر 2026 میں پٹرولیم مصنوعات کی فروخت 1.35 ملین ٹن رہی، جو سالانہ بنیاد پر تقریباً 2 فیصد کم، تاہم اگست 2026 کے مقابلے میں تقریباً 7 فیصد زیادہ ہے۔
ماہانہ بنیاد پر بہتری کی بڑی وجہ ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) رہا، جس کی فروخت میں ماہانہ بنیاد پر تقریباً 25 فیصد اضافہ ہوا۔
یہ موسمی اضافہ ممکنہ طور پر فصلوں کی کٹائی اور ربیع کی بوائی کے عرصے کے دوران زرعی سرگرمیوں سے منسلک ہے۔
تاہم ایچ ایس ڈی کی فروخت گزشتہ سال ستمبر کے مقابلے میں اب بھی 11 فیصد کم رہی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماہانہ بنیاد پر ہونے والی بحالی کو ٹرانسپورٹ، زراعت یا صنعتی طلب میں وسیع پیمانے پر بحالی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

موٹر اسپرٹ (ایم ایس) کی طلب بدستور دباؤ کا شکار رہی۔ پٹرول کی فروخت سالانہ بنیاد پر 5 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 2 فیصد کم ہوئی۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ ایم ایس کی فروخت میں کمزوری ظاہر کرتی ہے کہ گھریلو اور نقل و حرکت سے متعلق طلب قیمتوں کے حوالے سے حساس ہے۔
البتہ فرنس آئل (ایف او) بدستور ایک نمایاں استثنا ہے۔ ستمبر 2026 میں فرنس آئل کی فروخت ایک سال قبل ریکارڈ کی گئی سطح سے تقریباً سات گنا زیادہ رہی۔ اس اضافے کو محدود آر ایل این جی کی دستیابی کے باعث فرنس آئل سے بجلی کی زیادہ پیداوار سے منسلک کیا گیا ہے۔ اس سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی مجموعی فروخت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، تاہم یہ بنیادی پٹرولیم طلب میں مضبوطی کا ثبوت نہیں۔ درحقیقت فرنس آئل کو نکال کر دیکھا جائے تو ستمبر کی فروخت سالانہ بنیاد پر تقریباً 8 فیصد کم رہی۔
پہلی سہ ماہی کے لیے بھی یہی فرق اہم ہے۔ مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی میں پٹرولیم مصنوعات کی مجموعی فروخت سالانہ بنیاد پر تقریباً 6 فیصد بڑھ کر 4.11 ملین ٹن ہوگئی۔ موٹر اسپرٹ کی فروخت میں 4 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فروخت 3 فیصد کم ہوئی۔ دوسری جانب مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی میں فرنس آئل کی فروخت مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں 5 گنا سے زیادہ بڑھ گئی۔

تاہم فرنس آئل کو نکال دیا جائے تو مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی میں فروخت سالانہ بنیاد پر تقریباً مستحکم رہی۔ طلب کی صورتحال کو شاید یہی بات زیادہ واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی کھپت مستحکم ہوئی ہے، لیکن وسیع البنیاد اور مضبوط بحالی ابھی سامنے نہیں آئی۔
لہٰذا مستقبل کی صورتحال ملی جلی رہنے کا امکان ہے۔ موسمی زرعی اور مال برداری کی سرگرمیوں سے ڈیزل کی طلب کو کچھ سہارا مل سکتا ہے، جبکہ معاشی سرگرمیوں میں بتدریج بہتری سے موٹراسپرٹ کی فروخت میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ تاہم ایندھن کی بلند قیمتیں کھپت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ برقرار ہیں۔ اسی دوران فرنس آئل کی فروخت کا انحصار بجلی پیدا کرنے کے ذرائع کے امتزاج اور آر ایل این جی کی دستیابی پر نمایاں طور پر رہے گا۔























Comments