BR100 Decreased By (-0.4%)
BR30 Decreased By (-0.65%)
KSE100 Decreased By (-0.29%)
KSE30 Decreased By (-0.22%)
BAFL 56.50 Increased By ▲ 0.03 (0.05%)
BIPL 24.78 Increased By ▲ 0.15 (0.61%)
BOP 29.93 Decreased By ▼ -0.19 (-0.63%)
CNERGY 12.72 Decreased By ▼ -0.26 (-2%)
DFML 18.48 Increased By ▲ 0.99 (5.66%)
DGKC 187.07 Decreased By ▼ -0.15 (-0.08%)
FABL 93.18 Decreased By ▼ -0.53 (-0.57%)
FCCL 51.13 Decreased By ▼ -0.52 (-1.01%)
FFL 14.41 Decreased By ▼ -0.08 (-0.55%)
GGL 18.80 Decreased By ▼ -0.24 (-1.26%)
HBL 302.29 Decreased By ▼ -1.49 (-0.49%)
HUBC 198.64 Decreased By ▼ -0.32 (-0.16%)
HUMNL 9.68 Decreased By ▼ -0.17 (-1.73%)
KEL 5.97 Decreased By ▼ -0.09 (-1.49%)
LOTCHEM 26.25 Increased By ▲ 0.08 (0.31%)
MLCF 90.14 Decreased By ▼ -1.09 (-1.19%)
OGDC 314.62 Increased By ▲ 1.23 (0.39%)
PAEL 34.77 Decreased By ▼ -0.47 (-1.33%)
PIBTL 14.20 Decreased By ▼ -0.51 (-3.47%)
PIOC 234.00 Decreased By ▼ -5.62 (-2.35%)
PPL 220.66 Decreased By ▼ -0.70 (-0.32%)
PRL 90.35 Decreased By ▼ -0.87 (-0.95%)
SNGP 90.36 Decreased By ▼ -0.51 (-0.56%)
SSGC 23.27 Decreased By ▼ -0.03 (-0.13%)
TELE 7.36 Decreased By ▼ -0.25 (-3.29%)
TPLP 12.10 Decreased By ▼ -0.46 (-3.66%)
TRG 54.39 Decreased By ▼ -1.40 (-2.51%)
UNITY 7.95 Decreased By ▼ -0.07 (-0.87%)
WTL 1.00 No Change ▼ 0.00 (0%)
رائے

گانٹھوں میں موجود پانی : ملکی چارے کی برآمدات کی اصل قیمت کیا ہے؟

  • سعودیہ اور ابوظبی اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ بذریعہ آبپاشی چارہ اگانا محدود آبی وسائل کا انتہائی مہنگا استعمال ہے
شائع اپ ڈیٹ

سعودی عرب اور ابوظبی دونوں اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ آبپاشی کے ذریعے چارہ اگانا محدود آبی وسائل کا انتہائی مہنگا استعمال ہے۔

2010 میں ابوظبی نے پانی کی ضرورت بہت زیادہ ہونے کے باعث روڈز گراس کی کاشت روکنے کا فیصلہ کیا، جس کے بعد ہزاروں کاشتکاروں نے اس کی پیداوار بند کردی۔ سعودی عرب نے بھی 2018 میں اپنے ختم ہوتے آبی ذخائر پر دباؤ کم کرنے کے لیے مقامی سطح پر سبز چارے کی کاشت محدود کردی۔ اس پالیسی کے نتیجے میں مقامی پیداوار میں نمایاں کمی متوقع تھی، جس کا خلا درآمدات سے پُر کیا گیا۔

دونوں ممالک نے اپنے مویشیوں کو چارہ دینا بند نہیں کیا، بلکہ پانی کا بوجھ دوسرے ملکوں پر منتقل کردیا۔ جانور خلیج میں ہی رہے، مگر پانی کی طلب بیرونِ ملک منتقل ہوگئی۔

یہ ورچوئل واٹر تجارت کی واضح مثال ہے۔ فصل سرحد پار منتقل ہوجاتی ہے، لیکن اسے اگانے میں استعمال ہونے والا پانی برآمد کنندہ ملک ہی سے حاصل کیا جاتا ہے، خواہ وہ دریا، نہر یا زیرِ زمین آبی ذخیرے سے نکالا گیا ہو۔

اب پاکستان بھی خلیجی ممالک کی اس طلب کو پورا کرنا چاہتا ہے۔ جون 2025 کو ختم ہونے والے مالی سال میں پاکستان نے تقریباً 10 لاکھ ٹن حیوانی خوراک برآمد کی، جس سے 11 کروڑ ڈالر سے زیادہ آمدنی حاصل ہوئی۔ اس شعبے سے وابستہ افراد اگلے پانچ برس میں اسے ایک ارب ڈالر کی صنعت بنانے کی بات کررہے ہیں۔

بظاہر یہ ایک آسان موقع دکھائی دیتا ہے : پاکستان گھاس اگائے، خلیجی ممالک اپنے مویشیوں کو چارہ دیں اور ملک میں زرمبادلہ آئے۔ تاہم ہر گانٹھ میں اسے اگانے کے لیے استعمال ہونے والا پانی بھی شامل ہوتا ہے۔ جب یہ پانی پہلے ہی دباؤ کا شکار دریا یا کم ہوتے زیرِ زمین ذخیرے سے حاصل کیا جائے تو پاکستان اپنے محدود آبی وسائل خلیجی مویشیوں کی معیشت کے لیے منتقل کررہا ہوتا ہے۔

خریدار یہ حساب پہلے ہی کرچکے ہیں، لیکن پاکستان نے ابھی تک یہ کام نہیں کیا۔

چاول، کپاس اور چینی سے متعلق میرے سابقہ مضامین میں ایسی اجناس کا جائزہ لیا گیا جن میں پانی کی اہمیت کو نظرانداز یا اس کی درست قیمت مقرر نہیں کی گئی۔ چارے کا معاملہ اس سے بھی بنیادی مسئلہ سامنے لاتا ہے۔

پاکستان برآمدات کو فروغ دے رہا ہے، لیکن اسے ابھی تک یہ واضح طور پر معلوم نہیں کہ برآمد کیا ہورہا ہے : فصلوں کی باقیات یا خاص طور پر برآمد کے لیے اگایا جانے والا چارہ۔ برآمدی ہدف مقرر کرلیا گیا ہے، مگر پانی کا حساب موجود نہیں۔

توسیع سے پہلے پاکستان کو تین سوالوں کے جواب دینا ہوں گے : کیا چیز برآمد کی جارہی ہے؟ اس میں کتنا پانی شامل ہے؟ اور اس پانی سے کتنی آمدنی حاصل ہورہی ہے؟ پاکستان پہلے سوال کا جواب بھی اعتماد سے نہیں دے سکتا۔

تقریباً 11 کروڑ ڈالر کی مجموعی برآمدی مالیت میں اناج کا بھوسا اور چھلکے، خشک گھاس اور چارہ، چوکر، تیل دار فصلوں کی کھل اور تیار شدہ حیوانی خوراک سب شامل ہیں۔

ان مصنوعات کی قدر اور پانی کی ضرورت ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ بھوسا اور چارہ حجم کا زیادہ حصہ ہیں، لیکن مجموعی مالیت میں ان کا حصہ تقریباً نصف ہے۔ عام بھوسا اور چھلکے غالب ہیں، جبکہ زیادہ قدر والا چارہ، مثلاً لوسرن اور الفالفا، بہت کم مقدار میں شامل ہے۔

فی ٹن حاصل ہونے والی آمدنی معمولی ہے اور یہ اعداد و شمار اس کامیابی سے بہت دور ہیں جو سرخی سے ظاہر ہوتی ہے۔

یہ فرق انتہائی اہم ہے۔ بھوسا اناج کی فصل کا ضمنی پیداوار ہوتا ہے، اس لیے اناج اگانے میں استعمال ہونے والے پانی کا صرف مناسب حصہ بھوسے کے کھاتے میں شامل کیا جانا چاہیے۔ اس کے برعکس الفالفا اور روڈز گراس ایسی مخصوص فصلیں ہیں جو کاٹنے، گانٹھیں بنانے اور برآمد کرنے کے لیے اگائی جاتی ہیں۔

ان کی کاشت میں استعمال ہونے والا آبپاشی کا پانی براہِ راست برآمدی حساب میں شامل ہونا چاہیے۔

لیکن روڈز گراس کے نام سے بھیجی جانے والی بعض کھیپوں کو خشک گھاس اور چارے کے بجائے وسیع تر ’’اناج کے بھوسے‘‘ کے زمرے میں ظاہر کیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں سرکاری اعداد و شمار میں فصلوں کی حقیقی باقیات اور خاص طور پر اگائے جانے والے چارے میں قابلِ اعتماد فرق نہیں کیا جاسکتا۔ اگر پالیسی ساز مخصوص طور پر کاشت کیے گئے روڈز گراس کو محض بچا ہوا بھوسا سمجھیں گے تو اس تجارت کی آبی لاگت کو نمایاں طور پر کم ظاہر کیا جائے گا۔

پاکستان اپنی چارہ برآمدات میں شامل ورچوئل واٹر کا حساب اس وقت تک نہیں لگا سکتا جب تک اسے معلوم نہ ہو کہ ہر گانٹھ کے اندر کیا ہے۔ ہمیں محض ایک عمومی زمرہ فروخت کرنے کے بجائے فصل کا باقاعدہ آڈٹ کرنا چاہیے۔

اس سے بھی بڑا مسئلہ پاکستان کے لیے مخصوص شائع شدہ آبی حساب کا نہ ہونا ہے۔ ملک میں ضلع کی سطح پر ایسی معلومات دستیاب نہیں کہ پاکستانی حالات میں برآمدی معیار کا روڈز گراس یا الفالفا کتنی مقدار میں پانی استعمال کرتا ہے۔ پاکستان اندھیرے میں فیصلے کررہا ہے۔

ایک سنجیدہ آبی حساب میں نہری پانی اور زیرِ زمین پانی، قابلِ تجدید ذخائر اور تیزی سے نکالے جانے والے زیرِ زمین پانی، نیز کھیت تک پہنچنے والے پانی اور فصل کے حقیقی استعمال میں فرق کیا جانا چاہیے۔

مقام بھی اہم ہے۔ ایک ہی فصل ایک ضلع میں بے ضرر، جبکہ دوسرے ضلع میں نقصان دہ ہوسکتی ہے۔ قومی اوسط ان حقائق کو چھپا دیتی ہے۔

شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویلوں کے پھیلاؤ کے ساتھ یہ حساب مزید ضروری ہوگیا ہے۔ جب پانی نکالنے کی لاگت تقریباً ختم ہوجائے اور زیرِ زمین پانی کی پیمائش نہ کی جائے تو کسان کے پاس ہر اس موقع پر آبپاشی کرنے کی بھرپور ترغیب ہوتی ہے جس سے ایک اور قابلِ فروخت کٹائی حاصل ہوسکے۔ توانائی کے بل میں کمی زیرِ زمین آبی ذخائر کے تیزی سے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے۔

کسان ریاست کی جانب سے پیدا کردہ ترغیبات کے مطابق منطقی طور پر فیصلے کررہے ہیں۔ اگر خلیجی خریدار قابلِ اعتماد منڈی فراہم کرے اور پانی کی قلت کی قیمت تقریباً صفر ہو تو برآمد کے لیے چارہ اگانا تجارتی لحاظ سے فائدہ مند دکھائی دے سکتا ہے۔

تاہم قومی حساب مختلف تصویر پیش کرسکتا ہے۔ پاکستان کو معلوم ہی نہیں کہ برآمدی چارے میں کتنا نہری پانی، قابلِ تجدید زیرِ زمین پانی یا تیزی سے کم ہوتے آبی ذخائر استعمال ہورہے ہیں۔ ملک لاگت جانے بغیر سودا کررہا ہے۔

دیگر اخراجات بھی حساب میں شامل نہیں۔ برآمد کیا جانے والا خشک چارہ غذائی اجزا بھی اپنے ساتھ لے جاتا ہے، جن کی کمی پوری کرنا ضروری ہوسکتی ہے۔ ملک میں سبز چارے کی دستیابی پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے، اس لیے بہترین چارہ برآمد کرنے کی ایک قیمت یہ بھی ہے کہ پاکستانی مویشیوں کے لیے کم معیار کی خوراک باقی رہ جائے۔

یہ منڈی ابھی محدود ہے۔ زیادہ تر برآمدات چند خلیجی ممالک، بالخصوص متحدہ عرب امارات، کو کی جاتی ہیں۔ صنعت سے وابستہ نمائندوں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کو فروخت ابھی کم ہے، جبکہ چین نے تاحال اس مصنوعات کی منظوری نہیں دی۔ ایک ارب ڈالر کا ہدف ایسی منڈیوں پر منحصر ہے جو فی الحال بڑی مقدار میں خریداری نہیں کر رہیں۔

اصولی طور پر ورچوئل واٹر کی تجارت میں کوئی قباحت نہیں۔ پانی کی قلت کا شکار ممالک پانی زیادہ استعمال کرنے والی اشیا درآمد کرکے اپنے آبی وسائل محفوظ بناسکتے ہیں۔ لیکن یہ منطق دونوں سمتوں میں ہونی چاہیے۔

پاکستان کو پانی زیادہ استعمال کرنے والی فصلیں صرف اسی وقت برآمد کرنی چاہییں جب ان سے حاصل ہونے والی آمدنی اور وسیع تر فوائد استعمال ہونے والے پانی کا واضح جواز فراہم کریں۔ جب تک پانی کی قیمت رسید کا حصہ نہیں بنتی، یہ فیصلہ ممکن نہیں۔

حل چارے کی برآمد پر پابندی نہیں، بلکہ اس تجارت کو ایک سنجیدہ آبی پالیسی کے دائرے میں لانا ہے۔

کسٹمز اور محکمہ شماریات کو مصنوعات کی سطح پر واضح شناخت یقینی بنانا ہوگی، مثلاً روڈز گراس، الفالفا، گندم کا بھوسا، چاول کا بھوسا اور دیگر اقسام۔ برآمدی گوشواروں کی فائیٹو سینیٹری سرٹیفکیٹس سے جانچ پڑتال ہونی چاہیے، تاکہ مخصوص طور پر کاشت کیا گیا چارہ کسی عمومی بھوسے کے زمرے میں چھپ نہ سکے۔

بڑی کھیپوں کا سراغ کم از کم ان کے ضلعِ پیداوار تک لگایا جا سکے۔ جہاں برآمدی چارہ زیرِ زمین پانی سے اگایا جائے، وہاں بڑے کاشتکاروں کے لیے لائسنس اور پانی کی مقداری پیمائش بھی لازمی ہونی چاہیے۔ اس کے بعد ضلعی سطح کے آبی حسابات میں یہ دکھایا جائے کہ ہر فصل کتنا پانی استعمال کرتی ہے اور اس سے کتنی آمدنی حاصل ہوتی ہے۔

برآمد کے لیے آبپاشی والے چارے کی پیداوار بڑھانے کے مقصد سے شروع کیے جانے والے ہر سرکاری پروگرام یا ترغیبی منصوبے کے ساتھ ورچوئل واٹر کا سادہ اور واضح جائزہ بھی شامل ہونا چاہیے : کتنا میٹھا پانی استعمال ہورہا ہے، اس میں سے کتنا دباؤ کا شکار ذرائع سے حاصل کیا جارہا ہے اور پانی کی ہر اکائی سے کتنی آمدنی حاصل ہورہی ہے۔

اب برآمدی کامیابی کو صرف ٹن اور ڈالر میں نہیں ناپا جاسکتا۔ اسے اس قدر سے بھی جانچنا ہوگا جو محدود آبی وسائل کی ہر اکائی سے حاصل ہوتی ہے۔

خلیجی ریاستیں یہ نتیجہ پہلے ہی اخذ کرچکی ہیں۔ انہوں نے اپنے آبی وسائل محفوظ کیے اور فصل درآمد کرنے کا فیصلہ کیا۔ اب پاکستان یہ چارہ اگانے کی پیشکش کررہا ہے، مگر اس سے پہلے یہ نہیں ناپ رہا کہ اس میں کتنا پانی استعمال ہوگا۔ خلیج پاکستانی گھاس اس لیے نہیں خرید رہی کہ اسے پانی کی اہمیت کا اندازہ نہیں، بلکہ اس لیے خرید رہی ہے کہ اس نے حساب لگایا اور پانی کی طلب درآمد کرنے کا فیصلہ کیا۔

جب تک پاکستان یہ نہیں جانتا کہ اس پانی سے کتنی آمدنی حاصل ہورہی ہے، ایک ارب ڈالر کا ہدف اس کے پانی کی بغیر قیمت منتقلی ثابت ہوسکتا ہے، جو محض رسی میں لپٹی ہوئی ہے۔

کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026

Comments

200 حروف